
اسلام آباد:پاکستان کی 100 سے زائد ممتاز شخصیات نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے نام کھلا خط لکھ کر ‘نظریہ ضرورت’ دفن کرنے کا مطالبہ کردیا ہے ۔ ممتاز ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنماں نے چیف جسٹس پاکستان کے نام کھلے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری کے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی قانونی حیثیت کے معاملے میں آئین اورقانون پر سمجھوتہ نہ کیاجائے ۔
خط کے مصنفین نے گزشتہ حکومت کے مجوزہ فیصلوں کو قوم کی فلاح وبہبود اور یگانگت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فیصلوں کے غیرقانونی پائے جانے کی صورت میں ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے فیصلوں کا سدباب کیا جا سکے۔
خط میں ایک جوڈیشنل کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ سابقہ حکومت کے خلاف بیرونی سازش کے الزامات کے بارے میں ثبوت و شواہد کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔
اس کے عللاوہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ غیرثابت شدہ الزامات کو بہانہ بنا کر پارلیمانی عمل کو معطل اور اراکین پارلیمنٹ کے حق رائے شماری کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آج آئین کے تقدس کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گا وہ ہماری قومی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب کریگا اور ہماری آئندہ نسل کی عزت و آبروہ اور خوشحالی کا دارومدار صرف آئین کی بالادستی اور ایسی سیاست کے فروغ میں ہے جس میں باہمی احترام اور شائستگی کے اجزا شامل ہوں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اتوار کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی تھی تاہم ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک کو آئین کے خلاف قرار دے کر مسترد کردیاتھا۔ قرارداد مسترد ہونے کے بعد عمران خان نے قوم سے خطاب میں صدر پاکستان کو اسمبلی تحلیل کرنے کا کہا جس کے بعد صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کردی تھی۔


