پاکستان ہاکی فیڈریشن بھی کھلاڑیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے

اسلام آباد:1990 ورلڈ کپ اور 1992 اولمپکس کے میڈلسٹ اور اپنے وقت کے ہاکستان ھاکی کے عالمی شہرت یافتہ پنالٹی کارنر سپیشلسٹ خالد بشیر اولمپئن نے ا کہا ہے کہ نیشنل سپورٹس پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا جائے ۔ایک بیان میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیشنل سپورٹس پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔
مختلف اداروں نے کھلاڑیوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے جن میں قومی کھیل ھاکی کے نامور اولمپئنز اور انٹرنیشنل کھلاڑی بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام پاکستان میں کھیل کی مزید تنزلی کا باعث بنے گا۔ یاد رہے کہ آج تک بین الاقوامی سطح پر جتنے اعزازات قومی کھیل ھاکی نے حاصل کئے ہیں کسی اور کھیل نے حاصل نہیں کئے۔ جن میں 4 ورلڈ کپ گولڈ میڈل اور 3 اولمپک گولڈ میڈل شامل ہیں ۔ دنیا میں پاکستان کی پہچان کروانے میں قومی کھیل ھاکی کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ اور پرزور اپیل کرتے ہیں کہ نیشنل سپورٹس پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور کھلاڑیوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان ھاکی فیڈریشن جس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کھلاڑیوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ اس سپورٹس پالیسی پر ابھی تک خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان ھاکی فیڈریشن نے ابھی تک اس سلسلہ میں کیا اقدامات کئے ہیں ؟
میں حکومت وقت اور ارباب اختیار کو یہ بات باآور کروانا چاہتا ہوں کے ھم تمام اولمپینز ھاکی اور باقی تمام کھیلوں کے کھلاڑیوں کی محکموں سے برطرفی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور فوری طور پر ملازمتوںکی بحالی چاھتے ہیں۔
۔ انہوں نے کہا کہ میں ھاکی کی بہتری کے لئے انشا اللہ اپنی کوششیں ہمیشہ جاری رکھوں گا ۔


