پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹوٹل 20 ویں اوور کی پانچویں گیند پر تین رنز بنا کر حاصل کیا
وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے 74 رنز بنا کر جہاں پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا وہیں جنوبی افریقن بولر نے فل ٹاس گیندیں پھینک کران کی بھرپور مدد بھی کی

جوہانسبرگ: پاکستان نے پہلے ٹی ٹونئٹی میچ میں ایک دلچسپ مقابلے کے بعد جنوبی افریقہ کو چار وکٹوں سے ہرا کر
چارمیچوں کی سیریز میں برتری حاصل کر لی ،پاکستان کی جیت میں جہاں وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے 74 رنز بنا کر اہم کردار ادا کیا وہیں میچ کے سترہویں اور اٹھارویں اوور میں جنوبی افریقن بولر نے فل ٹاس گیندیں پھینک کر پاکستان کی بھرپور مدد بھی کی محمدرضوان اور فہیم اشرف نے ان فل ٹاس گیندوں کا خوب فائدہ بھی اٹھایا اور 16ویں اوور تک جہاں جنوبی افریقہ کا پلڑا بھاری جارہا تھا میچ پاکستان کے حق تبدیل ہوگیا اور پاکستان نے 20ویں اوور کی پانچویں گیند پر میچ جیت لیا جبکہ ایک بال ابھی باقی تھی۔پاکستان نے اس میچ میں ٹی ٹوئنٹی کا سب سے بڑا ٹوٹل چیز کر کے ایک اور ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ ہفتہ کو جوہانسبرگ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور بیس اوور میں 188 رنز بنا کر پاکستان کو جیتنے کے لئے 189رنز کا بڑا حدف دیا۔
جوہانسبرگ میں اوپنرز نے اننگز کا آغاز کیا تو جنوبی افریقہ کو 31 رنز کا آغاز فراہم کیا جس کے بعد محمد نواز نے 24 رنز بنانے والے جینمن ملان کو چلتا کردیا۔پہلا میچ کھیلنے والے ویہان لوبے کچھ خاص تاثر قائم کرنے میں ناکام رہے اور 4 رنز بنانے والے حسن علی کو وکٹ دے بیٹھے ۔دو وکٹیں گرنے کے بعد ایڈن مرکرم اور کپتان ہنری کلاسن نے ٹیم کو سہارا دیا اور 62 رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کی بڑے مجموعی تک رسائی کی راہ ہموار کی۔مرکرم نے 8 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 51 رنز بنائے جس کے بعد نواز نے وکٹوں کے عقب میں موجود رضوان کی مدد سے انہیں قابو کر لیا۔کلاسن نے جارحانہ بیٹنگ جاری رکھی اور عمدہ نصف سنچری اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ پیٹ وین بلجون کے ساتھ 61 رنز کی ساجھے داری قائم کی، وہ 28 گیندوں پر 4 چھکوں اور دو چوکوں سے مزین 50 رنز بنانے کے بعد حسن علی کا شکار بنے ۔ایک موقع پر جنوبی افریقہ نے 16 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 159 رنز بنائے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ باآسانی 200 سے زائد رنز بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن اختتامی اوورز میں پاکستانی بالرز نے عمدہ بالنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے ارمان خاک میں ملا دیے۔اننگز کے آخری اوور میں چھکے اور چوکے کی بدولت جنوبی افریقہ کی ٹیم 6 وکٹوں کے نقصان پر 188 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی۔پاکستان کی جانب سے محمد نواز اور حسن علی دو، دو وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر زرہے۔ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو اوپنرز بابر اعظم اور محمد رضوان نے 41 رنز کا آغاز فراہم کیا جس کے بعد پاکستان کے کپتان کی 14 رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی۔فخر زمان اور محمد رضوان نے 45 رنز کی شراکت قائم کی لیکن ون ڈے سیریز میں رن کے انبار لگانے والے فخر زمان اننگز کے 10ویں اوور کی آخری گیند پر 27 رنز بنا کر چلتے بنے۔محمد حفیظ اپنے 100ویں میچ کو یادگار نہ بنا سکے اور صرف 13 رنز بنانے کے بعد تبریز شمسی کو وکٹ دے بیٹھے جبکہ نوجوان حیدر علی کی اننگز بھی 14رنز پر اختتام کو پہنچی۔
پاکستانی ٹیم ابھی اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ محمد نواز پہلی ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے اور اس طرح پاکستان کی ٹیم پانچویں وکٹ بھی گنوا بیٹھی۔آدھی ٹیم کے آئوٹ ہونے کے بعد باوجود وکٹ کیپر بیٹسمین محمدرضوان نے ہمت نہ ہاری اور نصف سنچری بنانے والے بلے باز نے فہیم اشرف کے ہمراہ ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔دونوں کھلاڑیوں نے بڑھتے ہوئے رن ریٹ کے پیش نطر جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور 48 رنز کی شاندار شراکت قائم کی۔اس عمدہ شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب فہیم اشرف 14 گیندوں پر 30 رنز بنانے کے بعد لزاد ولیمز کی وکٹ بن گئے۔فہیم اشرف کے آئوٹ ہونے کے باوجود پاکستان کی ٹیم نے ایک گیند قبل ہی ہدف تک رسائی حاصل کر کے میچ میں 4 وکٹوں کامیابی حاصل کر لی۔اس میچ میں فتح کے ساتھ ہی قومی ٹیم نے سیریز میں 0-1 کی برتری بھی حاصل کر لی۔آخری اوور کی پہلی گیند پر فہیم اشرف کا ایک آسان کیچ چھوٹا اور ساتھ دو رنز بھی بن گئے لیکن ولیم نے اگلی ہی گیند پر انہیں بولڈ کر کے پھر میچ میں تھوڑی جان ڈالی لیکن کامیابی نہ مل سکی۔


