
اسلام آباد:پاکستان میں اس سال مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ خاص کر پاکستان کے معاشی حب کراچی کی حالت تو بہت ہی خراب ہے کئی دنوں کی بارش کے باعث بیشتر علاقوں میں پانی کھڑا ہے اور نظام زندگی درہم برہم ہو چکا ہے۔ جبکہ محکمہ موسمیات نے مون سون بارشوں سے متعلق نئی ایڈوائزری جاری کردی جس کے مطابق کراچی سمیت دیہی سندھ میں 14سے 18 جولائی تک موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری تازہ ترین ایڈوائزری کے مطابق آج کراچی میں موسم جزوی طور پر ابرآلود رہنے کے ساتھ شام یا رات تک ہلکی بارش/ بوندا باندی کا امکان ہے۔
جمعرات کو کراچی میں موسم ابر آلود رہنے اور وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر موسلا دھار بارش بھی متوقع ہے۔جمعے کو موسم ابر آلود رہنے اور وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر تیز بارش ہوسکتی ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ مون سون کا ایک اور کم دبا کل سے سندھ پہنچنے کا امکان ہے جو کہ 18 جولائی تک برقرار رہے گا۔
اس موسمی نظام کے زیراثر 14 سے 18 جولائی کے دوران کراچی، حیدرآباد، ٹھٹہ، بدین، میرپور خاص، عمرکوٹ، تھرپارکر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، نواب شاہ، نوشہروفیروزپور، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، قمبر، شہداد کوٹ، دادو، جامشورو، شکارپور، گھوٹکی اور کشمور اضلاع میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ اکثر مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
اس دوران کراچی، حیدر آباد، ٹھٹہ، بدین، میرپور خاص، عمر کوٹ، داددو، جامشورو، نواب شاہ، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر کے اضلاع میں شدید بارشوں سے اربن فلڈنگ/نشیبی علاقے زیر آب آسکتے ہیں۔
تیز بارش کے باعث کیرتھر رینج کے پہاڑی علاقوں اور ملحقہ آبادیوں کے ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے، کم دبا کے باعث سمندر کی طغیانی میں 15 سے 17 جولائی کے دوران شدت آسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں تمام متعلقہ حکام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔
علاوہ ازیں وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی وزیر شیری رحمن نے بھی ٹوئٹر پر بارش سے متعلق اپ ڈیٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اور بلوچستان اب بھی گزشتہ 13 روز سے مون سون کے شدید دبائو میں ہیں جوکہ سندھ میں 30 سالہ اوسط سے 625 فیصد زیادہ اور بلوچستان میں 501 فیصد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ موسمیات نے اب کل سے شروع ہونے والی مزید موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، ایک بار پھر زیادہ تر بارشوں کا مرکز سندھ اور بلوچستان کے علاقے ہوں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ 3 روز عید الاضحی پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے کم از کم 27 افراد کی جان لے لی۔
اگرچہ مون سون کا پہلا اسپیل کل ختم ہوچکا ہے تاہم محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا دوسرا اسپیل کل جمعرات سے شروع ہوگا اور اتوار تک جاری رہ سکتا ہے۔
بارشوں کے معمول سے زائد ہونے کی وجوہات
محکمہ موسمیات ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق جنوبی ایشیا کی مون سون بارشیں مقامی موسمی صورتحال کے زیر اثر نہیں بلکہ عالمی موسمی صورتحال کے زیر اثر ہوتی ہیں، اس کی متعدد اور بالخصوص دو وجوہات ہو سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر بحر الکاہل کا درجہ حرارت معمول سے کم ہو تو جنوبی ایشیا میں بارشیں اوسط سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اس وقت بحر الکاہل کا درجہ حرارت معمول سے کم چل رہا ہے۔ اسی طرح بحرِ ہند کا درجہ حرارت بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ وہاں پر اگر درجہ حرارت معمول پر ہو تو بارشیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اس وقت وہاں پر درجہ حرارت معمول پر ہے۔ڈاکٹر سردار سرفراز کہتے ہیں کہ یہ دو عوامل اور دیگر عوامل کو بھی دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ مون سون کے دوران زیادہ بارشوں کی توقع ہے۔
بارش
چوہدری محمد اسلم کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کا موسم ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے۔ مون سون بارشیں پہلے انڈیا میں ہوتی ہیں اور وہاں سے پاکستان پہنچتی ہیں۔ اس وقت انڈیا میں بارشیں ہو رہی ہیں جبکہ سردیوں میں پہلے بارشیں پاکستان میں ہوتی ہیں اور پھر انڈیا پہنچتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شہروں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات تو موجود ہیں مگر فی الحال اس سپیل اور ان دونوں میں دریائوں میں کسی سیلاب کا خدشہ موجود نہیں ہے، بلکہ اس سے پانی کی صورتحال میں بہتری کے علاوہ فصلوں پر اچھے اثرات ہو سکتے ہیں۔
پانی کے ذخائر اور چاول کی فصل
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے ترجمان محمد خالد ادریس رانا کے مطابق پری مون سون بارشوں سے پانی کے ذخائر پر زیادہ بہتری کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے تاہم حالیہ دونوں میں درجہ حرارت بڑھنے سے بہتری پیدا ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سکردو میں درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق اس درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے کی وجہ سے پانی زیادہ ملتا ہے، جس سے پانی کے ذخائر جن میں مجموعی طور پر 46 فیصد تک کمی تھی، اس وقت کم ہو کر 20 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔انھوں نے توقع ظاہر کی کہ مون سون بارشوں کے دوران مزید بہتری ہو گی۔
چوہدری محمد اسلم کے مطابق حالیہ دن چاول کی فصل کے دن ہیں۔ اس وقت لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد ڈویژن کے علاوہ دیگر علاقوں میں چاول کی کاشت جاری ہے اور ان بارشوں سے اس فصل کو اچھا فائدہ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
شہروں میں اربن فلڈنگ کی ممکنہ صورتحال پر بھی آفات سے نمٹنے کا ذمہ دار ادارہ این ڈی ایم اے تیاری کرنے کے دعوے کر رہا ہے اور اس نے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور بر وقت و پیشگی اقدامات اٹھانے کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے تیاریاں
این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق تمام وفاقی، صوبائی وزارتوں، ان کے ماتحت متعلقہ اداروں بشمول صوبائی، گلگت بلتستان، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور بر وقت و پیشگی اقدامات اٹھانے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
بارش
پی ڈی ایم اے اور ڈی ڈی ایم اے کو تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہنے، ایمرجنسی مشینری و عملے کو تیار رکھنے کے ساتھ نشیبی علاقوں کے لیے ڈی واٹرنگ پمپس کی پیشگی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ موسم کی وجہ سے سیلابی پانی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
سب سے زیادہ خطرے کے شکار شہر کراچی کے ایڈمنسٹریٹر بیرسٹر مرتضی وہاب صدیقی اور ان کے ترجمان کے علاوہ کمشنر کراچی نے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اٹھانے جانے والے اقدامات پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
تاہم مختلف میڈیا اطلاعات کے مطابق کراچی میں خطرے کے شکار علاقوں میں گاڑیوں کو بچانے اور شہریوں کی مدد کے لیے پولیس، ٹریفک پولیس اور امدادی اداروں کی گاڑیاں کھڑی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جن میں امدادی کارکن 24 گھنٹے موجود رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔



