اسلام آباد ہائیکورٹ کی برہمی نیب کی کاروائی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی قراردی ،ادارے نے اپنا قیمتی وقت ضائع کیا اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی

اسلام آباد(وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اوورسیز پاکستانی کیخلاف نیب راولپنڈی کی کاروائی کو غیر قانونی اور بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا ذمہ دار قرار دے دیا ،نیب نے 4 سال بعد اوورسیز پاکستانی کیخلاف انکوائری بند کردی۔ تفصیل کے مطابق پاکستان میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے اوورسیز پاکستانی کیخلاف 4 سال بعد نیب انکوائری بند کردی گئی ہے، اوورسیز پاکستانی راجہ ظفر عباسی نے 74 کروڑ کی سرمایہ کاری کی جس پر نیب نے انکوائری شروع کردی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اوورسیز پاکستانی کیخلاف نیب پنڈی کی کاروائی غیر قانونی قرار دے دی اور نیب کی کاروائی کو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا ذمہ دار قرار دے دیا۔عدالت کا کہنا تھا کہ بغیر ثبوت اوورسیز پاکستانی سرمایہ کار کیخلاف نیب کاروائی بدنیتی ہے، نیب حکام نے اوورسیز پاکستانی کو تین سال الجھا کر آخر میں انکوائری بند کردی، نیب حکام نے اوورسیز پاکستانی کیخلاف کاروائی کرکے ادارے کا قیمتی وقت ضائع کیا۔



