بھارت میں حجاب کے بعد اب دین بچانا بھی مشکل ہوگیا مسلمانوں کو نام بدلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)نبیلہ شیخ 30 سال کی تھیں جب انھوں نے حجاب کو پابندی سے اوڑھنا شروع کیا اور وہ حجاب لینے والی اپنی تین بہنوں میں سے آخری تھیں۔سب سے بڑی بہن مزنہ نے ایک کزن سے متاثر ہو کر آٹھ سال کی عمر میں پہلی بار حجاب کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اسے اپنے ارد گرد کے حالات اور مواقع کے لحاظ سے پہنتی رہیں۔ لیکن انھیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ وہ ‘سب کو خوش’ نہیں کر سکتیں۔سب سے چھوٹی بہن سارہ نے اس کا اس وقت سہارا لیا جب وہ اپنی زندگی کے ‘مایوس ترین’ مقام پر پہنچیں یعنی جب ان کا سرجن بننے کا خواب امتحان میں کم نمبروں کی وجہ سے چکنا چور ہوگیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کی شروعات ‘وقت پر نماز پڑھنے جیسی چیزوں سے ہوئی۔ حجاب تو بعد میں آیا اور یہ قدرتی طور پر آیا۔’دو ڈاکٹروں کے ہاں پیدا ہونے والی یہ تینوں بہنیں انڈیا کے ساحلی میٹروپولیٹن شہر ممبئی میں پلی بڑھیں۔ ان کی ماں اب بھی اپنا سر نہیں ڈھانپتی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ جب یہ بہنیں ایسا کرتی ہیں تو لوگ یہ فرض کرتے ہیں کہ یہ مجبوری میں ایسا کر رہی ہیں۔بی بی سی مطابق انڈیا میں حجاب بڑے پیمانے پر پہنا جاتا ہے اور انڈیا میں عوامی طور پر اپنے مذاہب کا مظاہرہ عام بات ہے۔ لیکن پچھلے مہینے انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے سکول میں پڑھنے والی لڑکیوں نے اسے کلاس میں پہننے سے منع کیے جانے پر احتجاج کیا اور حجاب کے معاملے نے طول پکڑ لیا۔کیا مسلم لڑکیوں کو کلاس میں حجاب پہننے کا حق ہے؟ اب یہ سوال عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس تنازعے کے نتیجے میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے اور تعلیمی اداروں میں واضح تقسیم نظر آئی جبکہ کرناٹک میں کئی مسلم لڑکیاں کلاسز میں جانے سے رک گئیں۔بی بی سی نے انڈیا بھر کی مسلم خواتین سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ وہ حجاب کے متعلق جاری مباحثے کی ‘مداخلت کرنے والی نوعیت’ پر ناراض ہیں۔دہلی کی ایک خاتون نے کہا: ‘ہمیں مسلسل یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ (ملک میں) قبول کیے جانے کے لیے ہمیں اپنا مذہب چھوڑ دینا چاہیے۔’ ان کا کہنا ہے کہ اس عوامی چیخ و پکار میں جو چیز گم ہو جاتی ہے، وہ ان کی اپنی شدید ذاتی پسند ہے۔جو حجاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف مذہبی فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی پرورش کا عکاس ہے۔ اور جو لوگ اسے نہ پہننے کا انتخاب کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کے کھلے بال ان کے عقیدے کے جانچنے کا آلہ نہیں ہیں۔نبیلہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کوئی سر پر سکارف پہن کر کیسے با اختیار محسوس کر سکتا ہے۔۔۔ یہ انھیں الجھا دیتا ہے لہذا وہ ہمارے بارے میں فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔’مظلوم ایک ایسا لفظ ہے جسے عام طور پر حجاب پہننے والی خواتین پر چسپاں کیا جاتا ہے، لیکن بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ جو اس بات کو توجہ نہیں دیتیں کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتی ہیں یہ بات بھی اپنے آپ میں آزادی دلانے والی نہیں ہے اور نہ ہی لڑکیوں کو سکول سے دور رکھنا ہی روشن خیالی ہے کیونکہ وہ اسے اتارنا نہیں چاہتیں۔اپنے پہلے نام سے پکاری جانے والی اور انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ نق کا کہنا ہے کہ ‘نوجوان مسلم خواتین سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہیں۔ اور آپ مجھ سے اب بھی کہہ رہے ہیں کہ [یہ] خواتین اپنے لیے نہیں سوچ سکتیں؟’وہ کہتی ہیں کہ ‘میرے پردے نے بہت سے لوگوں کی ذہنیت کا پردہ فاش کر دیا۔۔۔ لوگ پھسپھسا کر کہتے: کیا آپ مظلوم ہیں؟ کیا آپ کو گرمی لگ رہی ہے؟ آپ کون سا شیمپو استعمال کرتی ہیں؟ کچھ لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میرے بال بھی ہیں، ان کا خیال تھا کہ مجھے کینسر ہے۔’ان کے لیے حجاب لباس سے آرائش کا تجربہ بھی تھا، وہ ہر لباس میں گلیمر اور رنگوں میں ڈرامہ دیکھتی ہیں۔وہ کہتی ہیں: ‘لوگ سمجھتے ہیں کہ میرا حجاب میرے جدید کپڑوں اور میک اپ سے متصادم ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اگر میں ایک کمرے میں قدم رکھتی ہوں، تو میں چاہتی ہوں کہ لوگ میری طرف دیکھیں اور سوچیں کہ ایک مسلمان عورت اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہے، دنیا بھر میں سفر کر رہی ہے، اور پھل پھول رہی ہے۔’