متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ورک فورس پر عائد پابندیوں میں نرمی


غیر ہنر مند افراد پر بطور سکیورٹی گارڈ ز روزگار کے دروازے کھل گئے ، شالان جی ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد نواز کی گفتگو

راولپنڈی ( نیوزرپورٹر ) سمندر پار پاکستانیو ںکے روزگار و حقوق کی محافظ تنظیم نائٹ ہیومن مینجمنٹ شالان جی ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد نواز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس اور بعض دیگر وجوہات کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ورک فورس پر عائد پابندیوں کے بعد ابو ظہبی کے سیمی گورنمنٹ اداروں کی جانب سے غیر ہنر مند افراد کی بطور سکیورٹی گارڈ زفراہمی کے آرڈرزکے ساتھ پاکستانیوں کے لئے بہتر اور معقول روزگار کے دروازے کھلنا انتہائی خوش آئند امر ہے جس پر ہماری حکومت اور متعلقہ ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں . انہوں نے کے ایچ ایم شالان آفس میں یو اے ای جاب اوپننگ کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے ورک فورس پر کفیل کی پابندیوں کے خاتمے کو بھی سراہا اور کہا کہ ان اقدامات سے ورکروں کے مفادات اور حقوق کا بہتر تحفظ ہوگا جس پر سعودی حکومت مبارکباد کی مستحق ہے . خالد نواز نے کہا کہ یو اے ای میں نیم سرکاری اداروں نے حکومتی اجازت کے بعد پاکستان سے ورکروں کو منگوانے کے آرڈرز دینا شروع کر دئیے ہیں جو انتہائی حوصلہ افزاء ہیں ۔روزگار کے مواقع کی بحالی کے یہ اقدامات پاکستان اور یو اے ای کیلئے متعدد فوائد کے حامل ہیں . بیرون ممالک میں سعودی عرب کے بعد یو اے ای میں سب سے زیادہ پاکستانی کام کرتے ہیں جو نہ صرف اپنے خاندانوں کا معاش چلاتے ہیں بلکہ ملکی خزانے میں جمع ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کا ایک بڑا حصہ بھی یو اے ای سے ان ہی پاکستانیوں کی بدولت ملتا ہے . انہوں نے کہا کہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اووسیز ملازمتیں بہت اہم ہیں اور ہم یو اے ای کے متعلقہ اداروں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنی حکومت کی رضا مندی حاصل کرکے پاکستانی ورک فورس منگوانے کے آرڈرز دئیے ہیں . ہماری ورک فورس دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ محنت ، ایمانداری اور تندہی کے ساتھ کام کرتی ہے . انہوں نے کہا کہ کے ایچ ایم کو ورکروں اور روزگار فراہم کرنے والے اداروں کے مفادات و حقوق کی بہترین نگہداشت کرنے پر انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن نے حسن کارکردگی کا ایوارڈ دیا ہے جو پاکستان کیلئے ایک اعزاز ہے . ہم ورکروں کو بہترین فنی مہارتوں کے علاوہ بہترین رویوں سے آراستہ کرکے بھجواتے ہیں تاکہ ان کے روزگار کو تحفظ مل سکے .