ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی ایشیائی ترقیاتی بینک کے سالانہ سیمینار میں شرکت


منیلا: ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے سالانہ اجلاس میں خطاب کیلئے مدعو کیا گیا۔ اعلی سطحی ورچوئل اجلاس کا مقصد کویڈ19کے بعد خواتین کی سماجی و معاشی بحالی سے متعلق بحث ومباحثے پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔ پینل میں ڈاکٹر ثانیہ کے ہمراہ ماہر معاشیات، اقتصادیات اور تحقیقی محکمہ ایشیائی ترقیاتی بینکJoseph Sveglich،ہیڈ وائی فائی سیکرٹریٹ عالمی بینک گروپWendy Teleki، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سینڈرڈ چارٹرڈ بینکDeniz Harut اور سینئر اسپیشلسٹ صنفی مساوات اور عدم تقریق بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)Joni Simpson موجود تھے۔ سیشن کی میزبانی بی بی سی کی SharanjitLeyl نے کی۔
پینل نے کویڈ کے باعث خواتین کی ملازمتوں میں غیر متناسب حصہ کے خاتمے، لیبر مارکیٹ تک رسائی میں صنفی خلاء میں اضافے اورخواتین کی غربت میں اضافے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بین الاقوامی ماہرین اور پالیسی سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایشیا بحر الکاہل کی معیشت کو معمول پر لانے کیلئے خواتین کے کام میں عدم مساوات کو دور کرنا چاہیئے۔
شرکاء نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کویڈ19کے بعد صنفی مساوات کو کس حد تک واضح کیا جائے۔ ڈاکٹر ثانیہ نے پروگرام میں صف سے متعلق اہداف کی ضرورت پر زرو دیتے ہوئے احساس پروگرام کی مثال پر روشنی ڈالی جہاںخواتین کیلئے اضافی 50% احساس فوائد پالیسی کے ذریعے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کا ہدف موجود ہے۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ دنیا آبادی کی 50%خواتین کو نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہے جو اپنی قابلیت، پیداواری اور قائدانہ صلاحیتوں سے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں۔ سماجی نتائج کے اعتبار سے ہم جانتے ہیں کہ خواتین کی تعلیم اور بااختیاری کاایک گھرانے کی بہتر صحت اور معاشرتی نتائج سے براہ راست تعلق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کویڈ19کے بعد ایک بڑے پیمانے پر اصلاح اور تعمیرنو کا کام ضروری ہے جس میں خواتین کا حصہ بہت اہم ہے۔
بعد ازاں، ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کارروائی کیلئے ڈیٹا کے احتساب کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام معلوماتی ذرائع اور صنف کے اعتبار سے اعدادو شمارکی تفریق کو صنف کے ذریعہ اعانت نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔جامع اقدامات میںصنف سے متعلق متغیرات کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے جو ترقی کیلئے لیگ ٹیبل کی بنیاد ہیں۔ ہمیں مستقبل کے نظام کی افرادی قوت میں خواتین کے کردار کو از سر نو تصور کرنے کی ضرورت ہے جو ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن اور بڑھتی ہوئی جدتوں کے ذریعہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ موبائل آلات سے منسلک اربوں افراد کی مدد سے پروسیسنگ پاور، علم تک رسائی اور ڈیٹا پورٹیبلٹی کا امتزاج سیکٹر کو تبدیل کرسکتا ہے۔
احساس ملک میں انسداد غربت کا ایک اہم پروگرام ہے جس کا مقصد اس حقیقت کو تبدیل کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام خواتین خواہ وہ کسی پس منظرسے تعلق رکھتی ہوں انہیں کامیابی کا موقع ملانا چاہیئے۔ احساس کے تحت اس وقت 250سے زیادہ پالیسیاں موجود ہیں جن میں خواتین پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ احساس کا مقصد پاکستان کی 7ملین غریب ترین خواتین کو غربت سے باہر نکالنا اور صلاحیت کے حصول میں انکی مدد کرنا ہے۔ سال 2020میں کویڈ19وبائی مرض کے دوران احساس نے 54%مستحق خواتین کو ہنگامی امدادی رقم فراہم کی۔ نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کے تحت احساس نے بلاسود قرضہ پروگرام سے 45%مستحق خواتین کو چھوٹے کاروبار کرنے کا مواقع فراہم کیا۔ احساس انڈرگریجویٹ اسکالرشپ پروگرام کے تحت 4سال کیلئے 200000ضرورت اور میرٹ پرمبنی اسکالر شپ فراہم کی جاتی ہیںجس میں 50%اسکالرشپس
لڑکیوں کو حاصل ہیں۔ احساس پرائمری تعلیم اور صحت و غذائی بخش پروگراموں میں مائوں کو مشروط مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے اور ان میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کیلئے زیادہ وظیفہ کی رقم شامل ہے۔
سالانہ اجلاس میں پالیسی سازوں، نجی شعبہ کے نمائندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کو یکجا کیا گیا تاکہ وہ خواتین کی کاروبار و مالی شمولیت اور بہتر ملازمتوں کی فراہمی کیلئے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کرسکیں۔ پینل نے احساس کی خواتین سے متعلق 50%اضافی فوائد کی پالیسی کی تعریف کی جو مکمل طورپر خواتین کی بحالی پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔