انتخابی اصلاحات پر تحریک انصاف کو بھی پارلیمنٹ میں آنے کی دعوت دیں گے ،فرح خان کے معاملے کو بھی دیکھ رہے ہیں
سعودی عرب اور چین کو ناراض کیا گیا ، دورہ سعودیہ سے بہت امیدیں ہیں ، یورپی یونین کی طرز پر مسلم امہ کو بھی ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے،صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد :وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی قوائد و ضوابط کے مطابق کریں گے ، نئے آرمی چیف کا تقرر وزیر اعظم کا اختیار ہے ، فوج کے خلاف بات کرنا سازش کے زمرے میں آتا ہے ، آئین اور قانون میں اس کی سخت سزا ہے ۔ دنیا نیوز کے مطابق وزیر اعظم ہائوس میں سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں بڑے واضح طور پر لکھا ہے کہ حکومت گرانے میں کوئی سازش نہیں ہوئی ، اس کے بعد اب کوئی ابہام نہیں رہ جاتا ، مداخلت کا سازش سے کیا تعلق ہے ، عمران خان 7 مارچ کو آنے والے خط پر 28 مارچ تک منہ پر تالے ڈالے کیوں بیٹھے رہے ، اگر کوئی سازش تھی تو پہلے ہی معاملہ کیوں نہیں اٹھایا لیکن جب انہیں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور اپنی شکست کا یقین ہوگیا تو سازش کا ڈرامہ رچادیا اس کے باوجود حکومت اس معاملے پر کمیشن بنانے کا سوچ سکتی ہے لیکن اس کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا جب فیصلہ ہوگا تو بتا دیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سڑکوں پر انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے ، انتقام ہماری ڈکشنری میں ہے نہ ہی اس کا ہمارے پاس وقت ہے لیکن قانون اپنا راستہ بنائے گا اور جو بھی قانون ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی ، فرح کے معاملے کو بھی دیکھ رہے ہیں ان پر جو الزامات ہیں ان کی تحقیقات کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا جب کہ انتخابات سے پہلے الیکشن اور دیگر ریفارمز ہوں گی ، الیکشن ریفارمز پر تحریک انصاف کو بھی دعوت دیں گے وہ پارلیمنٹ میں آئیں اور اس پر بات کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے آئینی اور قانونی جنگ لڑی ، جدوجہد کے نتیجہ میں پہلی بار حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ، سابق حکومت نے کرپشن اور ناتجربہ کاری سے معیشت پر کاری ضرب لگائی اور سفارت کاری کو بھی نقصان پہنچا ، معیشت کی حالت گھمبیر ہے وقت پر گیس نہ لینے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ،ہمارے صرف ایک انتظامی فیصلے سے چینی 70 روپے کلو اور آٹا بھی سستا ہوگیا جو کام عمران حکومت ساڑھے تین سال میں نہیں کر سکی ہم نے چند دن میں کر دیا ،چینی اور آٹا سستا ہونے میں حکومت کی سبسڈی شامل نہیں ،حکومت نے صرف رٹ دکھائی اور شوگر ملزمالکان 70 روپے ایکس ملز ریٹ پر چینی دینے پر تیار ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ روس سے 30 فیصد سستی گیس اور تیل لینے کی بات میرے علم نہیں ہے کہ ایسی کوئی بات چیت ہوئی ہے لیکن میں اسے بھی چیک کرائوں گا ، ماضی میں دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کئے گئے ، سعودی عرب اور چین کو ناراض کیا گیا ،اب دورہ سعودیہ سے بہت امیدیں ہیں ، یورپی یونین کی طرز پر مسلم امہ کو بھی ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے پھر ہی مسلم امہ کے مسائل حل ہو سکتے ہیں ، امریکہ سے بھی دشمنی ہمارے وارے میں نہیں ہے ، اس لیے دو طرفہ اچھے تعلقات ضروری ہیں۔

