اثاثے اپنے بچوں کو پرامن طریقے سے کیسے منتقل ہوں، ایشیاء کے امیر ترین افراد کی پریشانی

مکیش امبانی ایشیا کے امیر ترین شخص ہیں مگر اپنے اثاثوں کی تقسیم کے حوالے سے وہ کافی فکرمند ہیں
اسلام آباد:ایشیاء کے امیر ترین افراد کو اس وقت یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ وہ اپنے اثاثے کیسے اپنی اولاد کو منتقل کریں کہ ان کی موت کے بعد ان کے خاندان میں جھگڑے کھڑے نہ ہوں ،بھارت سے تعلق رکھنے والے ایشیا کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کئی برسوں سے دنیا کے ارب پتی خاندانوں کو جانچ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی اگلی نسل کو سب کچھ کیسے منتقل کیا۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں یہ عمل تیز کردیا گیا ہے اور ایشیا کے امیر ترین شخص اپنی 208 ارب ڈالرز کی سلطنت کے اگلے مرحلے کا منصوبہ تیار کرہے ہیں تاکہ ان کا خاندان ان اثاثوں کے لیے ٹکڑے ٹکرے نہ ہوجائے، جیسے متعدد دولت مند خاندان ہوئے بشمول امبانی خاندان کے۔
مگر ایشا کا یہ امیر ترین خاندان درحقیقت ماضی میں اتنا امیر نہیں تھا بلکہ مکیش کے والد دھیرج لال ہیرا چند امبانی پٹرول پمپ میں کام کرتے تھے اور وہاں سے عدن گئے اور پھر بھارت آکر اپنے کاروبار کی بنیاد رکھی۔2002 میں جب دھیرج لال امبانی کا انتقال ہوا تو ان کی کوئی وصیت نہیں تھی۔جس کے بعد مکیش امبانی اور ان کے بھائی انیل امبانی کے درمیان وراثت کے لیے کافی طویل جنگ ہوئی اور دونوں کے تعلقات متاثر ہوئے۔
2005 میں دونوں بھایوں کے درمیان معاہدہ ہوا جس کے تحت مکیش امبانی کو آئل، گیس، پیٹروکیمیکلز اور دیگر کاروباری آپریشنز کا کنٹرول ملا (بنیادی طور پر ریلائنس انڈسٹری کا بیشتر حصہ انہیں مل گیا)، اب 64 سالہ مکیش امبانی 91.1 ارب ڈالرز کے مالک ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا کہ مکیش امبانی اپنے اثاثوں کی تقسیم کے لیے وال مارٹ انکارپوریشن کی ملکیت رکھنے والی والٹن فیملی کے ماڈل سے متاثر ہیں۔
ذرائع کے مطابق مکیش امبانی خاندانی اثاثوں کو ایک ٹرسٹ جیسے اسٹرکچر میں منتقل کرنے پر غور کررہے ہیں جس کے پاس ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کا کنٹرول ہوگا۔
مکیش امبانی، ان کی اہلیہ نیتا اور تینوں بچے کے پاس ریلائنس کو کنٹرول کرنے والے ادارے میں حصے ہوں گے اور وہ بورڈ میں شامل ہوں گے جن کے ساتھ مکیش امبانی کے پرانے وفادار ساتھی ہوں گے، جو روزمرہ کے آپریشنز کو سنبھالیں گے۔
ویسے اس حوالے سے مکیش امبانی اکیلے نہیں۔ایشیا کے عمر رسیدہ ارب پتی افراد اپنی دولت کے آگے منتقل کرنے کے مسئلے کا سامنا کررہے ہیں۔ایک ہزار سے زیادہ خاندانوں میں سے ایشیا کے خاندانوں کی مجموعی دولت 5.8 ٹریلین ڈالرز ہے، جبکہ بھارت میں ایسے خاندانوں کے اثاثے 1.5 ٹریلین ڈالرز کے قریب ہے۔
ٹانوٹو سینٹر فار ایشین فیملی بزنس اینڈ انٹرپرائزز اسٹڈیز کی ڈائریکٹر وینی چیان پینگ نے بتایا کہ ایشیا کے امیر افراد اپنے جانشینوں کے معاملے کو کس طرح سنبھالتے ہیں، وہ ایشیائی خطے پر اثرانداز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ امیبانی ایشیا کا امیر ترین خاندان ہے اور لوگ یقینا ان کی جانب دیکھیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ مکیش امبانی کی جانب سے اب بھی مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے اور کوئی فیصلہ نہیں ہوا، مگر ریلائنس کے نمائندوں اور مکیشن امبانی نے اس حوالے سے کوئی بیان یا ردعمل جاری نہیں کیا۔
یو بی ایس گلوبل ویلتھ منیجمنٹ کے سنگاپور کے سربراہ جان بوس نے بتایا کہ ایشیا کے امیر ترین افراد کی موجودہ نسل اثاثونوں کی منتقلی کے خطرات سے واقف ہیں۔انہوں نے کہا ‘وہ اس سے بچنا چاہتے ہیں، اور پھر وبا کا سامنا ہے جس نے لوگوں کو حقیقی معنوں میں سوچنا شروع کردیا ہے کہ وہ آخر چاہتے کیا ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی آمد سے قبل خاندانی جانشین اور انتظامی معاملات کے حوالے سے صارفین نے دگنا زیادہ رابطہ کیا ہے، اس سے پہلے یہ خاندان اس مسئلے کو التوا میں ڈالنے کے عادی تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ثقافتی طور پر یہ ایسا معاملہ نہیں جس پر لوگ بات کرنا پسند کرتے ہوں، نوجوان نسل بھی اوپر نہیں آنا چاہتی، مگر اب لوگ پہلے سے تیار ہونا چاہتے ہیں۔
امبانی خاندان اور ان کے منصوبے
اگرچہ مکیش امبانی نے عوامی طور پر ریلائنس کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے پیچھے ہٹنے کے کسی منصوبے کا ذکر نہیں کیا، مگر ان کے بچے منظر پر زیادہ نمایاں ہورہے ہیں۔
جون 2021 میں شیئر ہولڈز سے خطاب کرتے ہوئے مکیش امبانی نے پہلی بار عندیہ دیا کہ ان کے جڑواں بچے 30 سال کے آکاش اور ایشا، اور 26 سالہ اننت ریلائنس میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے اس موقع پر کہا ‘مجھے کوئی شبہ نہیں کہ ریلائنس کی اگلی نسل کی قیادت ایشا، آکاش ست اننت کریں گے، جو اپنی قیمتی ورثے کو مزید بڑحائیں گے’۔
ذرائع کے مطابق مکیش امبانی کو وال مارٹ کو سنبھالنے والے خاندان کے ماڈل نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے جو 1992 میں اس کے بانی سام والٹن کے انتقال کے بعد اپنایا گیا تھا۔

یہ ماڈل کیا ہے؟
والٹن فیملی دنیا کا امیر ترین خاندان ہے جس میں اثاثوں کی تقسیم مختلف انداز سے ہوئی۔اس خاندان کے افراد کو وال مارٹ کے صرف بورڈ لیول کی قیادت حاصل ہے، باقی اس امریکی ریٹیل کمپنی کو 1988 سے منیجرز چلا رہے ہیں، جب ڈیوڈ گلاس نے سام والٹن کی جگہ سی ای او کی ذمہ داری سنبھالی۔
سام والٹن کے بڑے بیٹے روب والٹن اور ان کے بھتیجے اسٹیورٹ والٹن وال مارٹ کے بورڈ کا حصہ ہیں، جبکہ گریگ پینیر (روب والٹن کے داماد) 2015 سے Bentonville نامی کمپنی کے چیئرمین ہیں۔
ویسے تو اکثر اس خاندان کو دیگر شیئر ہولڈز سے زیادہ مراعات دیئے جانے کے الزامات لگتے ہیں مگر یہ خاندان اپنی توجہ وال مارٹ سے باہر دیگر کاروبار، سرمایہ کاری یا فلاحی کاموں پر مرکوز کرتا ہے۔
والٹن فیملی کا ماڈل اس کے بانی سام کی غیرمعمولی دور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے، جن کی جانب سے پہلے ایک عالمی کمپنی کی بنیاد چند دکانوں کے ساتھ رکھی گئی تھی۔
انہوں نے اپنی موت سے لگ بھگ 40 سال قبل 1953 میں ہی اپنے جانشینوں کی تیاری شروع کردی تھی اور خاندانی کاروبار کا 80 فیصد حصہ اپنے چار بچوں ایلس، روب، جم اور جان کو منتقل کردیا تھا۔ اس سے ٹیکسوں کی شرح میں کمی لانے اور کمپنی پر خاندان کے کنٹرول کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔