اسلام آ باد: پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ ) کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کہاکہ تمباکونوشی فقط ہلاکتوں اوربیماریوں کی وجہ ہے ،تمباکونوشی سے پیداہونے والے امراض دل سمیت دیگرکاعلاج عام فرد کے بس کی بات نہیں ،تمباکونوشی سے پرہیز کرکے ان بیماریوں سے بچاجاسکتاہے،نوجوان نسل میں تمباکونوشی کابڑھتاہوارجحان خطرے کی گھنٹی بجارہاہے،ایف ای ڈی کانفاذکرکے تمباکونوشی کی نہ صرف روک تھام کی جاسکے گی ،بلکہ ہم نوجوان نسل کوبیماریوں سے بچاسکیں گے ،ریونیومیں اضافہ ہوگااور حکومت کامعاشی بوجھ بھی کم ہوگا۔ایک اہم اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے (پناہ ) کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن کاکہناتھاکہ دل کاعلاج بہت مہنگاہے ،اس بارے عوام کوآگہی دیتے ہوئے پناہ 36سال گزرنے کے باوجود اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ،دل سمیت کینسر ودیگرموذی امراض میں اضافہ خطرناک ہے۔12اگست 2020کوبی ایم سی میڈیسن پرشائع ہونے والے آرٹیکل میں بتایاگیاکہ دنیا بھر میں 300 ملین سے زائد افرادتمباکونوشی کرتے ہیں،127ممالک میں تمباکونوشی کااستعمال زیادہ رہا،تمباکونوشی کی سب سے زیادہ کھپت جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء میںپائی گئی،اس خطے میں کینسر کے خطرے کاامکان بھی سب سے زیادہ رہا،دنیا بھر میںتمباکونوشی سے پیداہونے والے غذائی نالی ،گردن اورمنہ کے کینسر سے90,791اموات ہوئیں ،258,006اموات دل کی بیماری میں مبتلاہونے سے ہوئیں۔5جنوری 2021میں ایک انگلش جریدے”دی نیوز” میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ڈبلیو ایچ اوکے مطابق زیادہ ٹیکس لگانے اور قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کم کیاجاسکتاہے، اگر تمام ممالک سگریٹ کے پیک پر کم از کم 50 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگائیں،توتمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد 49 ملین تک کم ہوجائے گی۔ پاکستان میں 22 ملین تمباکوکااستعمال کرتے ہیں،جن میں 60 فیصد نوعمرشامل ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق تمباکوکے استعمال سے سالانہ کی بنیاد پر زبانی کینسر کے 15 لاکھ واقعات کی اطلاع ہے۔ عالمی اداروں کی نشاندہی کوخاطرخواہ میں رکھتے ہوئے ایف ای ڈی میں اضافہ کیاجائے ،اس سے نہ صرف ہلاکتوں اوربیماریوں سے نجات ملے گی ،بلکہ ریونیومیں اضافہ ہوگا،جو ملک کے ترقیاتی منصوبہ جات پرصرف ہونے میں مددملے گی۔



