سارہ قتل کیس: ملزم نے اپنا اورمقتولہ کا فون توڑ کر شواہد ضائع کرنے کی کوشش کی

پولیس نے جائے وقوعہ سے 6 موبائل فون برآمد کر لیے جن میں سے 5 موبائل ملزم شاہنواز امیر اور ایک موبائل فون سارہ انعام کا ہے


اسلام آباد:معروف صحافی ایاز امیر کے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہونے والی ان کی اہلیہ سارہ انعام کیس کی تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق پولیس نے جائے وقوعہ سے 6 موبائل فون برآمد کر لیے گئے ہیں جن میں سے 5 موبائل ملزم شاہنواز امیر اور ایک موبائل فون سارہ انعام کا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ ملزم نے ایک اپنا اور سارہ کا موبائل فون آلہ قتل سے توڑ دیا تھا، ملزم نے مقتولہ سے رابطے کیلئے استعمال موبائل فون توڑ کر شواہد ضائع کرنیکی کوشش کی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے 6 موبائل فون فارنزک کیلئے لیبارٹری بھجوا دیے اور فونز کا ڈیٹاریکور کرکے دونوں کے درمیان جھگڑے کی وجہ معلوم کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے مقتولہ کا کینیڈین پاسپورٹ بھی قینچی سے ٹکڑے کرکے ضائع کردیا تاہم مقتولہ کے پاسپورٹ کے کچھ ٹکڑے اور قینچی جائے وقوعہ سے ملی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ سارہ کیلئے خریدی گئی گاڑی قبضے میں لے کر تھانے منتقل کر دی گئی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے ایک موبائل فون سے والد سے رابطے میں رہا، پولیس کے پہنچنے سے پہلے ملزم نے کمرے میں موجود خون کپڑے سے صاف کیا اور لاش کو باتھ ٹب میں ڈال کر خون دھونے کی کوشش کی۔
پولیس کی ابتدائی تفیش کے مطابق سارہ کوڈمبل سے پہلے گلدان بھی ماراگیا۔
جمعے کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں سینیئر صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز نے اہلیہ سارہ کو قتل کر دیا تھا۔ ملزم کو ہفتے کے روز عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔اس کیس میں ان کے والدصحافی ایاز امیر بھی گرفتار ہیں جن کا ایک روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔
تیسری بیوی کو قتل کرنیوالے ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز نے اس سے قبل بھی دو شادیاں کیں لیکن انہوں نے ان دونوں کو چھوڑ دیا۔ملزم شاہنواز کی پہلی بیوی نے شادی کے چند دن بعد ہی علیحدگی اختیار کر لی تھی جبکہ شاہنواز کی دوسری بیوی بھی شادی کے 6 ماہ بعد اسے چھوڑ گئی تھی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ ملزم شاہنواز اور مقتولہ سارہ کا 18 جولائی کو چکوال میں نکاح ہوا تھا، ملزم شاہنواز کسی بھی قسم کا کاروبار یا نوکری نہیں کرتا تھا اور وراثتی دکانوں کے کرائے پر زندگی گزار رہا تھا۔ شاہنواز نے اے لیول میں مسلسل فیل ہونے پر تعلیم ادھوری چھوڑی تھی اور پہلی دو بیویوں کی ملزم شاہنواز کو چھوڑنے کی وجہ گھریلو ناچاکی اور لڑائی جھگڑے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ سارہ کے خاندان کو حال ہی میں اس کی شادی کا معلوم ہوا تھا، مقتولہ سارہ اور شاہنواز کی باضابطہ شادی اور رخصتی کی بات دونوں خاندانوں میں چل رہی تھی۔
مقتولہ سارہ کی تدفین تاحال نہیں ہوسکی ہے ان کی میت ان کے والد کے کینیڈا سے آنے تک پولی کلینک کے سرد خانے میں رہے گی۔