حکومت بہتر طور پر جانتی ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز اور اس سے منسلک افراد اس وقت کتنی مشکل صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں،ملک اصغر علی

اٹک(نامہ نگار) پٹرولیم ڈیلرز کا کمیشن نہ بڑھانے کی صورت میں پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن پٹرول پمپس احتجاجا بند کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ حکومت پٹرولیم ڈیلرز کی مسائل کا ادراک کرے۔ ضلع بھر کے پٹرول پمپس مالکان چیئرمین پی پی ڈی اے عبدالسمیع خان اور ضلعی صدر اٹک حاجی ملک ریاست خان سدریال کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی حکم پر لبیک کہتے ہوئے فوری طور پر تمام پمپس بند کر دیں گے۔ پٹرول پمپس کو چار روپے فی لٹر سے کم کمیشن دیا جا رہا ہے جبکہ فی لٹر اخراجات کمیشن سے زائد ہیں۔ پٹرول پمپس مالکان کو پٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر، سرمایہ اور پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو کے تناظر میں، نقصان میں جا رہے ہیں جو قطعا ناقابل برداشت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ضلعی سیکرٹری انفارمیشن پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اٹک ملک اصغر علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بہتر طور پر جانتی ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز اور اس سے منسلک افراد اس وقت کتنی مشکل صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ پٹرولیم ڈیلرز کو نظر انداز کرنا کسی مخصوص طبقے کو نہیں بلکہ ملک بھر کے ہزاروں گھرانوں کو نظر انداز کرنا اور ان کو درپیش مسائل سے چشم پوشی ہے۔ اگر حکومت پاکستان نے سراحت سے اقدامات نہ کیے تو پیڑولیم ڈیلز ایسوسی ایشن اٹک، وفاقی ایسوسی ایشن کی کال پر باقی ریجنز کی طرح ضلع اٹک کے تقریبا ڈیڑھ سو پٹرول پمس بند کرنے پر مجبور ہو گی حکمران ہوش کے ناخن لیں اور اس انڈسڑی کو تباہی سے بچائیں۔ ملک اصغر علی نے مزید بتایا کہ سابق حکومت نے کم از کم 6 فیصد کمیشن کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب موجودہ حکومت اس وعدے کو فل فور پورے کرے۔ بجلی کے بلوں، ٹرانسپورٹیشن کے کرایوں اور بے تحاشہ ٹیکسز کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھے فی صد کمیشن لازم ہے۔ پٹرول پمپ مالکان اس وقت سرمایہ کے بحران کا شکار ہیں اور حکومت سے فوری مداوے کے طلب گار ہیں ۔ بصورتِ دیگر پٹرول پمپس بند کر دینے پر مجبور ہو جائیں جائیں گے۔ ملک اصغر علی سیکرٹری اطلاعات نے مزید کہا کہ ہمیں عوامی مشکلات کا احساس ہے اور عوام کو قطعا پریشان نہیں کرنا چاہتے لیکن بڑھتی ہوئی انوسٹمنٹ، مہنگائی اور معاشی صورتِ حال کو مدنظر پٹرولیم ڈیلرز کے کمیشن میں اضافہ میں تاخیر کرنا صریحا زیادتی ہے۔



