پاکستان ہوا کے ناقص معیار کا شکار ہے سترہ کروڑ لوگ متاثر ہ ہیں

مٹی اور دھول کے طوفان کی وجہ سے بھارت کے پچاس کروڑ ایران کے بیس لاکھ اور چین کے چار افراد متاثر ہیں رپورٹ

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ) اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 17 کروڑ 30 لاکھ افراد مٹی اور دھول کے طوفان کی وجہ سے درمیانی اور اعلی درجے کی ناقص فضائی معیار سے دوچار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایشیا اور پیسفک میں مٹی اور دھول کے طوفان کے خطرے کی تشخیص کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان اس خطے کا دوسرا ملک ہے جہاں آبادی ہوا کے ناقص معیار سے دوچار ہے۔بھارت میں 50 کروڑ سے زائد، ایران میں 6 کروڑ 20 لاکھ، چین میں 4 کروڑ افراد ہوا کے ناقص معیار سے متاثر ہیں۔تناسب کے لحاظ سے ترکمانستان، پاکستان، ازبکستان اور ایران کی پوری آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ مٹی اور دھول کے طوفانوں کی وجہ سے درمیانے اور اعلی درجے کے ہوا کے ناقص معیار سے دوچار ہے۔پاکستان میں شمسی توانائی پر مٹی اور دھول کے طوفانوں کے اثرات کا تخمینہ ہر سال 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے جبکہ بھارت اور چین میں بالترتیب 10 کروڑ 70 لاکھ اور 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے۔اگر ہوا بازی کے شعبے کی بات کی جائے تو جہاز کے انجنوں کو مٹی یا دھول کے ذرات سے بہت خطرہ ہوتا ہے۔جزیرہ نما عرب، پاکستان، بھارت اور چین کے ہوائی اڈوں پر آنے اور جانے والی پروازیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔زمینی سطح پر فضا میں مٹی اور دھول کی وجہ سے کم مرئیت کی وجہ سے پرواز میں تاخیر، موڑ اور منسوخی کا خطرہ وسطی ایشیا، ایران کے جنوبی حصوں، پاکستان، چین اور بھارت کے سرحدی علاقے اور شمالی حصوں کے ہوائی اڈوں پر سب سے زیادہ ہے۔