دکھ اور بھوک کا کوئی مذہب ہیں ہوتا ،جہاں پائیں اس کو ختم یا کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں،مقامی افراد کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہمارا مشن ہے
حالیہ بارشیں اور سیلاب 2005 کے زلزلے سے بڑھ کر تباہ کن، جاوید صدیقی ،اکیس اضلاع میں ستر ہزار سے زائد افراد کو مشکل کی اس گھڑی میں ریلیف پہنائی جا چکی ہے۔محمد سلیم منصوری
جب انسانی جان کی قدر اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگی تو سب ٹھیک ہو جائے گا،ہیلپنگ ہینڈ اور راسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس

اسلام آباد( خصوصی نیوز رپورٹر) صدر اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ ڈاکٹر محسن انصاری نے کہا کہ ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ اور اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کے زیر انتظام سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے ساڑھے تین ارب روپے کے پراجیکٹ شروع کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت کئی ممالک ہیلپنگ ہینڈ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہیلپنگ ہینڈ بلا نسل ، ذات اور مذہب کے انسانیت کی یکساں مدد کر رہی ہے۔دکھ اور بھوک کا کوئی مذہب ہیں ہوتا ،جہاں پائیں اس کو ختم یا کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں،مقامی افراد کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہمارا مشن ہے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سی ای او ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ امریکہ جاوید صدیقی نے کہا کہ حالیہ بارشیں اور سیلاب 2005 کے زلزلے سے بڑھ کر تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ امریکہ میں انٹرنیشنل این جی اوز کو مانٹر کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہیلپنگ ہینڈ شفافیت کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے۔ ہیلپنگ ہینڈ پاکستان میں حکومتی اداروں کے ساتھ مشاورت سے بہترین کام کر رہی ہے۔
اس موقع پر کنٹری ڈائریکٹر ہیلپنگ ہینڈ پاکستان محمد سلیم منصوری نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے جہاں پورے پاکستان کواپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے اضلاع شامل ہیں۔ ان میں خاص طور پر وہ آبادیاں زیادہ متاثر ہوئی ہیں جو دریاوں کے گرد ونواح میں آباد تھیں۔ ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر در بدر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کئی علاقوں میں پانی کھڑا ہے۔ ان علاقوں میں نہ چولہا جلتا ہے نہ کھانا پکتا ہے۔ خواتین، بوڑھے اور بچے اس مصیبت میں سب سے زیادہ مبتلا ہیں۔ کئی افراد کی زندگی ابھی بھی خطرے میں ہے۔ بہت بری صورت حال ہے۔ لوگ بہت تکلیف دہ صورت حال میں زندہ ہیں۔ لوگوں کے گھر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا مال و متاع تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ ہمارے ڈونر کو ان برے حالات میں ان لوگوں کو ضرور سپورٹ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا مشکل کی اس گھڑی میں ہمیشہ کی طرح ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ نے بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے اکیس اضلاع میں اپنے ریلیف پراجیکٹس کا آغاز کر رکھاہے۔ اس وقت بلوچستان، سندھ، خیبرپختون خواہ سمیت ملک بھر میں ستر ہزار سے زائد افراد کو مشکل کی اس گھڑی میں ریلیف پہنائی جا چکی ہے۔ ریلیف کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔ خشک راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔ پکا ہوا کھانا گھر گھر پہنچایا جا رہا ہے۔
ہمارے ہیلتھ پروگرام کے تحت میڈیکل کیمپ کا آغاز ہو چکا ہے۔ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ کے تحت اس وقت جنوبی پنجاب میں فاضل پور، راجن پور، تونسہ شریف میں کام کر رہے ہیں۔ خیبر پختون خواہ میں چارسدہ، نوشہرہ، سوات، مالاکنڈ، کوہستان میں پراجیکٹ جاری ہیں، سندھ میں نواب شاہ، دادو، میرپور خاص، بدین ، سانگھڑ ،شہید بینظیر آباد، کشمور، کندھ کوٹ اور کراچی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کو جاری کیے ہوئے ہے۔ جبکہ بلوچستان میں لسہ بیلہ، نوشکی، لورالائی، کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، دکی اور جعفرآباد میں سیلاب متاثرین کے لیے امدادی کاروائیاں کر رہے ہیں۔




