
اسلام آباد: وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا 36 واں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا برئے اطلاعات و نشریات، داخلہ، خزانہ، انسانی حقوق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تمام سروسز چیفس، نیشنل سکیورٹی ایڈوائرز اور عسکری حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے اجلاس کو پالیسی کے خدوخال پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے قومی سلامتی مشیر کو پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ماہانہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کا تحفظ شہریوں کے تحفظ سے منسلک ہے۔
اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سینیئر سول و عسکری حکام، وزیر خارجہ، دفاع، اطلاعات ونشریات، داخلہ، خزانہ، انسانی حقوق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کیسربراہان بھی شریک ہوئے۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ملک کسی بھی داخلی و خارجی خطرات سے نبرد آزما ہونیکی پوری صلاحیت رکھتا ہے، ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تیاری اور منظوری تاریخی اقدام ہے، قومی سلامتی ڈویژن اور تمام متعلقہ اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، پالیسی پر موثر عملدرآمد کیلئے تمام ادارے مربوط حکمت عملی اپنائیں۔وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی کو پالیسی پر عمل درآمد کیلئے ماہانہ رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت بھی کی۔
معاون خصوصی برائے قومی سلامتی مشیر معید یوسف نے اجلاس کو پالیسی کے خدوخال پر بریفنگ دی اور بتایا کہ قومی سلامتی پالیسی ملک کے کمزور طبقے کا تحفظ، سکیورٹی اور وقار یقینی بنائے گی، شہریوں کے تحفظ کی خاطر پالیسی کا محور معاشی سکیورٹی ہوگا،انہوں نے کہا کہ معاشی تحفظ ہی شہریوں کے تحفظ کا ضامن بنے گا، پالیسی سازی کے دوران وفاقی اداروں، صوبائی حکومتوں، ماہرین، پرائیویٹ سیکٹر سے مشاورت کی گئی۔معید یوسف نے کہا کہ پالیسی پر عمل دارمد یقینی بنانے کیلئے فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی سے منظوری کے بعد اب قومی سلامتی پالیسی وفاقی کابینہ میں پیش ہو گی۔
پالیسی کی منظوری پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے لکھا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس نے آج ملک کی پہلی نیشنل سکیورٹی پالیسی کی منظوری دی اور یہ پالیسی منگل کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

