ایوان بالا نے سی پیک اتھارٹی بل کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی

اسلام آباد:ایوان بالا حکومت نے اپوزیشن کے واک آئوٹ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سی پیک اتھارٹی بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا ۔ بل کی منظوری کے ساتھ ہی سینیٹ کا اجلاس آج جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ۔ سینیٹ کے اجلاس میں جب وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے بل پیش کرنا چاہا تو اپوزیشن نے انہیں روک دیا۔اپوزیشن کی مخالفت پر بل وفاقی وزیر شبلی فراز نے پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔اس موقع پر سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ سی پیک ایک بہت اہم منصوبہ ہے اور ملک کا مستقبل اس سے جڑا ہوا ہے۔ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سی پیک اتھارٹی کا جلد قیام ہو تاکہ یہ بجٹ میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سی پیک اتھارٹی بل کو ایوان منظور کرے۔ اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ چین کے ساتھ بہت اہم تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی بل کو آخر میں اضافی ایجنڈا کے طور پر حکومت لے کرآئی ہے۔سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے اس پر کہا کہ پیش کردہ بل کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔سابق وزیراعظم سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے اس پر کہا کہ ہمیں اس بل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما ء کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے موقف اختیار کیا کہ بل کو منظور کرنے یا قائمہ کمیٹی کو بھیجنے پر ایوان کی رائے لی جائے۔پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر شبلی فراز نے اس موقع پر کہا کہ سینیٹ سی پیک اتھارٹی بل کی تحریک فوری طور پر منظور کرے۔ سینیٹ نے سی پیک اتھارٹی بل منظور کرنے کی تحریک منظور کی تو اپوزیشن نے احتجاجا ایوان نے واک آئوٹ کردیا۔ ایوان سے تحریک کی اتفاق رائے سے منظوری کے بعدچیئرمین نے بل شق وار منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بل کی منظوری کے بعد مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں میں بل بھجوانے کی وجہ سے 8 بل ضائع ہو چکے ہیں،اس لئے ضروری ہے کہ قانون سازی کے عمل کو جلد سے جلد مکمل کیا جاناچاہیے۔ بل کی منظوری کے بعد سینیٹ کا اجلاس آج جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔