
اسلام آباد میں سرکاری ویکسینیشن سنٹرز دوبارہ کھولنے کا خیر مقدم کرتے ہیں: ثروت سلمان
شہری ماسک پہنیں،عالمی ادارہ صحت کی طرف سے وائرس ”ویرینٹ آف کنسرن” قرار
وزارت صحت ہومیو مالجین کی خدمات لے سکتی ہے۔ ہم سرکار کو مثبت جواب دیں گے
اسلام آباد ( نیوز رپورٹر) ممتازمعالج،چیئر مین ینگ ڈاکٹر ویلفیئر فورم ڈاکر محمد سلمان نے کہا کہ وطن عزیز میں وائرس کا 35فیصد شرح عبور کرنا انتہائی تشویشناک ہے انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ماسک کا استعمال یقینی بناکر ویکسیینیشن کا عمل تیز کریں۔خصوصی نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکر محمد سلمان نے وفاقی حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں ویکسینیشن سنٹرز کو دوبارہ کھولنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا انہوں نے وزارت صحت کے حکام کو محققین اور مستند مالجین کی خدمات کا چراغ ہر سطح روشن رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ڈاکر ثروت سلمان نے کہا کہ دنیا بھر میں اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کیوجہ سے عالمی ادارہ برائے صحت نے اسے ”ویرینٹ آف کنسرن” قرار دیدیا ہے اس میں پچاس کے قریب میوٹیشنز ہیںجن کا پھیلاؤ بہت تیزی سے ہورہاہے۔ پاکستان میںاومیکرون وائرس کی تشخیص کیلئے قومی ادارہ برائے صحت ( این آئی ایچ ) کام کر رہا ہے اسکی علامات بھی پچھلے وائرس جیسی ہی ہیں لیکن اس وائرس کا شکار افراد کو تھکن زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اسکا وائرس کیلئے کوئی نیا ٹیسٹ نہیں بلکے وہی کرونا وائرس کیلئے کئے جانیوالا پی سی آر اور آر اے ٹی ہی کیا جاتا ہے ۔ ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون سے پھیپھڑوں کی بجائے گلے کے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ بظاہر اومیکرون قسم بہت زیادہ متعدی ہے مگر کورونا کی دیگر اقسام کے مقابلے میں کم جان لیوا ہے۔




