ڈالر ساڑھے تین روپے سستا،انٹر بنک میں 274 اور اوپن مارکیٹ میں 280 کا ہوگا
مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، امریکی وزیر خارجہ، پاکستان کو پروگرام پر پوری لگن سے عمل کرنا ہوگا،کرسٹینا

اسلا م آباد:پاکستان کو تین ارب ڈالر قرض کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط موصول ہو گئی ہے۔
ڈالر آنے سے روپیہ تگڑا ہوگیا ہے اور انٹر بنک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر روپے کے مقابلے میں تین سے چار روپے کم ہوگئی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ عالمی آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط اسٹیٹ بینک میں منتقل کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو 3 ارب ڈالر ملنے ہیں، آئی ایم ایف کا پروگرام 9 ماہ کا ہے،3 ارب ڈالر پاکستان کو ملیں گے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ ہماریکل زرمبادلہ کے ذخائر 13 اور 14 ارب ڈالر کے درمیان ہوں گے، رواں ہفتے اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 4 ارب 20 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک اپنی رپورٹ جاری کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ قرض پروگرام کے بقیہ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر 2 جائزہ رپورٹس کے بعد پاکستان کو مل جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں وزیراعظم شہبازشریف کا کردار اہم رہا ہے، ان کے علاوہ حکومتی معاشی ٹیم نے بھی مشکل اور کٹھن سفر میں بھرپور ساتھ دیا۔
آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق 1.8 ارب ڈالر نومبر اور فروری میں دوبارہ جائزوں کے بعد شیڈول کیے جائیں گے، پاکستان کو طے شدہ پالیسیوں پر سختی سے کاربند رہنا ہوگا، پاکستان میں معاشی اصلاحاتی پروگرام معیشت کو فوری سہارا دینے کے لیے ہے، پروگرام سے پاکستان کی معیشت کو اندرونی اور بیرونی عدم توازن کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
ایک بیان میں ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس پروگرام پر پوری لگن سے عمل کرنا ہوگا، ماضی میں قرض پروگرام کی پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، قرض پروگرام کی پالیسیوں پر عمل نہ ہونے کے باعث پاکستان کے اندرونی و بیرونی مالی ذخائرمیں کمی آئی، پالیسیوں پر تسلسل سے عمل درآمد کے ذریعے عدم توازن دور ہوگا۔انہوں نے کہا نیا اسٹینڈ بائے ارینجمنٹ پروگرام پاکستان کے لیے میکرو اکنامک استحکام لانیکا موقع ہے۔
دوسری طرف ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خواہش ہے پائیدار معاشی بحالی کے لیے پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ کام جاری رکھے۔
دوسری جانب پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت کئی اقتصادی چلینجز کا سامنا ہے، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کا قرضہ منظور کیا ہے، پاکستان کو اس حوالے سے مزید کام کرنا ہوگا۔ڈونلڈ بلوم نے کہا کہ امریکا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کے حوالے سے کافی پر امید ہیں۔



