
شنگھائی(شِنہوا) ڈاکٹر محمد شہباز نے کہا ہے کہ میڈیکل کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والے مزید پاکستانی طلبا کو مستقبل میں چین میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا، جو بہت بڑی کامیابی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ یہ اس لحاظ سے بھی ایک کامیابی ہے کہ بلیٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو(بی آر آئی) کے ساتھ واقع ممالک اورخطوں کو طبی شعبہ میں مل کر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ڈاکٹر محمد شہباز کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وہ گزشتہ 15 سالوں سے چین میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کام کر رہے ہیں۔ چائنہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے، انہوں نے حال ہی میں شنگھائی ہائی اینڈ میڈیکل ایکوپمنٹ انوویشن سینٹر کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ طبی آلات کی ایک جدید بین الاقوامی کمیونٹی کی مشترکہ تعمیر ہوسکے، جو انسانی صحت کو فائدہ پہنچانے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی مدد کرے گا اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب مستقبل کے حامل معاشرے کی تعمیر میں حصہ لے گا۔شنگھائی ہائی اینڈ میڈیکل ایکوپمنٹ انوویشن سنٹر شنگھائی میں بائیو میڈیسن کے شعبے میں مینوفیکچرنگ کا واحد مرکز ہے۔ نومبر کے آخر میں شنگھائی میں منعقد ہونے والی دوسری بی آر آئی میڈیکل ڈیوائس انوویشن اینڈ ایپلیکیشن کانفرنس میں، شنگھائی ہائی اینڈ میڈیکل ایکوپمنٹ انوویشن سینٹر اور 36 اداروں نے تین کیٹیگریز میں اسٹریٹجک تعاون کے 10 منصوبوں پر اتفاق کیا۔شنگھائی یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے صدر پروفیسر لیو پنگ نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ
میڈیکل ڈیوائس انوویشن اینڈ ایپلیکیشن الائنس ٹیکنالوجیکل جدت ، مصنوعات اور ماڈل جدت کو ترقی دیتے ہوئے تعاون، بین الاقوامی رابطوں اور تعلقات کو مضبوط کرے گا، چین اور چین سے باہر جدید ترین طبی سامان کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے کوششوں کو بروئے کار لانے میں مدد کرے گا۔شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شہباز نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشت کا مقصد اعلی درجے کے طبی آلات اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کامیابیوں کے لیے مشترکہ طور پر ایک بین الاقوامی مرکز قائم کرنا ہے۔


