حکومتی اتحادی اپنا وزن اپوزیشن کے پلڑے میں ڈال چکے صرف رسمی اعلان باقی ہے
تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ حکومت کے پاس آپشن محدود ہوتے ہوتے ختم ہونے کے قریب پہنچ گئے
وزیراعظم کے بعد اب وفاقی وزراء بھی بوکھلا گئے ، ہر ایک کی اپنی اپنی سمت،کچھ مفاہمت کچھ تصادم کی راہ پر چل رہے ہیں
سارے قضیئے میں اردو کو جہاں دو نئے الفاظ کانپیں ٹانگنا اور بندوق کی نشست ملے عوام کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ نیوٹرل کون ہوتا ہے
حکومت کے اپوزیشن کی طرح جلسے جلوس شروع کرنے سے صاحب عقل لوگ سمجھ گئے تھے کہ تبدیلی آچکی ہے صرف رسمی اعلان باقی ہے

اسلام آباد(تجزیہ :محمد رضوان ملک )حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کے بعد سے حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنماء اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو نے حکومت کے مستقبل کی صورت حال کو کافی حد تک واضح کر دیا ہے ۔
حکومتی وزراء کی اتحادی جماعتوں پر کھلے بندوں تنقید او ر حکومتی اتحادیوں کے جوابی وار سے صورت حال واضح ہو چکی ہے کہ اتحادی اپنا وزن اپوزیشن کے پلڑے میں ڈال چکے ہیں صرف رسمی اعلان باقی ہے۔
وزیراعظم کو ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق کے بعد باپ نے بھی مایوس کیا ہے جو ماضی میں ہر مشکل وقت میںحکومت کے لئے ہوا کا ٹھنڈا جھونکا ثابت ہوتی رہی ہے۔ باپ نے نہ صرف وزیراعظم کو کھری کھری سنائیں بلکہ دیگر اتحادیوں سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خیبر پختون خوا میں حکومت سے بھی الگ ہو گئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان جنہیں پہلے ہی کسی حد تک حالات کا ادراک ہو چکا تھا اور انہوں نے اپوزیشن کا ایوان میں مقابلہ کرنے کی بجائے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا اور جلسے جلوس اور احتجاج کی سیاست شروع کر دی جو وہ ماضی میں اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کرتے تھے۔جب حکومت اپوزیشن کا کام شروع کر دیں تو سمجھ جائیں تبدیلی آنے والی ہے بلکہ تبدیلی آچکی صرف رسمی اعلان باقی ہے۔
پرویز الٰہی نے یہ کہ کر کے اسٹیبلمشنٹ نیوٹرل ہے اور پشاور سے مدد کی کوشش بھی ناکام ہیں حکومتی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
پرویز الٰہی نے دوران انٹرویو ان وفاقی وزراء کو بھی بھرپور جواب دیا ہے جو ان پر تنقید کررہے تھے ۔
نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ تعداد سے زیادہ نمبر ہیں اور اس وقت تمام اتحادی جماعتوں کا جھکائو بھی اپوزیشن کی جانب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی بہت سے سرپرائز آنے ہیں، حکومت کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ کون ان کے ساتھ ہے اور کون نہیں، اس وقت حکومت کا کوئی اتحادی بھی 100 فیصد ان کے ساتھ نہیں ہے کیونکہ خان صاحب نے سب سے ہاتھ کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے خود کو باہر رکھا ہوا ہے، جو بھی آجائے ان کے لیے قابل قبول ہے
پرویز الہی نے کہا کہ خان صاحب نے 4 دن پہلے مونس الہی کو کہا کہ پی ٹی آئی میں ضم ہو جائیں، ہم نے انکار کر دیا، انھوں نے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو بھی یہی کہا، یہ ان کی ناسمجھی ہے۔
تحریک عدم اعتماد سے متعلق سوال پر پرویز الہی نے کہا کہ ہم اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، باقی اتحادیوں سے مل کر حتمی فیصلہ کریں گے، ہم تمام معاملات اتحادیوں کے سامنے رکھیں گے، ہمارے ساتھ زرداری صاحب ہیں، ایم کیو ایم ہے، باپ پارٹی ہے، مل کر فیصلہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل نہیں ہے، ان کیلیے جو بھی آئے وہ ٹھیک ہے، عمران کہتے ہیں کہ ان کی مان رہے تھے تو فیل ہوگئے، پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ فوج نیوٹرل ہے، عمران نے کہہ دیا نیوٹرل جانور ہوتا ہے، اسی لیے کہتے ہیں کہ پہلے تولو، پھر سوچو اور پھر بولو، پشاور سے مدد نہیں آ رہی، مدد کی کوشش ہو رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تعلقات سے متعلق سوال پر رہنما مسلم لیگ ق کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے وفاداری کی گئی، ان کی طرف سے دھمکیاں آ رہی ہیں، نیب کو کہا گیا کہ مونس کو پکڑو، خان صاحب نے سب سے ہاتھ کیا ہے، ساڑھے 3 سال انھوں نے کوئی کارکردگی نہیں دکھائی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ مہنگائی ہے، لوگوں کو نوکریاں نہیں ملیں، کیا سب کو احساس پروگرام میں نوکری دیں گے، صحت کارڈ سے کیا ہوتا ہے، پہلے اسپتالوں کو تو ٹھیک کریں۔
ایک سوال کے جواب میں پرویز الہی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی کا اتحاد دیرپا لگ رہا ہے، جب ایک شخص کے خلاف سب اکھٹے ہو جائیں تو تلخیاں بھلائی جاتی ہیں۔
وزیر اعلی پنجاب کی تبدیلی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دو اتحادی پارٹیوں نے کہا وزیراعلی پنجاب کا معاملہ عدم اعتماد کے بعد دیکھتے ہیں لیکن چوہدری شجاعت نے کہا کہ نہیں، وزیراعلی پنجاب والا کام پہلے ہونا چاہیے۔
وزارت اعلی کے سوال پر پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وہ کچھ بولیں تب بات ہے ناں، اس وقت تو پی ٹی آئی سکتے میں ہے، ہم نے کہا تھا وزارت اعلی پنجاب دیں، پھر آپ کے لیے بھی ووٹ کر لیں گے، اگر وزارت اعلی ملی تو ہم اتحادیوں کی کمیاں خامیاں بھی پوری کریں گے۔
پرویز الہٰی کے اس تہلکہ خیز انٹرویو کے بعد وزیراعظم کے بعد وفاقی وزراء بھی بوکھلا گئے ہیں اور ہر ایک کی اپنی اپنی سمت اور ارادہ نظر آرہا ہے، وزیراطلاعات کی حالت تو سب سے زیادہ پتلی ہے۔دوسری طرف اطلاعات آرہی ہیں کہ پنجاب کے کئی شہروں میں چودھری پرویز الہٰی کی وزارت اعلیٰ کے حق میں بینر بھی لگ گئے ہیں



