چینی شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو اس کی قیمت چکانی ہوگی

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کراچی یونی ورسٹی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں مرنے والے چینیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ حملے میں ملوث ملزمان کو یقینا اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ بدھ 27 اپریل کو جاری اپنے اہم بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی یونی ورسٹی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں مرنے والے چینیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ حملے میں ملوث ملزمان کو یقینا اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ منگل کو کراچی یونیورسٹی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی مسافر وین میں دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں تین چینی اساتذہ ہلاک، ایک چینی استاد زخمی اور متعدد پاکستانی زخمی ہوئے۔ چین نے حملے کی شدید مذمت اور شہریوں کی ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
بیان کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی چین کے معاون وزیر خارجہ وو جیانگ ہا نے چین میں پاکستانی سفیر کو فوری فون کر کے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان فوری طور پر واقعے کی مکمل تحقیقات کرائے ، قصورواروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لائے اور پاکستان میں چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔
یاد رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں منگل 26 اپریل کی دوپہر خودکش دھماکے میں تین چینی باشندوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
واقعہ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزرا کے ہمراہ اسلام آباد میں واقع چینی سفارت خانے پہنچے، ان کے ہمراہ احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، مریم اورنگزیب اور حنا ربانی کھر بھی تھیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے چینی باشندوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور سفارت خانے میں وزیٹر بک میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔وزیراعظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاک سرزمین کو ہر قسم کی دہشتگردی سے پاک کرنے کیلئے پرعزم ہیں، حملے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ چینی حکومت اور عوام سے کراچی واقعے پر تعزیت کرتے ہیں، متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے، چینی شہریوں کی پاکستان میں سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔
واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان تیزی سے وائرل ہوا، جس میں خاتون خود کش حملہ آور سے متعلق تفصیلات جاری کی گئیں۔
بال بیرنگ کا استعمال
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے سربراہ راجا عمر خطاب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خود کش حملہ تھا، جس میں دو خواتین سمیت تین غیرملکی اور ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ ایک خاتون نے کیا اور ایک علیحدگی پسند تنظیم کی اس کی ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے، باقاعدہ ریکی کے بعد اس جگہ پر نشانہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ کرنے کی وجہ سیکیورٹی ہے کیونکہ وین کے اندر موجود افراد کی سیکیورٹی کے لیے موٹر سائیکل سوار رینجرز اہلکار تعینات تھے، جس کی وجہ سے آئی ڈی لگانا مشکل تھا۔راجا عمر خطاب نے بتایا کہ بارودی مواد مقامی نہیں لگ رہا ہے، بال بیرنگ کا استعمال ہوا ہے اور اسکول بیگ کی طرح کے کسی چیز کے اندر آئی ڈی بنائی ہوئی تھی اور وہ پیچھے لگی ہوئی تھی، جس سے دھماکا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تفتیش کر رہے ہیں، فوٹیج اور دیگر چیزوں کا جائزہ لینے کے بعد باقاعدہ معلومات دیں گے۔