پاکستانی طلبا چین کے جنوبی صوبے میں انسداد وبا کی مہم میں پیش پیش

کشمالہ فضل، ماہ نور طارق اور حسیب الرحمان نے کئی دن تک ہائیکو میں انسداد وبا کی کوششوں میں مدد کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیں
چین سے محبت کرتی ہوں چینی دوستوں کی مدد کرنا خوابوں میں سے ایک تھا، کشمالہ فضل، چینی بھائیوں کے لئے رضاکارانہ کام کرنا پرلطف، ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں، حسیب

چینی صوبے ہائی نان کے صدرمقام ہائیکو میں پاکستانی طالبہ کشمالہ فاضل(بائیں)نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ سے پہلےمقامی افراد کے لیے کیو آر کوڈ سکین کرتے ہوئے۔(شِنہوا)


ہائیکو(شِنہوا) چین کے جنوبی صوبے ہائی نان کے صدر مقام ہائیکومیں حفاظتی لباس پہنے ہوئے پاکستان کے بین الاقوامی طلبا نے عمررسیدہ افراد کی نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ کے لیے کیو آر کوڈ سکین کرنے میں مدد کی۔صوبائی ہیلتھ کمیشن کے مطابق، ہائی نان میں یکم سے 17 اگست کے درمیان کوویڈ-19 کے 5ہزار794مصدقہ کیسز اور بغیر علامات کے 7ہزار969 کیسز کا اندراج کیا گیا ہے۔
وبا کی روک تھام کی کوششوں میں مدد کے لیے، مقامی حکومت نے رضاکاروں کو بھرتی کیا جن میں چین میں زیرتعلیم بین الاقوامی طلبا بھی شامل ہیں۔ انہیں نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹنگ کے لیے لوگوں کی مدد کا کام سونپا گیا ہے جس میں وہ صحت عامہ کی معلومات کے حصول کے لیے لوگوں کی کیو آر کوڈ سکین کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
ہائی نان میڈیکل یونیورسٹی میں کلینکل میڈیسن کے پاکستانی طلبا کشمالہ فضل، ماہ نور طارق اور حسیب الرحمان نے کئی دن تک ہائیکو میں انسداد وبا کی کوششوں میں مدد کرنے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دی ہیں۔ ک
شمالہ فضل پچھلے پانچ دنوں میں بہت مصروف رہی کیونکہ وہ چھ بار انسداد وبا کے لیے رضاکارانہ طور پر مدد کر چکی ہے۔ کشمالہ کا کہنا ہے کہ وہ چین سے محبت کرتی ہیں اور انہیں یہاں دوست ملے۔ چین کی مدد کرنا اس کے خوابوں میں سے ایک تھا۔کشمالہ نے مزید کہا کہ اگر ہم سب بشمول چینی اور تمام غیر ملکی کوویڈ کے خاتمے کے لیے چینی حکومت کے نافذ کردہ قوانین پر عمل کریں تو ہم سب جلد اس مشکل حالات سے نجات حاصل اور وائرس کو شکست دے سکتے ہیں۔

چین کے جنوبی صوبے ہائی نان کے صدرمقام ہائیکو میں پاکستانی رضاکار ماہ نور طارق (دائیں) نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ سے پہلے مقامی افراد کا جسمانی درجہ حرارت چیک کرتے ہوئے۔(شِنہوا)


ماہ نور نے نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹنگ کے لیے قطار میں کھڑے افراد سے کہا کہ وہ ایک دوسرے سے محفوظ فاصلہ رکھیں۔ماہ نور کا کہنا ہے کہ ہرجگہ پر لوگ رضاکارانہ طور پر مفت ٹیسٹ کرانے میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔اپنے ساتھیوں کی مدد کرنا کسی ملک کے لیے کامیابی کا بہترین طریقہ ہے اور میرے خیال میں چین نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ کوویڈ-19 پر قابو پانے کے لیے بہت موثر ہیں۔
حسیب الرحمان چین میں 3 سال سے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور وہ روانی سے چینی بولتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چین نے اس وقت ہمارے ملک کو بہت سارے میڈیکل ماسک اور ادویات دی جب ہمیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ اس لیے میں ہائیکو کے لیے کچھ رضاکارانہ کام کرنا چاہتا ہوں۔ ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں۔