چیف الیکشن کمشنر، ارکان اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

الیکشن کمیشن نے کرپشن اور دھاندلی کرنے والوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی، درخواست گزار


اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ، 2 ارکان نثار احمد درانی، شاہ محمد جتوئی اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے مارچ 2021 میں سینیٹ کے حوالے سے فیصلہ دیا تھا کہ الیکشن صاف شفاف ہونے چاہئیں اور ہر وہ راستہ اختیار کریں جس سے الیکشن میں شفافیت برقرار رہے، لیکن ایسا نہیں ہوا، لہذا ان سب افسران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
جوڈیشل ایکٹیوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ کمیشن نے الیکشن میں جدید ٹیکنالوجی ابھی تک استعمال نہیں کی، ووٹنگ کیلئے الیکٹرانک ٹیکنالوجی بھی شروع نہیں کی گئی، اس بابت کئی خطوط لکھے گئے مگر عمل درآمد نہ ہوا، جبکہ الیکشن میں کرپشن اور دھاندلی کرنے والوں کیخلاف بھی تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
قبل ازیں مئی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور ممبر سندھ نثار درانی کے خلاف ریفرنس لانے کا فیصلہ کر لیاہے۔
فواد چوہدری کا کہناتھا کہ ملک کا نظام متوازن کرنے کا کام اداروں کا ہوتا ہے اور بد قسمتی سے پاکستان میں سیاسی بحران چل رہا ہے جس کی وجہ الیکشن کمشن ہے، عمران خان اور پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشن پر اعتماد نہیں ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر ن لیگ میں عہدہ لے لیں اگر مناسب سمجھیں، یہ الیکشن کمشن پاکستان کی آبادی کا نمائندہ نہیں ہے اور پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اس بارے میں کہیں بار بول چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن کے خلاف قانونی کارروائی کرنے جا رہے ہیں، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس لانے کا فیصلہ کر رہے ہیں اور فیصل واوڈا ریفرنس دائر کریں گے۔ اوور سیز پاکستانیوں سے ووٹ چھینے کی کوشش کی جارہی ہے۔