سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی نظر ثانی درخواست منظور کر لی ایف بی آ ر کوفائز عیسی اور ان کے اہل خانہ کی لندن جائیدادوں کی تحقیقات سے روک دیا


تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر رپورٹ کی بنیاد پرسپریم جوڈیشل کونسل بھی کارروائی نہیں کرسکتی

اسلام آباد(وقائع نگار) سپریم کورٹ آف پاکستان نے معزز ساتھی جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی نظر ثانی درخواست منظور کر تے ہوئے ایف بی آ ر کو فائز عیسی اور ان کے اہل خانہ کی لندن جائیدادوں کی تحقیقات سے روک دیا ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی نظر ثانی کی درخواست 6، 4 کے اکثریتی فیصلے سے منظور کرتے ہوئے کیس کا مختصر فیصلہ سنایا۔بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی امین نے فیصلے سے اختلاف کیا۔
چھ جج صاحبان جنہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اپیل کے حق میں فیصلہ سنایا ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس یحی آفریدی شامل ہیں۔جسٹس یحی آفریدی نے نظر ثانی اپیل کے حق میں فیصلہ سنانے کے ساتھ ایک اختلافی نوٹ بھی لکھا۔
قبل ازیں کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ہم کیس کا فیصلہ یا تو آج ہی سنا دیں گے یا پھر کل سنا دیں گے۔
یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ کے 19 جون کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کی تھی، نظر ثانی درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی لندن جائیدادوں کی تحقیقات کا معاملہ ایف بی آر سے واپس لیا جائے۔
بلوچستان بار، سندھ بار، سپریم کورٹ بار، پنجاب ہائیکورٹ بار کے علاوہ پی ایف یو جے اور سینئر قانون دان عابد حسن منٹو نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔
جسٹس فائز عیسی نظرثانی کی تمام درخواستیں چھ چار کے تناسب سے منظور ہوئیں جبکہ جسٹس قاضی فائزعیسی کی انفرادی درخواست 5 ججز نے منظور اور 5 نے خارج کی۔
تحریری حکم نامے میں معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم کالعدم قرار دیا گیا جبکہ ایف بی آر کی تحقیقات بھی کالعدم قرار دی گئیں۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر رپورٹ کی بنیاد پرسپریم جوڈیشل کونسل بھی کارروائی نہیں کرسکتی۔
اکثریتی فیصلے کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں تمام نظرثانی اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، سپریم کورٹ کا 19جون 2020 کا مختصر فیصلہ خارج کیا جاتا ہے اور سپریم کورٹ کے 19 جون 2020 کے فیصلے کے بعد کی تمام تحقیقات کالعدم قراردی جاتی ہیں۔
اکثریتی فیصلے میں ایف بی آر کی تمام رپورٹس، مواد،فیصلہ اوراقدامات قانون کے دائرے سے خارج قرار دیا گیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ایف بی آر کی رپورٹ، مواد، فیصلے یا اقدامات پرسپریم جوڈیشل کونسل یاکوئی ادارہ کارروائی نہیں کرسکتا۔
جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔
تحریری حکم میں جسٹس یحیی آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی انفرادی درخواست خارج کی اور جسٹس یحیی آفریدی نے دیگر تمام نظرثانی درخواستوں کی حمایت کرتے ہوئے اضافی نوٹ لکھا۔
اضافی نوٹ میں جسٹس یحیی آفریدی کا کہنا ہے کہ 19جون اور23 اکتوبر2020 کے سپریم کورٹ کے فیصلوں پرتحقیقات غیرقانونی ہیں، ایف بی آر کے تمام اقدامات، تحقیقات اور رپورٹس غیرقانونی قرار دی جاتی ہیں۔