
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)نجی تعلیمی اداروں نے این سی او سی کی جانب سے تعلیمی اداروں کی مزید بندش کا فیصلہ یکسر مسترد کرتے ہوئے 8اپریل کو ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان برقراررکھتے ہوئے کہاہے کہ کورونا ایس او پیز کے تحت تمام تعلیمی ادارے گیارہ اپریل سے کھولنے کی اجازت دی جائے بصورت دیگر مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے کورونا وبا کے پیش نظر تعلیمی اداروں کی مزید بندش کے اعلان پر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس مرکزی آفس میں ملک ابرار حسین کی زیر صدارت ہوا جس میں ایسوسی ایشن کے مرکزی عہدیداران نے شرکت کی۔اس دوران کورونا وبا سے متاثرہ تعلیمی اداروں کی صورتحال اور 8اپریل کو ڈی چوک کے سامنے ملک گیر لانگ مارچ کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ملک ابرار حسین کا کہنا تھاکہ حکومت نے 19اپریل کو ہائی سکولوں کوتو کھولنے لیکن مڈل اور پرائمری تعلیمی اداروں کو عید تک بند رکھنے کا غیرمنطقی فیصلہ کیاہے جسے مکمل طورپر مسترد کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں گیارہ اپریل کو اپنے اعلان کے مطابق تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت دی جائے کیونکہ مسلسل بندش سے تعلیمی نقصان کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کو شدید مالی مسائل کابھی سامناہے۔ناقدین گواہ ہیں کہ ملک میں سب سے زیادہ ایس او پیز پر عمل درآمد نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے ہی کیا جارہاہے اور کوئی بھی سکول کورونا پھیلا کا باعث نہیں بناہے۔ ملک ابرار حسین نے کہاکہ ایک سال سے سکول بند ہیں جس سے ہزاروں اساتذہ بے روزگار جبکہ اکثر تعلیمی ادارے مکمل بند ہوگئے ہیں، کرائے کی عمارتوں والے سکولوں اور بلڈنگ مالکان کے مابین تھانہ کچہری عام ہوچکاہے لوگوں کو مسائل ہیں حکومت نے پیکج کا اعلان کیا لیکن چھ ماہ گزر گئے کسی ایک شق پر بھی عمل نہیں ہواہے۔ انہوں نے اعلان کیاکہ کل بروز جمعرات8اپریل 2021 کوآل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کا لانگ مارچ اور دھرنا ہوگا جس میں ملک بھر سے تعلیمی اداروں کے مالکان،اساتذہ کرام،طلبا وطالبات،والدین، تاجر حضرات،ٹرانسپورٹرز، وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہونگے۔یہ دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔


