سپریم کورٹ کے جسٹس کو حراساں کرنے پر پیر نقیب الرحمان کے صاحبزادے ساتھیوں سمیت گرفتار

والد کی جانب سے معافی نامہ کا اشتہار کئی اخبارات میں چھپوانے کے بعد جان بخشی ہوئی دو سماجی تنظیموں کو پانچ پانچ لاکھ ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑا


راولپنڈی: راولپنڈی کی عید گاہ شریف کے پیر محمد نقیب الرحمان نے اپنے بیٹے کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج سے بدسلوکی پر معافی مانگ لی ہے۔ کچھ روز قبل راولپنڈی کی عید گاہ شریف کے پیر محمد نقیب الرحمان کے صاحبزادے پیر حسان کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج طارق مسعود کے اہل خانہ کو لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے موٹروے پر ڈرایا دھمکایا گیا تھا اور ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
پیر محمد نقیب الرحمان کے بیٹے کی اس حرکت کے بعد پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے جسٹس طارق مسعود کی درخواست پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ جبکہ بعد ازاں پیر حسان اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے 20 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ مقدمہ گوجرانوالہ میں درج کرکے پیر حسان اور اس کے 5 ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس حوالے سے اب پیر محمد نقیب الرحمان نے اپنے بیٹے کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج سے معافی مانگ لی ہے۔ پیر محمد نقیب الرحمان نے جسٹس مسعود سے ملاقات کے بعد کئی مقامی و قومی اخبارات میں معافی نامہ شائع کروایا جبکہ 5، 5 لاکھ روپے کی رقم بطور ہرجانہ 2 فلاحی تنظیموں کو ادا بھی کیا۔