بجلی گیس کنکشن بحالی بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ پیچیدہ ،سی ڈی اے نے گمراہ کرنے کی کوشش کی


کرپشن سی ڈی اے کے وجود میں سرائیت کر چکی، علاج کے لئے آپریشن کی بجائے پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے، جاوید انتظار

اسلام آباد(وقائع نگار )بجلی گیس کنکشن بحال کرنے بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ پیچیدہ ہے۔ سی ڈی اے نے اپنی سفارشات سے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ جن علاقوں میں رجسٹری انتقال کے ذریعے زمین خریدی گئی۔ سی ڈی اے نے ان علاقوں کی فرضی نام پر بنی ہوئی سوسائٹیز کو غیر قانونی قرار دے کر متاثرین کی حق تلفی کی۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لے رہے ہیں۔ جس کے بعد عوام کی عدالت اور قانون کی عدالت میں بنیادی آئینی حق کے لیے جدوجہد کریں گے۔ یہ بات چیئر مین بجلی گیس کنکشنز بحالی تحریک جاوید انتظار نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہی انہوں نے مذید کہا کہ سی ڈی اے کے وجود میں کرپشن سرایت کر چکی ہے۔ جس کے علاج کے لیے سی ڈی اے کو آپریشن کی جگہ پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے۔ سوسائٹیز کو نا جائز غیر قانونی قرار دینے پر وزیراعظم کے مشیر برائے سی ڈی اے اور ادارتی حکام سے وضاحت اور جواب طلب کریں گے۔ جس کے لیے مذاکرات اور احتجاجی لائحہ عمل پر حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ تاہم بجلی گیس کنکشنز بحالی تحریک کے صدر ملک زاہد محمود کو سی ڈی اے اوردیگر حکومتی حکام سمیت سیاسی جماعتوں کے مقامی قائدین سے مذاکرات لے لیے کمیٹیاں بنانے کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے۔