ساری زندگی ہنسانے والا آخر رلا گیا

برصغیر کے عظیم کامیڈین محمد عمر المعروف عمر شریف 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

Oct2+1 Umer Sharif died
اسلام آباد(محمدرضوان ملک ) ساری زندگی ہنسانے والا آخر رلا گیا ۔برصغیر کے عظیم کامیڈین محمد عمر المعروف عمر شریف 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کا انتقال جرمنی کے شہر نورم برگ کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ عمر شریف جن کا اصل نام محمد عمر تھا کچھ عرصے سے دل اور گردوں کے عارضے میں مبتلاء تھے ۔ ڈاکٹرز کی تجویز پر انہیں علاج کے لئے امریکہ لے جایا جارہا تھا کہ منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی اپنی اصل منزل کی جانب روانہ ہوگئے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ائر ایمبولینس پر امریکہ لے جاتے ہوئے جرمنی میں ان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں جرمنی کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈائیلاسز کے دوران ان کی طبیعت خراب زیادہ خراب ہوئی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی اہلیہ زریں غزل نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ۔عمر شریف کئی ہفتے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج رہے، ڈاکٹروں نے عمرر شریف کو علاج کیلئے امریکا کے اسپتال میں داخل کرانیکا کہا تھا، عمر شریف کو منگل 28 ستمبر کو ایئرایمبولنس میں روانہ کیا گیا تھا۔ایئر ایمبولنس کا پہلا اسٹاپ جرمنی تھا، جہاں لینڈنگ کے بعد طیارے میں سوار عمر شریف کو تھکاوٹ اور ہلکے بخار کا کہہ کر نیورمبرگ کے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا تھا، عمر شریف کا اسپتال میں ڈائیلاسز بھی ہوا تھا۔ڈائیلاسز کے دوران عمرشریف کی حالت بگڑ گئی تھی۔کامیڈی کنگ کا اصل نام محمد عمر تھا لیکن انہوں نے 1974 میں اسٹیج ڈراموں میں کام کا آغاز کرنے کے بعد ڈرامے میں استعمال ہونے والا نام عمر ظریف رکھا، بعد ازاں وہ عمر ظریف سے عمر شریف ہوگیا۔عمر شریف انیس اپریل 1955 ء کو کراچی کے علاقے لیاقت ٹائون میں پیدا ہوئے اور دو اکتوبر 2021 ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ عمر شریف نے اپنے کیریئر کا آغاز 1974میں 14سال کی عمر میں اسٹیج اداکاری سے کیا تھا اور 1980 میں پہلی مرتبہ آڈیو کیسٹ پر اپنے ڈرامے ریلیز کیے تھے۔
عمر شریف نے ٹی وی پر بھی بیشمار شوز کیے اور ایسے ہی ایک شو عمر شریف ورسز عمر شریف میں وہ 400 سے زیادہ بہروپوں میں نظر آئے جو ایک ریکارڈ ہے۔عمر شریف نے اداکاری اور میزبانی کے ساتھ لافٹر پروگرامز میں بطور جج بھی فرائض سرانجام دیے۔
ان شوز میں میں بھارت کا مقبول ترین پروگرام دی گریٹ انڈین لافٹر چیلنج سرفہرست ہے، جہاں انہوں نے نوجوت سنگھ سدھو کے ہمراہ جج کے فرائض سرانجام دیے۔
عمر شریف ٹی وی، اسٹیج اداکار، فلم ڈائریکٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں، انہوں نے اسٹیج و تھیٹر کی دنیا میں ناصرف ملک میں بلکہ سرحد پار بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔انہوں نے تقریبا 5 دہائیوں تک شوبز میں کام کیا ہے اور درجنوں، ڈراموں، اسٹیج تھیٹرز اور لائیو پروگرامز میں پرفارم کیا۔
عمر شریف پاکستان کی کچھ فلموں میں بھی مرکزی کردار میں جلوہ گر ہوئے اور وہاں بھی اپنی خوب نام کمایا۔ فلموں میں شکیلہ قریشی کے ساتھ ان کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔
ان کی مقبول فلموں میں مسٹر 420، مسٹر چارلی، خاندان اور لاٹ صاحب شامل ہیں۔ مسٹر 420 میں بہترین اداکار کرنے پر انہیں ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

عمر شریف کے مقبول ترین اسٹیج ڈرامے:
بکرا قسطوں پے اور بڈھا گھر پے ہے جیسے لازوال اسٹیج ڈراموں کو عمر شریف کے مداح آج بھی دیکھتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔

عمر شریف کے مقبول اسٹیج ڈراموں میں دلہن میں لے کر جاوں گا، سلام کراچی، انداز اپنا اپنا، میری بھی تو عید کرا دے، نئی امی پرانا ابا، یہ ہے نیا تماشا، یہ ہے نیا زمانہ، یس سر عید نو سر عید، عید تیرے نام، صمد بونڈ 007، لاہور سے لندن، انگور کھٹے ہیں، پٹرول پمپ، لوٹ سیل، ہاف پلیٹ، عمر شریف ان جنگل، چوہدری پلازہ وغیرہ شامل ہیں۔

عمر شریف اور انسان دوستی :
عمر شریف انسان دوست جذبے سے بھی سرشار تھے، انہوں نے 2006 میں عمر شریف ویلفئر ٹرسٹ قائم کیا جس کے تحت ماں کے نام سے اسپتال تعمیر کروایا۔

عمر شریف کا ایوارڈز میں بھی ریکارڈ:
عمر شریف کی خدمات کے اعتراف میں انہیں نگار ایوارڈ اور تمغہ امتیاز سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔
عمر شریف نے سال 1992 میں فلم مسٹر۔420 میں بہترین اداکاری اور ہدایت کاری کرنے پر نیشنل ایوارڈ حاصل کیا۔
کامیڈی کی دنیا میں راج کرنے والے عمر شریف نے اپنی زندگی میں دس نگار ایوارڈ اپنے نام کیے۔
یہی نہیں بلکہ عمر شریف ایوارڈز کی دنیا بھی ریکارڈ اپنے نام رکھتے ہیں، عمر شریف وہ واحد اداکار ہیں جنہوں نے ایک ہی سال میں چار نگار ایوارڈ اپنے نام کیے ۔ بلاشبہ یہ کسی بھی فنکار کیلئے ایک اعزاز ہے۔