اوجڑی کیمپ دھماکوں سے 35 برس قبل راولپنڈی میں قیامت صغرء برپاہوئی

یہ دس اپریل 1988کو اتوار کی صبح تھی، جب نو بجکر 45 منٹ پر راولپنڈی شہر زوردار دھماکے سے لرز اٹھا۔ تاہم اس بارسانحہ اوجڑی کیمپ 10اپریل2022 کادن تحریک عدم اعتماد کیشور میں سیاست کی نظرہو گیا۔۔۔نہ کوئی تقریب نہ کوئی پیغام۔تاہم لواحقین پیاروں کی قبروں پر اشک بارنظر آئے. 10 اپریل 1988کو ہونیوالے سانحہ اوجڑی کیمپ نے پورے ملک کوہلا کررکھ دیا، یہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کے سیاہ دنوں میں سے ایک ہے10 اپریل 1988ایک عام صبح تھی،لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات میں مشغول تھے، سورج کی خنک روشنی تمازت کا لباس پہن رہی تھی کہ اچانک جڑواں شہر دھماکوں سے لرز اٹھے، ایسا لگا جیسے کسی دشمن نے چاروں طرف سے گھیر کر میزائلوں کی بارش کر دی ہو۔آنا فانا پورے کیمپ میں آگ کے الاو بھڑکنے لگے،دھماکے پر دھماکے ہو ئے جا رہے تھے ہر طرف سے ان پر راکٹوں اور میزائلوں کی بارش ہونے لگی۔ یہ ایک ہولناک منظر تھا۔ قیامت کی وہ گھڑی جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر فیض آباد میں اوجڑی کیمپ کے اندر اسلحہ ڈپو میں لگنے والی آگ کے باعث بم پھٹ رہے تھے۔راکٹ اور میزائل لوگوں کے سروں پر سے ہوتے، خوف و ہراس پھیلاتے زمین پر گر رہے تھے، جڑواں شہروں میں ٹیلی فون بجلی اور گیس کی فراہمی کے نظام درہم برہم ہو چکے تھے۔ چکلالہ میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا اور پروازوں کی آمد و رفت روک دی گئی۔میزائل اور راکٹ اڑ اڑ کر دونوں شہروں کے مختلف حصوں میں گر کر تباہی پھیلا رہے تھے۔ سڑکوں پر موجود لوگ پناہ کی تلاش میں بھاگ رہے تھے۔ کسی نے اس کو انڈین حملہ قرار دیا تو کسی نے کہا کہ اسرائیل نے اٹیک کیا ہے۔ سڑک پر چلتی گاڑیاں نشانہ بن رہی تھیں۔اوجڑی کیمپ سے کئی کلومیٹر دور ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاس کے باہر بھی کئی راکٹ گرے۔ ان دنوں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوتی تھی اس لیے اتوار کو تعلیمی ادارے اور دفاتر کھلے تھے۔دھماکے کے فوری بعد سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔ اوجڑی کیمپ کے اسلحہ خانے میں لگی آگ بھڑک رہی تھی اور کیمپ سے ملحقہ آباد گلشن دادن خان کے رہائشی گھر سرمے کا ڈھیر بن چلے تھے۔زخمیوں کے جسموں کے اعضا اڑ گئے تھے، جسم بری طرح جھلس گئے تھے، ہسپتالوں میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، فوجی دستوں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور امدادی کارروائیاں عروج پر تھیں۔اس دوران اطلاع آئی کہ اسلام آباد کی طرف آتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے پیداوار محمد خاقان عباسی کی چلتی گاڑی پر دو راکٹ گرے جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کیوالد خاقان عباسی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے بھائی زاہد عباسی شدید زخمی ہو گئے۔ زاہد عباسی بعد ازاں چودہ سال تک کومے میں رہنے کے بعد فوت ہو گئے۔اوجڑی کیمپ سے کئی کلومیٹر دور ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاس کے باہر بھی گرے۔ وفاقی حکومت نے فوری طور پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔ اوجڑی دوسری جنگ عظم کے زمانے کا ایک پرانی طرز کا اسلحہ خانہ تھا، جو سرخ اینٹوں پر تعمیر کی گئی عمارتوں پر مشتمل تھا، یہاں فوجی یونٹس قیام کرتے تھے لیکن 1979 میں اسے آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ نے اسلحہ کے ایک عارضی ذخیرے کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا، جہاں ضرورت کے وقت ہتھیار لائے اور لے جائے جا سکتے تھے۔
،اس حادثے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 103 افراد جاں بحق جبکہ 1300 سے زائد زخمی ہوئے، مگر غیر سرکاری اندازوں کے مطابق جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔اس افسوسناک حادثے کو 35برس گزر چکے، سانحے کے بارے میں پاکستان کے کسی ادارے نے عوام کو پورے سچ سے آگاہ نہیں کیا ، طرح طرح کے مفروضے اور افسانے ہم سنتے چلے جا رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ افغان جہاد کے زمانہ میں روسی کلاشنکوف کی طرح امریکی سام میزائل بھی ایک نیا پراڈکٹ تھا، ایسے پراڈکٹ پاکستان خریدتا نہیں تھا بلکہ نمونہ کیلئے بطور کمیشن رکھ لیا کرتا،یہی وجہ تھی کہ امریکیوں کے اصرار کے باوجود ضیا الحق نے ان کو افغانیوں سے ڈائریکٹ ڈیل کی اجازت نہیں دی تھی بلکہ لایاجانیوالا جدید اسلحہ پہلے اسلام آباد کے مضافات اوجھڑی کیمپ میں ڈمپ کیا جاتا پھر وہاںسے بہ کفایت آگے ترسیل ہوتی، امریکا کو سب خبر تھی مگر مصلحتاخاموش رہا۔جونہی جنیوا معاہدہ ہوا تو انہوں نے گن گن کر بدلا لینے کی ٹھانی، پس 10 اپریل 1988 کو اوجھڑی کیمپ کا اسلحہ خانہ پھٹ گیا۔ میزائل دور دور جاگرے حتی کہ وفاقی وزیر خاقان عباسی مری سے آتے ہوئے کار پر میزائل لگنے سے جاں بحق ہوگئے ۔
واقعہ کے دودن بعد اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے لیفٹیننٹ جنرل عمران اللہ خان کی سربراہی میں ایک دو رکنی کمیشن قائم کیا جسے اسلحہ ڈپو میں آگ لگنے کے اسباب اور ذمہ دار ان کا تعین کرکے10دن میں رپورٹ پیش کرنا تھی۔کمیشن نے اپنی رپورٹ 22 اپریل 1988 کو پیش کر دی مگر یہ رپورٹ کبھی عوام کے سامنے آئی نہ ہی قومی اسمبلی کے ریکارڈ پر ۔ بعدازاں5 ارکان پر مشتمل ایک وزارتی کمیٹی قائم کی گئی جس نے رپورٹ کا جائزہ لیکر اس پر عملدرآمد کے لیے سفارشات تیارکرنا تھیں، اس کمیٹی کے چیئرمین اسلم خٹک تھے ۔جب کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات جنرل ضیا الحق تک پہنچے تو انہوں نے اپنے فوجی رفقا کی حمایت کا فیصلہ کیا اور بہت ہی کم عرصے میں وزیراعظم جونیجو کو( جو سانحہ کے ذمہ داروں کیخلاف تادیبی کارروائی کے حامی تھے) گھر بھیج دیا۔
ٹی وی پر جنرل ضیا نے باقاعدہ رومال نکال کراپنے آنسو پونچھے کہ سیاسی حکومت، کرپٹ اوراسلام بیزارہے،گویا محمد خان جونیجو کی برطرفی بھی بلاواسطہ اسی سانحہ کا شاخسانہ تھی۔یہ مفروضہ مستند مانا جاتا ہے کہ امریکی حکام اوجھڑی کیمپ میں رکھے اسلحے کا حساب کتاب کرنے آ رہے تھے۔ بجائے انہیں حساب دینے کے ہمارے کچھ اپنوں نے اس کیمپ میں دھماکہ کروا دیا اور بات آئی گئی ہوگئی۔اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر بیگم کلثوم سیف اللہ کا ایک بیان ریکارڈ پر ہے کہ جنرل ضیا نے اوجھڑی کیمپ میں آگ لگوائی کیونکہ امریکا کے دیے ہوئے اسٹنگر میزائلوں کا ریکارڈ ضائع کرنا تھا۔یہ بات بھی قرین از قیاس ہے کہ رات کے پچھلے پہر امریکا کا ایک ہوائی جہاز بغیر شیڈول کے پاکستان پہنچا تھا، جس سے کچھ اسلحہ رات کی تاریکی میں اوجھڑی کیمپ پہنچایا گیا تھا۔ اس رات کے اگلے دن ہی صبح دھماکا ہو گیا ، امریکا کی سوچی سمجھی سازش تھی تاکہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام جاری رکھنے سے روکا جا ئے۔واقعے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ امریکی صحافی بروس ریڈل نے کچھ عرصہ قبل نئے انکشافات کیے۔ بروس ریڈل کئی برس تک امریکی قومی سلامتی کے اداروں کیلئے کام اور4 امریکی صدور کیساتھ مشرق وسطی اور جنونی ایشیا کے معاملات پر معاون خصوصی بھی رہے۔وہ اپنی کتاب Avoiding Armageddon میں لکھتے ہیں، 2012 میں مجھے ہندوستان کے دو سابق فوجی افسروں نے بتایا کہ ان کے جاسوس ادارے نے اوجھڑی کیمپ کو تخریب کاری سے تباہ کیا تھا تاکہ پاکستان کو کشمیری اور سکھ باغیوں کی مدد کرنے کی سزا دی جاسکے۔چنانچہ اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ اس سیاہ واقعہ کے پس منظر بھارت کی پاکستان دشمنی بھی کارفرما ہو سکتی ہے جسے کبھی کسی موقع پر زیر بحث نہیں لایا جاتا۔سانحہ کے پیش منظر میں کچھ روایات اس طرح سے ملتی ہیں کہ دھماکوں کے بعد بھی کیمپ میں کچھ رہ جانے والے میزائل موجود تھے جو ذرا سی چھیڑ چھاڑ سے تباہی مچا سکتے تھے ،امریکہ چونکہ ہمارے ہر مشکل وقت کا ساتھی تھا لہذا انہوںنے اوجڑی کیمپ کی صفائی کیلئے فورا تکینکی امداد فراہم کرنے کی آفر دی، صرف ضروری سامان کے اخراجات طلب کیے ،مثلا 300ٹیکنیشنز کیلئے مخصوص لباس تقریبا 60 ہزار ڈالر فی کس،یقینا اس پیش کش کا مقصد جاسوسی رہا ہوگا ۔اس زمانے میں ملٹری انجینئرنگ کے ڈائریکٹر میجر جنرل جاوید ناصر تھے ۔ انہوں نے یہ کام خود کرنے کی آفر کی لیکن جنرل ضیا کو مالی سے زیادہ جانی نقصان کا اندیشہ تھا تو منع کردیا۔ جب امریکی پلان پیش ہوا جس میں، حفظ ماتقدم کے تحت پورے پنڈی اسلام آباد کی آبادی کو 6 ماہ کیلئے کہیں اورشفٹ کرنے کی تجویز بھی تھی تو دوبارہ جنرل جاوید ناصر کو بلاکر یہ کام ان کے ذمہ لگا دیاگیا۔جنرل نے اپنی ٹیم کے جوانوں کو باور کرایا کہ وہ کس قدر خطرناک کام کیلئے میدان میں اتررہے ہیں،انہوں نے پلان پیش کیا کہ ہر آدمی صبح نمازجماعت سے پڑھے گا اورروزہ رکھ کر آئیگا اور جب کام شروع ہوا تو امریکی ماہرین بھی دیکھنے آئیسانحہ اوجھڑی کیمپ کے اصل حقائق تو شاید کبھی منظر عام پر نہ آسکیں,راولپنڈی ریلوے کیرج فیکٹری کالونی کے رہائشی اظہر علی مکان نمبر69اے پر بھی ایک میزائل تین بڑی دیواروں کو توڑتاہوئے کچن میں سوئی گیس کے چولہے پر آن گرا مگر خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہ ہوا تاہم لوگ ادھر ادھر محفوظ مقامات کی جانب بھاگ رہے تھے سانحہ کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس وقت جو بچے بچیاں گم ہوئے ان کے والدین آج بھی انہیں یاد کر کے اشک با ہوجاتیراولپنڈی کے رہائشی ثریا منیر کی عمر اس واقعے کے وقت 13 سال تھی اور وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ خیابان سرسید میں رہائش پذیر تھیں۔ثریا منیر کہتی ہیں اس روز سکول میں ٹیسٹ تھا اور میں اپنی کزن کے ساتھ سکول جانے کے لیے قریب ہی اپنی چچی کے گھر گئی۔ اس وقت وہ واشنگ مشین پر کپڑے دھو رہی تھیں۔ میرے داخل ہونے کے کے چند منٹ بعد زوردار دھماکہ ہوا کہ واشنگ مشین بھی اچھل گئی۔ ہم سب چیخ پڑے، پھر ہر طرف سے چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ خیابان سرسید سے نالہ لئی کے دوسری جانب کٹاریاں کی آبادی اور کے ساتھ اوجڑی کیمپ ہے۔ ہم نے اوجڑی کیمپ سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے اور پھر مسلسل دھماکے سنائی دینے لگے، اس کے فوری بعد فضا میں راکٹ برسنے لگے، بھگدڑ مچی ہوئی تھی، ہر کوئی چیخ رہا تھا کہ بھارت نے فضائی حملہ کر دیا ہے۔وہ بتاتی ہیں: ہمارے سمیت تمام لوگ مرد اور خواتین گھر بار کھلے چھوڑ کر بنگش کالونی کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ عورتوں کے پاں میں جوتے اور سروں پر دوپٹے نہیں تھے۔ کسی کو اپنے بچوں کا بھی خیال نہ تھا۔ یوں کہیں کہ قیامت کا منظر تھا اور ہر کوئی صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں تھا۔ میں کبھی سوچتی ہوں تو دعا کرتی ہوں کہ خدا اب ایسا منظر زندگی میں نہ دکھائیاس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق منی اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے کویت میں تھے اور یہ کانفرنس اسی روز شروع ہونے والی تھی جبکہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کراچی میں تھے۔جنرل ضیا الحق نے فوری پر وزیر اعظم محمد خان جونیجو سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور صورتحال سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے ہدایات بھی جاری کیں۔اتوار کی شام وزیر اعظم محمد خان جونیجو کراچی سے لاہور پہنچ گئے۔ چکلالہ ایئر پورٹ کے وی آئی پی لانج میں انھوں نے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی، انھیں حادثے کے نقصانات اور اس کی تفصیلات پر متعلقہ حکام نے بریفنگ دی۔دس اپریل کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں انصاف و پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر وسیم سجاد نے اجلاس ملتوی ہونے سے قبل ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ فوج کے بارود کے ذخیرے میں اس وقت اتفاقیہ آگ لگ گئی، جب ایک ٹرک سے بارود کو سنبھالا جا رہا تھا۔ ٹرک میں آگ بھڑکی تو اس نے پورے ذخیرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس واقعے میں 58 سے زائد افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہو گئے۔ موقع پر موجود جوانوں نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی مگر وہ کوششیں بے سود رہیں اور نتیجے میں بہت سارے دھماکے ہوئے بعض راکٹ وغیرہ جڑوان شہروں کے کئی علاقوں میں جا گرے جس سے بھگدڑ مچ گئی اور جانی و مالی نقصان ہوا۔آتشزدگی کی وجہ معلوم کرنے کے لیے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔یہ پہلا سرکاری اعلان تھا جس میں باقاعدہ طور پر اوجڑی کیمپ کے حادثے کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا۔11 اپریل کو کویت سے واپس پہنچنے کے بعد صدر جنرل ضیا الحق نے جائے وقوعہ کے دورے اور متاثرین سے ملاقاتوں کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دیا جا چکا ہے، آیا یہ واقعہ تھا، حادثہ تھا یا غفلت کا نتیجہ تھا یا سبوتاژ تھا۔جنرل ضیا الحق نے کہا کہ انکوائری رپورٹ کو لازمی مشہتر کیا جائے گا کیونکہ موجودہ حکومت عوام سے کچھ نہیں چھپانا چاہتی۔ انھوں نے کہا کہ مسلح افواج اپنی روایات کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف ضرور کارروائی کریں گی ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اتنا گولہ بارود گنجان آباد علاقے میں کیوں رکھا گیا اس بارے میں عرض ہے کہ اوجڑی کیمپ قیام پاکستان سے قبل کا ہے وہاں اسی زمانے سے فوجی یونٹیں رہتی ہیں انھوں نے کہا کہ جہاں بھی افواج پاکستان کی کوئی تنصیبات ہوتی ہیں وہاں پوری احتیاطی تدابیر کی جاتی ہیں، اب یہ انکوائری کیمشن طے کرے گا کہ سانحہ تخریب کاری سے ہوا یا غفلت اور لاپرواہی سے ہوا۔جنرل ضیا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ افواہ کہ کیمپ میں ذخیرہ شدہ ہتھیار افغان مجاہدین کو دیے جانے تھے محض افواہ اور قیاس ہے۔دلچسپ پہلو یہ ہے کہ صدر جنرل ضیا الحق نے اپنی پریس کانفرنس میں جس انکوائری کمیشن کا حوالہ دیا ہے وہ کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل عمران اللہ کی سربراہی میں فوجی افسروں پر مشتمل تھا جو کہ فوج اپنی انٹرنل انکوائری تھی لیکن پھر ایک بڑی پیش رفت ہوئی جس نے مستقبل کا منظر ہی بدل ڈالا۔12 اپریل کو وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر مواصلات محمد اسلم خان خٹک کی سربراہی میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی۔میٹی کے ذمے اوجڑی کیمپ کے حادثے کی وجوہات، کوتاہیوں کا پتہ لگانے اور کوئی ایمرجنسی پلان اگر موجود تھا تو اس پر عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا، ان امور کی انکوائری کرنے کے لیے وزیر مواصلات اسلم خٹک کی سربراہی میں قائم کی گئی خصوصی کمیٹی میں وزیر اطلاعات قاضی عبدالمجید عابد، وزیر داخلہ نسیم احمد آہیر، وزیر مملکت میر ابراہیم بلوچ اور دفاع کے وزیر مملکت رانا نعیم محمود شامل تھے۔کمیٹی کے قیام کے بعد اسی روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت رانا نعیم محمود نے واقعے کے حوالے سے جاری بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ میں تحقیقات کی ذمہ داری لیتا ہوں، یہ کمیٹی سات سے دس روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس دوران ایوان کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع کو تحقیقاتی کمیٹی کے کام سے آگاہ رکھا جائے گا اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھا جائے گا۔اسی شام سینیٹ کے اجلاس میں رانا نعیم محمود نے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل عمران اللہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کا بھی حوالے دیا اور کہا کہ کور کمانڈر کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹی سانحہ اوجڑی کیمپ کے تمام محرکات کا جائزہ لے گی، جس میں تخریب کاری بھی شامل ہے کیونکہ ہم اس حادثے میں تخریب کاری کے امکانات نظر انداز نہیں کر سکتیصدر جنرل ضیا الحق کے چیف آف سٹاف کے طور پر طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے اور بری فوج کے سابق وائس چیف آف سٹاف جنرل خالد محمود عارف اپنی کتاب ورکنگ ود ضیا میں لکھتے ہیں کہ اس بد قسمت صبح جب کچھ غیر تربیت یافتہ اہلکار ایمونیشن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے تو حادثہ رونما ہو گیا۔ہوا یوں کہ 122 ملی میٹر کے راکٹس سے بھرا ایک باکس جس کو انبار سے سلائیڈ کر کے اتارا جا رہا تھا، نیچے گر گیا، ایک دھماکے کے ساتھ زمین سے ٹکرانے کے باعث یہ باکس پھٹ گیا۔ اس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔جنرل خالد محمود عارف لکھتے ہیں کہ عام طور پر ایسے راکٹس میں سیفٹی فیوز لگے ہوتے ہیں لیکن ان راکٹس میں سیفٹی فیوز نہیں تھا اور زمین کے ساتھ زوردار ٹکر سے یہ راکٹ دھماکے سے پھٹ گیا اور یہیں سے پھر دھماکوں اور آتش و آہن کا سلسلہ چل نکلا۔آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ اس وقت ہوا جب افغانستان میں قیام امن کے معاملات حتمی شکل اختیار کر رہے تھے اور یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ ان مزید جنگ و جدل نہیں ہو گا تو اس مرحلے پر امریکیوں کو یہ فکر لاحق ہوئی کی طویل عرصے تک جاری رکھی جانے والی جنگ کے لیے انھوں نے اسلحہ کے انبار پاکستان میں لگائے تھے، جو یہاں سے افغانستان منتقل کیے جا رہے تھے.لیکن جنگ کے خاتمے کی صورت میں ظاہر ہے اس اسلحے کی یہاں سے دوبارہ امریکہ منتقلی ممکن نہیں تھی کیونکہ یہ سارا اسلحہ براہِ راست امریکہ سے یہاں نہیں پہنچا تھا بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے امریکی وینڈرز (اسلحے کے تاجر) نے امریکی ادائیگی پر یہ اسلحہ یہاں تک پہنچایا تھا۔جنرل حمید گل کہتے ہیں کہ ان میں مصر بھی شامل تھا جہاں کی اسلحہ ساز فیکٹری سے یہ اسلحہ پاکستان پہنچایا جاتا تھا۔جنرل حمید گل کا کہنا تھا کہ جن دنوں افغان جنگ سمٹ رہی تھی انھی دنوں میں اسلحے کی کچھ پیٹیاں مصر سے پاکستان پہنچی تھیں۔ جنرل حمید گل کا کہنا تھا کہ انھی پیٹیوں میں وہ آتشگیر مادہ تھا، جس نے سپارک کیا ور اوجڑی کیمپ کے حادثے کا باعث بن گیا۔جنرل حمید گل نے سٹنگر میزائلز کے حوالے سے واضح طور پر کہا کہ کوئی میزائل کسی تیسرے ملک کو نہیں دیا گیا۔ یہ انھی مقاصد کے لیے استعمال ہوا جس مقصد کے لیے دیا گیا تھادس اپریل 1988 کو اوجڑی کیمپ میں لگنے والی حادثاتی آگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی ٹائمنگ بہت اہم ہے اور اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے ٹھیک چار روز بعد افغان مزاحمت کاروں اور سوویت یونین کے درمیان جنیوا میں معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت سوویت فوجیں افغانستان چھوڑنے پر آمادہ ہو گئی تھی جنیوا معاہدہ اور اوجڑی کیمپ کی رپورٹ پر بلاامتیاز عملدرآمد جیسے معاملات تھے جن کو ہضم کرنا جنرل ضیا کے لیے آسان نہ تھا اور پھر ٹھیک ڈیڑھ ماہ بعد لاوا بہہ نکلا جس نے محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم ہاس سے نکال کر سندھڑی پہنچا دیا۔وقت اپنے بہا پر چلتا رہا اور 17 اگست 1988 کو جنرل ضیا الحق بھی جنرل اختر عبدالرحمان سمیت ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ یوں یہ سارا معاملہ پس منظر میں چلا گیا۔



