
اسلام آباد:پارلیمانی سکریٹری برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات کنول شوذب نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سی پیک کے تحت نو میں سے چار اکنامک زونز پر کام جاری ہے۔قومی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان زونز میں شروع کی گئی خصوصی معاشی سرگرمیاں ملک میں معیشت کی مجموعی صورتحال کو مستحکم کرنے کے علاوہ براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع میں لاکھوں کا اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے چینی ہم منصب صنعتی ترقی میں ہماری بہت مدد کر رہے ہیں لیکن مقامی لوگ بھی سی پیک کے تحت ملک کی ترقی کے لئے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ پارلیمانی سیکریٹری نے سی پیک کے تحت پانچ شعبوں کی نشاندہی کی جس سے لوگوں کی زندگی پر براہ راست یا بالواسطہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے جن میں رابطے ، توانائی کے منصوبے ، وزیر اعظم کے صاف ستھرا اور سبز منصوبے جیسے سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تیسرا ملک سی پیک میں شامل ہوجا تا ہے تو ان خیرمقدم کیا جائے گا اور کہا کہ اگر سعودی عرب ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو یہ پورے خطے اور اس سے آگے کے علاقوں کے گیم چینجر ثابت ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ قطر کو بھی مدعو کیا گیا ہے جو لمبا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مختلف ممالک کو مائع قدرتی گیس کی فراہمی کے لئے سی پیک کے مختصر راستے کا انتخاب کرسکتا ہے۔



