تاریخ میں پہلی بار صدر مملکت عارف علوی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوگئے

اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی )پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی جمعے کے روز پاکستان تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے کے دوران پارلیمنٹ ہاس اور ریاست کے زیر انتظام چلنے والے ٹیلی ویژن پی ٹی وی پر حملے کے مقدمے میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔ان کے اور پی ٹی آئی رہنماں خلاف سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی صدر مملکت عدالت میں پیش ہوا ہو کیونکہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر کو اس ضمن میں استثنی حاصل ہے اور جب تک کوئی شخص جو اس عہدے پر فائز ہے، اس کے خلاف فوجداری مقدمات میں ان کو عدالت میں طلب نہیں کیا جاسکتا۔سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کچھ مقدمات این آر او کے تحت ختم کیے گئے تھے اور پھر جب سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دیا اور تمام مقدمات کو بحال کیا تو اس وقت آصف علی زرداری ملک کے صدر تھے لیکن صدارتی استثنی ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف درج نیب کے مقدمات کی سماعت نہیں ہو سکی تھی۔ سابق صدر کے خلاف نیب کے مقدمات اس وقت شروع ہوئے جب وہ مدت ختم ہونے کے بعد صدر کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کے عدالت میں پیش ہونا ایک اچھی بات ہے اور ان کے پیش ہونے سے آئین کا آرٹیکل 248 جو کہ صدر مملکت کے استثنی کے بارے میں ہے، متاثر نہیں ہوگا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین کے اس آرٹیکل کے تحت صدر مملکت اور گورنر کو استثنی حاصل ہے اور کوئی بھی عدالت ان دونوں عہدوں پر تعینات افراد کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری نہیں کر سکتی۔اس مقدمے میں وفاقی وزرا جن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور اسد عمر وغیرہ شامل ہیں، انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں اور یہ تمام ملزمان ضمانت پر ہیں۔اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کو اس مقدمے سے بری کر دیا تھا تاہم اس سے قبل اسی عدالت نے پیش نہ ہونے پر ان کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔وزیر اعظم بننے سے پہلے عمران خان صرف ایک مرتبہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔وفاق کی جانب سے عمران خان کو اس مقدمے سے بری کرنے کے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔