پاکستانی ڈاکٹر پیٹ کی بیماری کا چینی طریقہ سے علاج کا خواہاں

تجربہ گاہ میں امان (بائیں) اور ٹیم کی رکن کلچر میں تبدیلیوں کو جانچ رہے ہیں۔ (شِنہوا)

لان ژو (شِنہوا) پاکستانی امان خان ، چین کے شمال مغربی صوبہ گانسو میں واقع لان ژو یونیورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو ہیں۔ وہ چین میں کی گئی اپنی تحقیق کے اطلاق کے ساتھ گلوٹن جمع ہونے کا سبب بنے والی پیٹ کی بیماری سیلیئک کا علاج کرکے اپنے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔35
سالہ امان لان ژو یونیورسٹی کے اسکول آف لائف سائنسز میں تقریبا 7 برس سے زیرتعلیم ہیں۔ انہوں نے 2019 میں مائیکرو بائیو لوجی ریسرچ میں پی ایچ ڈی اور 2021 میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ مکمل کی۔لان ژو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر اور ان کے سپروائزر لی شیانگ کائی کی زیرنگرانی ایک ٹیم 2011 سے اسلام آباد میں قومی زرعی تحقیقی ادارے کو سائنسی اور تکنیکی تعاون فراہم کرکے بائیوماس توانائی، پائیدار زراعت کے شعبوں میں تربیتی پروگراموں اور کورسز کے ذریعے لان ژو یونیورسٹی کی کامیابیوں کو آگے بڑھارہی ہے۔اس طرح انہیں چین میں حصول تعلیم کا موقع ملا اور وہ سیلیئک بیماری کے علاج پر تحقیق میں مصروف ہیں۔امان کے مطابق سیلیئک بیماری دنیا بھر میں 4 سے 6 کروڑ افراد کو متاثر کرتی ہے۔ اپنے پوسٹ ڈاکٹریٹ پروجیکٹ میں وہ پاکستانی خمیر شدہ غذا سے پروبائیوٹک بیکٹیریل اجزا کو الگ کرکے سیلیئک بیماری پر قابو پانے کے لیے اس کے عملی اطلاق کی کوشش کررہے ہیں۔امان نے کہا کہ وہ پروبائیوٹکس کے لیے خمیر شدہ غذا کی اسکریننگ پر کام کرکے اس کو گلوٹین میں کمی کے لیے استعمال کررہے ہیں کیونکہ اس سے انسانوں میں سیلیئک بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس تحقیق پر ابتدائی کام کرلیا ہے اور اب اس کی عملی آزمائش چوہوں پر کرنا ہے جس کے لئے وہ درخواست دے چکے ہیں۔
سیلیئک بیماری آنتوں کی خرابیوں کا ایک گروپ ہے یہ ہاضمہ کی نالی میں سوزش کا سبب بنتی ہے جس سے پیٹ میں درد ، سختی، اور وزن میں ناقابل بیان کمی ہوتی ہے۔
امان چین کی جدید سائنس و ٹیکنالوجی سے بہت متاثر ہیں۔ وہ چین میں مزید تکنیک سیکھ سکتے اور ایسے آلات استعمال کرسکتے ہیں جو ان کی تحقیق کے معیار کو بہتر بنا سکے اور اسے تجارتی بنیادوں کی طرف لے جاسکے۔امان نے کہا "میری تحقیق بغیر کسی رکاوٹ ختم ہوتی ہے۔ میرے نگراں بہت معاونت کرتے ہیں، جس میں تحقیق کے مقاصد ترتیب اور لیبارٹری کا سامان مہیا کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ میری ٹیم کے ارکان مجھے تقویت دیتے ہیں جس سے مجھے بے پناہ طاقت ملتی ہے”۔
امان نے کہا کہ چین میں مقامی افراد میں گھل مل جانے کے ساتھ زندگی بہت آسان ہے۔ وہ لان ژو شہر کی کھانے پینے کی عادت میں ڈھل گئے ہیں کیونکہ وہاں انہیں جیسے مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ امان نے بتایا ” لان ژون یونیورسٹی نے مجھے ایک خودمختار اور مستقبل کے گروپ لیڈر کے طور پر اپنا مستقبل بنانے میں مدد دی ہے۔ میں یہاں ملازمت کی کوشش کروں گا، کیونکہ یہاں بہت سے مواقع ہیں۔”