کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث این سی او سی کی ہدایات پر اسلام آباد انتظامیہ نے اہم فیصلے کیے ہیں اور نئی پابندیوں کے اطلاق کی ہدایات جاری کی ہیں۔
اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے بدھ کی رات جاری ہونے والے نوٹی فیکیشن کے مطابق عوامی و دیگر مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
وائرس پھیلنے سے متاثر ہونے والے مقامات اور علاقوں میں سمارٹ لاک ڈان اور مائیکرو لاک ڈان نافذ کیا جا سکے گا۔
اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق متعلقہ اداروں کی منظوری سے 50 فی صد سٹاف کے کام گھر سے کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
تمام تجارتی سرگرمیوں پر رات 10 بجے کے بعد پابندی عائد ہو گی، تاہم ہسپتال، میڈیکل سٹورز اور اشیائے خورونوش کی دکانوں پر رات 10 بجے بند کرنے کی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
اسلام آباد انتظامیہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا میں اضافے کے بعد تمام پارکس شام 6 بجے بند کر دیے جائیں گے۔
شادی ہالز اور ہوٹلوں کے اندر بیٹھ کر کھانے پر 15 مارچ سے دی جانے والی اجازت کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ سنیما ہالز اور مزارات بند کرنے بھی پابندی برقرار رہے گی۔
دوسری طرف کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد، پشاور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں تعلیمی ادارے پیر 15 مارچ سے 28 مارچ تک بند رہیں گے
بدھ کو اسلام آباد میں این سی او سی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اس وقت صوبہ سندھ اور بلوچستان میں صورتحال بہتر ہے جس کی وجہ سے وہاں تعلیمی اداروں میں 50 فیصد حاضری کی پالیسی جاری رہے گی۔
انھوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صوبوں کے بڑے شہروں میں موسم بہار کی چھٹیاں جلدی کی جا رہی ہیں۔ پنجاب کے شہروں فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات، ملتان، راولپنڈی اور سیالکوٹ میں 15 مارچ سے 28 مارچ تک موسم بہار کی چھٹیاں ہوں گی۔شفقت محمود نے بتایا کہ ان چھٹیوں کا اطلاق پشاور پر بھی ہو گا جبکہ اسی طرح کے اقدامات پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں بھی متوقع ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تجارتی سرگرمیاں رات 10 بجے ختم کرنے اور تفریحی پارک شام چھ بجے بند کرنے کی حکمت عملی بھی جاری رہے گی، تاہم صوبے اس بارے میں اپنے حالات دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
صوبائی حکومتیں اپنے مقامی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس سلسلے میں مزید اقدامات کر سکتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر سکول اور شہر بند کر سکتی ہیں۔
پاکستان میں پانچ کروڑ بچے اور نوجوان سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں اور یہ فیصلے ان کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ شادیوں، ریستورانوں، سینیماوں، اور مزاروں کو 15 مارچ سے کھولنے کے اعلان پر نظر ثانی کی گئی ہے اور اب یہ سیکٹرز کھولنے کا فیصلہ 12 اپریل کو حالات دیکھ کر کیا جائے گا۔ تاہم ریستورانوں کے باہر بیٹھ کر کھانے کی حسب سابق اجازت ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ ملک کے 60 سال سے زائد شہریوں کی ویکسی نیشن کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔



