جسٹس فائز کیخلاف انکوائری کا شہزاد اکبر نے کہا، وزیر اعظم نے کہا ہمت کریں آپ کرسکتے ہیں، بشیر میمن کے انکشافات


مختلف اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لئے دبائو ڈالا جاتا رہا

سعودی شہزادہ محمد بن سلمان تو جو کہتا ہے وہ ہوجاتا ہے، آپ اعتراضات کرتے ہیں،وزیراعظم کا بشیر میمن سے شکوہ

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف انکوائری کیلئے شہزاد اکبر نے انہیں کہا اور فروغ نسیم نے ان کی حمایت کی۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے بشیر میمن کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم عمران خان نے مجھے کہاکہ ہمت کریں، آپ کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ایف آئی اے کے ضابطہ کار میں ایسے نہیں کیا جاسکتا، یہ کام سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔بشیر میمن نے کہا کہ پولیس قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے، غیر قانونی کام کیسے کرسکتا ہے؟ وہ بھی ایک جج کے خلاف؟
سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ مجھ پر مریم نواز کو گرفتار کرنے کیلئے بھی دبا ڈالا گیا اور کہا گیا کہ مریم نے پریس کانفرنس کر کے ایک جج کو دہشت زدہ کیا اور جب جج دہشت زدہ ہوگئے تو دہشت گردی کا پرچہ تو بنتا ہے جس پر میں نے جواب دیا کہ یہ دہشت گردی کا کیس نہیں ہے۔
بشیر میمن نے مزید انکشاف کیا کہ اسی طرح خاتونِ اول کی تصویر جاری کرنے پر دہشت گردی کا کیس بنوانے کیلئے بھی دبا ڈالا گیا۔

فی الحال پکڑ لو بعد میں دیکھیں گے، اپوزیشن رہنماں کی گرفتاری سے متعلق انکشافات
بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ مجھ پر نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، شاہد خاقان، رانا ثنا، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، خورشید شاہ، مصطفی نوازکھوکھر، اسفند یار ولی اور امیر مقام کو گرفتار کرنے کیلئے دبا ڈالا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب اعتراض اٹھایا کہ گرفتاری کیلئے ثبوت ہونے چاہئیں تو کہا گیا کہ فی الحال پکڑ لو بعد میں دیکھیں گے، ریمانڈ لیں گے، پھر عدالت میں اس کو ثابت کریں گے۔

بشیر میمن نے کہا کہ خود وزیر اعظم نے انھیں کہا کہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان تو جو کہتا ہے وہ ہوجاتا ہے، آپ اعتراضات کرتے ہیں جس پر انھیں جواب دیا تھا کہ سعودی عرب میں بادشاہت ہے، پاکستان میں جمہوریت ہے ، صرف گرفتار کرنا نہیں جرم بھی ثابت کرنا ہوتا ہے۔