کوئٹہ میں ایلیٹ فورس کے ٹرک پر بم حملہ اور فائرنگ سے 8 افراد شہیداور 20سے زائد زخمی

کوئٹہ میں ایلیٹ فورس کے ٹرک پر بم حملے اور دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس انسپکٹر سمیت 8 افراد شہیداور 20سے زائد زخمی ہوگئے۔

کوئٹہ کے نواحی علاقےنیوسریاب میں بم دھماکا ہوا، جس میں پولیس کی ایلیٹ فورس کےٹرک کونشانہ بنایاگیا، دھماکے کے نتیجے میں ٹرک میں سوار پانچ پولیس اہلکاروں سمیت افرادشہید اور24زخمی ہوگئے۔

دھماکے سے پولیس کا ٹرک تباہ ہوگیا جبکہ دھماکے کی زد میں آکر ایک گاڑی اور موٹرسائیکل بھی تباہ ہوئی، پولیس تفتیش کاروں کےمطابق دھماکے کی نوعیت کاتاحال تعین نہیں کیا جاسکا، تاہم تفتیش جاری ہے۔

ڈائریکٹرسول ڈیفنس اسلم ترین کےمطابق نیوسریاب کےعلاقے میں دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیارکرلی گئی ہے،شواہدسےدکھائی دیتاہےکہ دھماکہ خود کش تھا، جس میں خودکش حملہ آورنےگاڑی استعمال کی اورپولیس ایلیٹ فورس کےٹرک سےٹکرائی۔

دھماکےکےبعد ریسکیو ٹیمیں،صوبائی وزیرداخلہ میرسرفرازبگٹی، ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ،ایف سی حکام اور دیگرمتعلقہ اداروں کےحکام موقع پر پہنچ گئے۔

دوسری جانب دھماکےمیں جاں بحق افرادکی لاشیں اور زخمیوں کو سول اسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کردیاگیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

اسپتال ذرائع کے مطابق 13 زخمیوں کو سی ایم ایچ ،10 کو سول اورایک کو بی ایم سی اسپتال منتقل کیاگیاجہاں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

گورنراوروزیراعلی بلوچستان نے کوئٹہ دھماکے کی شدیدمذمت کی ہے۔

سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے جاں بحق افراد کےلواحقین سےاظہار تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کی۔

گورنربلوچستان محمدخان اچکزئی نے بھی کوئٹہ دھماکےکی مذمت اور زخمیوں کوبہترین طبی امدادکی فراہمی کی ہدایت کی۔

ذرائع کے مطابق پولیس افسر کی شناخت عبدالسلام کے نام سے ہوئی ہے جو کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ میں تعینات تھا۔

پولیس افسر کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جب کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنےو الے اداروں کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ 6 روز کے دوران کوئٹہ میں پولیس پر حملےکا یہ دوسرا واقعہ ہے، اس سے قبل 13 اکتوبر کو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے ایک اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔