عمران خان اور مغرب،جسے سب سے زیادہ جاننے کا دعویٰ اس سے سیکھا کیا؟

رفعت عباسی سئنیر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ ن ڈسٹرکٹ راولپنڈی


سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اکثر کہتے ہے کہ وہ مغرب کو اپوزیشن سے زیادہ جانتے ہیں ہمارے سابق وزیراعظم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ماضی اور حال کے تمام مشاہیر میں سے پہلے شخص ہیں جو مغرب کو دوسروں سے زیادہ جاننے کا دعوی کرتے ہیںاِس سے پہلے یہ دعوی کسی نے نہیں کیا ۔
گاندہی اور نہرو دونوں نے تعلیم انگلستان میں حاصل کی مولانا محمد علی جوہر آکسفورڈ میں پڑھتے رہیے ان سے کسی نے پوچھا اتنی شئستہ اور رواں انگریزی کہا ںسے سیکھی ؟ کہنے لگے ایک چھوٹے سے گائوں سے ۔ پوچھنے والے نے حیران ہوکر گائوں کا نام پوچھا تو کہا آکسفورڈ قابلیت ایسی تھی کہ The Times The Observer Manchester Guardianمیں ان کے مضامین چھپتے تھے پھر انگریزی ہفت روزہ کامریڈ نکالا پہلی جنگِ عظیم چھِڑ چکی تھی انگریز ترکوں کے خلاف تھے مولانا نے کامریڈ میں وہ مضمون لکھا جو آج بھی شاہکار سمجھا جاتا ہے اِس کا عنوان تھا The Choice of the Turkf چالیس گھنٹے لکھتے رہے کمرے سے نہیں نکلے سگریٹ اور قہوے کے علاوہ کچھ نہ کھایا پیا مضمون چھپا تو انگریز سرکار نے مولانا کو گرفتار کرلیا اخبار بند کردیا گیا اور پرچہ ضبط ہوگیا
علامہ اقبال رحم اللہ علیہ انگلستان میں بھی پڑھے جرمنی میں بھی جرمن زبان بھی آتی تھی انگریز دانشوروں مستشرقین سے ذاتی روابط تھے۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح نے بھی لندن میں تعلیم حاصل کی کئی سال وہا ںقانون کی پریکٹس کی وہا ںکے حکومتی طبقاعت سے تعلقات بھی تھے اِن میں سے کسی نے یہ دعوی نہیں کیا وہ مغرب کو دوسروں کی نسبت زیادہ جانتے ہیں۔
خان صاحب کا قیام برطانیہ میں کھیلوں کے حوالے سے رہا کیا سیاستدانوں سیاسی پارٹیوں سے اہلِ دانش و علم سے بھی اِن کے روابط رہیں ؟ اِس بارے میں اطلاعات عنکا ہے ان کا یہ کہنا کہ رکنِ پارلیمنٹ کا ضمیر خریدنے کی کسِی میں ہمت نہیں بلکل درست ہے تاہم بہت سے اور بھی امور ہے جو مغرب میں نہیں ہوتے کیا مغرب میں حکمران اپنے گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر سرکاری خرچ پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے آتے ہیں ؟ کیا مغرب میں سیاسی پارٹیوں کے اندر انتخابات اِس طرح ہوتے ہے جیسے تحریکِ انصاف کے اندر ہوئے ؟ تسنیم نورانی کیو ںپارٹی چھوڑ کر چلے گئے ؟ کیا مغرب میں سیاسی جماعتوں کے قائدین 25 -25 سال پارٹی کی قیادت کرتے ہیں ؟ وہ بھی بغیر الیکشن کے؟ کیا مغرب میں ذاتی احباب کو بڑے بڑے سرکاری مناصب تفویض کیے جاتے ہیں ؟ کیا مغرب میں ایسا ہوتا ہے کہ پولیس کے
ضلعیِ سربراہ کو وزیرِ اعلی کے دفتر طلب کیا جائے مگر سوال جواب اس سے وزیر اعلی کی موجودگی میں کوئی غیر سیاسی شخصیت کرے ؟ کیا مغرب میں یہ ممکن ہے کہ حکمران ایک سب سے بڑے صوبے کی سربراہی ایک نسبتا گمنام شخصیت کو سونپ دیں اور سب جانتے ہو کہ حکمران اس گمنام شخصیت سے کوئی واقفیت نہیں تھی ؟ کیا مغرب میں یہ ممکن ہے کہ سرکاری خرچ پر بننے والے ہسپتال کا نام وزیرِ اعلی کے والد کے نام پر رکھ دیا جائے اور وزیر اعظم کی اِس غلط بخشی پر سکوت کریں ؟ کیا مغرب میں ایسا ہوتا ہے کہ چینی راتوں رات 55 سے 120 پر چلی جائے اور کسی زمہ دار کو پکڑا نہ جائے ؟ کیا مغرب میں ایسا ممکن ہے کہ آسامی مشتہر کی جائے 600 امیدواروں میں سے 18 چنے جائے اِن کے انٹرویوں لیے جائے مگر تعیناتی ایک گورنر کے سیکرٹری کی ہوجائے جس نے اس آسامی کیلیے درخواست دی تھی نہ انٹرویو ؟ کیا جنابِ وزیرِ اعظم نے اِس کا نوٹس لیا ؟کیونکہ یہ سارا معاملہ کِسی صوبے کا نہ تھا وفاق کا تھا کیا مغرب میں یہ ممکن ہے کہ عام آدمی کے گھر پلازے دوکانیںگرِا دی جائیںمگر حکمران کا گھر جو اسی نوعیت کا ہو Regularise کرکے بچا لیا جائے ؟ کیا مغرب میں ایسا ہوتا ہے کہ جِن عناصر کے بارے میں پہلے انتہائی بری رائے سرِ عام دی جائے انہی کو بعد میں بہت بڑے اور حساس مناصب پر فائز کر دیا جائے ؟
کیا مغرب میں ایسے ہوتا ہے قوم سی وعدہ کیا گیا تھا کہ کابینہ کے ارکان 17 سے زیادہ نہیں ہو گے حقیقت میں ان کی تعداد پچاس سے زیادہ تھی آج تک اِس کی توجہیح پیش کی گئی نہ قوم سے معذرت کی گئی کیا مغرب میں یہی ہوتا ہے خان صاحب کی حکومت نے ڈاکٹر عشرت حسین کو سوِل سروسز اصلاحات کے لیے مشیر تعینات کیا سب نے نشاندہی کی کہ یہ صاحب یہی چورن پچھلی حکومتوں کو بیچ چکے ہے اور اِس چورن کا کوئی فائدہ آج تک نہیں دیکھا گیا مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی یہ صاحب 3 سال تک سرکاری مہمان بن کر براجمان رہیں قوم کو نہیں معلوم یہ کتنے میں پڑے پھر انہیں اِس لیے فارغ کر دیا گیا کہ ابھی تک حاصل وصول اِن کی تعیناتی سے کچھ نہیں ہوا۔ قوم کو آج تک نہیں معلوم کہ انہوں نے 3 سال کے عرصہ میں کونسی اصلاحات پیش کی یا نافذ کیں انہوں نے کیا ڈلیور کیا ؟ وہ خان صاحب کو جِنوں پریوں کی کہانیاں سناتے رہیں ؟ ان کا کوئی حساب کتاب کوئی سزا ؟ کوئی سرزنش ؟ حکومت کا کوئی اعتراف کہ ان کی تعیناتی غلط تھی ؟ جنابِ خان صاحب مغرب کو بہتر جانتے ہیں کیا مغرب میں ایسے ہوتا ہے ؟ ( یہ سب تو مشتے نمونع از خروارے ہیں ) پوری دیگ ہی ایسے ہی چاولوں سے بھری ہے قومی جسم پورا زخموں سے چور ہے عہد شکنی اور نارواں اقدامات کا مکمل بیان ہو تو صفحوں کے صفحے سیاح ہوجائیں مگر یہ معاملات کس کے سامنے رکھے جائیں ؟