
ارمچی (شِنہوا) چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے میں مسلسل پانچ برسوں سے دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور فوجداری و عوامی سلامتی کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔سنکیانگ کے محکمہ پبلک سکیورٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر یالکون یاکپ نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ سنکیانگ کی انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کی جدوجہد کے اہم نتائج برآمد ہوئے ہیں ، تواتر کے ساتھ ہونے والی پرتشدد اور دہشت گردی کی سرگرمیوں پر قابوپایا گیا ہے، مذہبی انتہا پسندی کی موثر طریقے سے اصلاح کی گئی ہے اور علیحدگی پسندی بارے جدوجہد کے حوالے سے فکری شعبے میں ٹھوس نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔سنکیانگ میں دہشت گردی کے انسداد اور استحکام کو برقرار رکھنے کے اقدامات نے تمام نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کیا ہے، انہیں مذہبی انتہا پسندی کے شکنجے سے آزاد کرایا گیا ہے اور ان کے مذہبی عقائد کا مکمل احترام کیا جاتاہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات کی وجہ سے صحیح اور غلط کے مابین تفریق اور انتہا پسندانہ خیالات کے اثرو رسوخ کی مزاحمت کی گئی جس سے ان کی صلاحیت میں نمایاں طور پر بہتری آئی ہے۔یالکون یاکپ نے کہا کہ تمام نسلی گروہوں کے لوگوں میں تحفظ کا بہت زیادہ احساس پایا جاتاہے، ان کی کئی برسوں سے امن اور استحکام کی خواہش پوری ہو گئی ہے۔سنکیانگ نے انسداد دہشت گردی کی قانون سازی کو مسلسل مستحکم بنایا ہے، سینئر پولیس اہلکار نے کہا کہ ان اقدامات کی وجہ سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ قانون کے مطابق انسداد دہشت گردی کے اقدامات کیے جائیں اور یہ کہ لوگ وسیع تر حقوق اور آزادیوں سے لطف اندوز ہوں اور حسب معمول سماجی زندگی گزاریں۔سنکیانگ کچھ عرصہ سے نسلی علیحدگی پسندی، پرتشدد دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔ سنکیانگ میں سال 1990 سے 2016 تک اندرون اور بیرون ملک ان تین قوتوں نے دہشت گردی کے ہزاروں واقعات کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں بہت سے بے گناہ لوگوں کی اموات واقع ہوئیں اور املاک کو بے تحاشہ نقصان پہنچا۔یالکون یاکپ نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران دہشت گردانہ حملوں نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔




