قبول اسلام کے بعد مرحوم کا مشن دنیا میں امن کے سفیر کے طور پر کام کرنا تھا اور وہ آخر تک اس پر کاربند رہے
قبول اسلام کے بعد انہیں پاکستان سے خصوصی لگائو اور محبت ہوگئی تھی جس کا اظہار وہ وقتا فوقتا کرتے رہتے تھے

اسلام آباد / ٹوکیو:جاپان کے پروفیشنل ریسلنگ اسٹار محمد حسنین انوکی المعروف انتونیو انوکی ایک غیر معمولی بیماری سے برسوں لڑنے کے بعد 79 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔انتونی انوکی نے 1992 ء میں اسلام قبول کر لیا تھا اورقبول اسلام کے بعد انہوںنے اپنا نام محمد حسنین انوکی رکھا اور ان کی خواہش ہوتی تھی کہ انہیں اسی نام سے لکھا اور پکارا جائے ۔
قبول اسلام کے بعد مرحوم کا مشن دنیا میں امن کے سفیر کے طور پر کام کرنا تھا اور وہ آخر تک اس پر کاربند رہے۔قبول اسلام کے بعد انہیں اسلام اور پاکستان سے خصوصی لگائو اور محبت ہوگئی تھی جس کا اظہار وہ وقتا فوقتا کرتے رہتے تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انوکی نے ریسلنگ سے سیاست میں قدم رکھا، وہ باکسنگ لیجنڈ محمد علی کے ساتھ ریسلنگ اور شمالی کوریا سے تعلقات کے حوالے سے بڑے پیمانے پر جانے جاتے تھے۔
سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر نیو جاپان پرو۔ریسلنگ نے ٹوئٹ کیا کہ ہمیں اپنے بانی انتونیو انوکی کے انتقال پر گہرا صدمہ ہے، انہوں نے یہ کمپنی 1972 میں قائم کی تھی۔ٹوئٹ میں کہا گیا کہ پروفیشنل ریسلنگ اور عالمی کمیونٹی کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
1960 کی دہائی میں انتونیو انوکی کا شمار پروفیشنل ریسلنگ کے بڑے ناموں میں ہوتا تھا، انہیں عالمی سطح پر 1976 میں اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے باکسنگ لیجنڈ محمد علی کے ساتھ ایک مکسڈ مارشل آرٹس کا مقابلہ کیا، جسے ‘صدی کا مقابلہ’ کہا گیا۔
6 فٹ اور تین انچ لمبے انتونیو انوکی نے سیاست میں قدم رکھا اور 1989 میں جاپان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی نشست جیتی۔بعدازاں، اگلے برس انہوں نے خلیجی جنگ کے دوران عراق جانے اور جاپانی یرغمالیوں کی جانب سے مداخلت کرنے کی وجہ سے سرخیوں میں جگہ بنائی، جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے 1990 میں اسلام قبول کیا، وہ پاکستان میں بھی انتہائی مقبول تھے، انہیں 1976 میں پاکستانی پہلوان اکرم عرف ‘اکی’ نے انہیں چیلنج کیا تھا، جب انتونیو انوکی مقابلے کے لیے پاکستان آئے تو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں تقریبا 50 ہزار تماشائیوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔
محمد حسنین (انتونیو انوکی) پاک۔جاپان سفارتی تعلقات کی 60 سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے جذبہ خیرسگالی کے تحت 2013 میں واپس پاکستان آئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان کی وفات پر انہیں یاد کیا ۔ایک ٹوئٹ میں انہوں نے محمد حسنین انوکی کے اہل خانہ اور جاپان کے عوام سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریسلنگ کی پاور سے پوری نسل پر سحر طاری کردیا تھا۔انہوں نے 10 سال قبل لاہور کے ایک اسٹیڈیم میں ریسلر سے ملاقات کو بھی یاد کیا۔
سوشل میڈیا پر ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا، پروفیشنل ریسلنگ سے سیاست دان بننے والے اتسوشی اونیٹا نے ٹوئٹ میں کہا کہ ایک دور کا خاتمہ ہو گیا’انہوں نے لکھا کہ پروفیشنل ریسلنگ کے سپریم والد محمد حسنین المعروف انتونیو انوکی، آپ کا شکریہ۔
ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ انکارپوریشن (ڈبلیو ڈبلیو ای، این) کے موجودہ چیف کنٹینٹ آفیسر ٹرپل ایچ نے کہا کہ ہمارے شعبے کی تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔
محمد حسنین المعروف انتونیو انوکی نے شمالی کوریا کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے تھے کیونکہ ان کے سرپرست ابتدائی پروفیشنل ریسلنگ سپر اسٹار ریکیڈوزان کا تعلق شمالی کوریا سے تھا لیکن جنگ کی وجہ سے تقسیم ہونے کے بعد وہ کبھی گھر نہیں جا سکے تھے۔
1995 میں پیانگ یانگ کے مئی ڈے اسٹیڈیم میں ایک لاکھ سے زیادہ شائقین کے سامنے دو روزہ کوریا میں ٹکرا ریسلنگ ایکسٹرواگنزا کا اہتمام کیا گیا۔ محمد حسنین المعروف انتونیو انوکینے مرکزی مقابلے میں رک فلیئر کو اپنے روایتی ‘انزوگری’ کے ذریعے شکست دی، یہ سر کے پیچھے حصے میں جمپنگ کک ہے۔
باکسنگ لیجنڈ محمد علی کے ساتھ مقابلہ مکسڈ مارشل آرٹس کی ابتدا تھی، جو اب اربوں ڈالر کی صنعت ہے جس پر امریکا میں قائم الٹی میٹ فائٹنگ چیمپئن شپ کا غلبہ ہے۔
ریسلنگ کے صحافی ڈیو میلٹزر کے مطابق محمد علی کو انتونیوانوکی کے ساتھ فکسڈ فائٹ میں 60 لاکھ ڈالر کی ادائیگی ہونا تھی لیکن ٹوکیو کے ایونٹ میں آنے پر باکسر کے ذہن میں مختلف خیال تھا، آخر میں یہ فائٹنگ حقیقی ہو گئی تھی، تاہم اس شرط کے ساتھ انتونیوانوکی لات مار سکتا تھا جب ان کا ایک گھٹنا میٹ پر ہو۔
ڈیو میلٹزر نے لکھا کہ 15 رانڈ پر محیط یہ مقابلہ ڈرا ہو گیا تھا، اور محمد علی کو صر ف 18 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے۔
اسپورٹس رائٹر رابرٹ کے یوٹیوب چینل پر محمد حسنین المعروف انتونیو انوکی کی آخری فائٹنگ اسپرٹ قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ گزشتہ چند برسوں سے وہ ہسپتال کے اندر اور باہر جاتے دکھائے دیے، وہ ایک غیر معمولی بیماری امائلائیڈوسس (Amyloidosis) میں مبتلا تھے، یہ بیماری انسانی جسم میں پروٹین کی ایک قسم امیلائڈ (amyloid) کے بڑھنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

