عمران خان پاکستان کو بچانے کے لئے مارچ کی بجائے شیخ رشید کی خدمات سے استفاد ہ کریں

سیاسی رہنماء قوم کاباپ ہوتا ہے ، پاکستانی ہونے کے ناطے مریم صرف نوازشریف کی نہیں عمران خان کی بھی بیٹی ہیں
مذہب ،اخلاقیات ،روایات،معاشرہ اور دونوں کی عمروں کے درمیان فرق کا تقاضا بھی یہی ہے،کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
ریاست مدینہ کے دعویدار کو یاد رکھنا چاہیے کہ بیٹی اللہ کی رحمت ، جنت کے حصول اور آخرت میں رسول ۖ کی قربت کا ذریعہ ہے
خدا بیٹیاں انہیں دیتا ہے جن کا ظرف بھی بڑا ہوتا ہے عمران خان کے اس جلسے میں دیگر کے مقابلے میں صرف یہی ایک نئی بات تھی
محمد رضوان ملک


ملتان میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران جہاں عمران نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے عوام کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دینے کی حتمی تاریخ دینے سے گریز کیا وہیں انہوں نے عوام کو یہ بھی بتایا کہ وہ اس پر خوش ہیں کہ پی ڈی ایم اور خاص طور پر مسلم لیگ ن حکومت میں آنے کے بعد اپنی ناقص کارکردگی کے باعث عوا م میں تیزی سے غیر مقبول ہورہی ہے اور یہی تو وہ چاہتے تھے ۔ ملکی مسائل حل ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہورہا ہے ڈالر کی قدر بڑھ رہی ہے اور مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے اور میرے مخالفین ذلیل ہورہے ہیں ۔لیکن میرے پاکستانیوں مجھے اپنی نہیں آپ کی فکر ہے یہ نااہل حکومت آپ کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے اور آنے والے دنوں میںآپ کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے ۔آپ کی مشکلات کے پیش نظر میں اس حکومت کو گھر بھیج کر خود وزیراعظم بننا چاہتا ہوں ۔
تاہم اسی جلسے میں عمران خان کے ایک اہم ساتھی سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے عمران خان کویہ آفر دے ڈالی کے اگر وہ اجازت دیں تو میں اسی اسمبلی سے عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم منتخب کروا سکتا ہوں اگر ایسی صورت حال ہے تو عمران خان کو مشورہ ہے کہ اگر ان کا مقصد اس آسانی سے حل ہوسکتا ہے اور ان کی ترکش میں میر جعفر اور میر صاد ق جیسے غداروں کے علاوہ ایسے قابل لوگ ہیں تو وہ عوام کو کسی بھی مشکل میں ڈالنے سے پہلے ان کی خدمات سے استفادہ کریں ، تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے
پچھلے ایک مہینے سے ہونے والے عوامی اجتماعات میں عمران خان کے خطاب میںکوئی نئی بات نہیں ہوتی وہی امریکی مداخلت کا قصہ، چوروں ڈاکوئوں کا تسلط، ہم کوئی غلام ہیں اور میری جان کو خطرہ ہے ، پاکستان زیادہ اہم ہے میری جان نہیں ۔
تاہم ملتان کے جلسے میں انہوں نے آخر میں جہاں کوئی آزادی مارچ کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی وہیں انہوں نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نوازشریف جو ان کی بیٹی کی عمر کی ہیں ان پر ایک گھٹیا الزام تراشی بھی کردی اور بھرے جلسے میں یہ کہ دیا کہ مریم نواز میرا نام بڑے جنون سے لیتی ہیں وہ مجھے میں ایسی دلچسپی نہ لیں کہیں ان کے خاوند ہی ناراض نہ ہوجائیں ۔
عمران خان کے اس بیان کی جہاں پی ڈی ایم کے سیاسی رہنمائوںاور مسلم لیگ ن نے مذمت کی وہیں معاشرے کے دیگر طبقوں نے بھی اسے ناپسندیدہ قراردیا ۔ بالخصوص خواتین کے اداروں نے اس کا بر منایا۔
کاش عمران خان جوش خطابت میں اس بات کا دھیان رکھتے کہ سیاسی رہنماء نہ صرف قوم کا رہبر بلکہ قوم کاباپ بھی ہوتا ہے ، پاکستانی ہونے کے ناطے مریم صرف نوازشریف کی نہیں عمران خان کی بھی بیٹی ہیں
مذہب ،اخلاقیات ،روایات،معاشرہ اور دونوں کی عمروں کے درمیان فرق کا تقاضا بھی یہی ہیمریم نواز پر اس قدر گھٹیا جملے کستے ہوئے عمران کو جلسے میں موجود ان بیٹیوں کا بھی خیال نہ آیا جو میلوں کاسفر طے کر کے اپنے لیڈر کی ایک جھلک اور آواز سننے کے لئے ملتان آئی تھیں۔
ریاست مدینہ کے دعویدار کو یاد رکھنا چاہیے کہ بیٹی اللہ کی رحمت ، جنت کے حصول اور آخرت میں رسول ۖ کی قربت کا ذریعہ ہے ۔نبی کریم ۖ کا ارشاد ہے کہ بیٹی اللہ کی رحمت ہے انہوں نے کہا جو بیٹوں کی اچھی طرح پرورش کرے اور ان کی شادیاں کرادے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
خدا بیٹیاں انہیں دیتا ہے جن کا ظرف بھی بڑا ہوتا ہے عمران خان کے اس جلسے میں دیگر کے مقابلے میں صرف یہی ایک نئی بات تھی اور وہ بھی انتہائی قابل اعتراض تھی۔ سیاست میں اخلاقیات کا دامن چھوڑنے کی کوئی مذہب اور نہ معاشرہ اجازت دیتا ہے۔