
پنجاب انٹی کرپشن کی ٹیم گرفتاری کے لئے اسلام آباد پہنچ گئی ، رانا ثنا اللہ تھانہ کوہسارکی حدود میں نہیں رہتے،اسلام آباد پولیس نے واپس بھجوادیا
اسلام آباد:اینٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے ناقابل ضمانت وارٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے ۔ہفتہ کو ان کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد ان کی گرفتاری کے لئے اینٹی کرپشن کی ٹیم اسلام آباد بھی پہنچ گئی تاہم اسلام آباد پولیس نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کیلئے آنے والی اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم کو یہ کہ کر واپس بھجوا دیا کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ تھانہ کوہسارکی حدود میں نہیں رہتے۔پولیس حکام نے بتایا کہ رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری پر ایڈریس فیصل آباد کا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے وارنٹس گرفتاری اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن نے رانا ثنا کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ رانا ثنا کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری اینٹی کرپشن انکوائری میں حاضر نہ ہونے پر جاری ہوئے ہیں۔وارنٹ مقدمہ نمبر 20/19 میں جاری ہوئے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کے لیے اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم پولیس کی مدد لینے تھانہ کوہسار پہنچ گئی تھی جس پر انہیں بتایا گیا کہ
رانا ثنا اللہ کا ایڈرس فیصل آباد کا ہے اور وہ تھانہ کوہسار کی حدود میں نہیں رہتے۔
دوسری طرف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ ، رانا ثنا اللہ لانگ مارچ میں رکاوٹ ہیں، یہ اسی لئے اس کو گرفتار کرانا چاہتے ہیں۔کیونکہ پہلے لانگ مارچ کا حشر انہوں نے دیکھ لیا ہے۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ رانا ثنا اللہ نے جرات اور بہادری کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کیا، ہمیں پنجاب حکومت کا کوئی خوف نہیں، گرفتار کرنا ہے کر لیں، عوام کو اس کا اصلی چہرہ دکھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر چیز سامنے لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں آہستہ آہستہ عمران خان کو منہ چھپانے کے لیے جگہ نہیں ملے گی، اس کے سارے کے سارے بیانیے زمین بوس ہوگئے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ترلے منتیں کر کے صدر کو آرمی چیف کے پاس بھیجا۔
انہوں نے کہا سب سمجھ رہے ہیں مارچ اپریل تک کیوں انہوں نے آفر کی ہے، دہشت گردی کے خلاف افواج نے جنگ لڑی ہے اس وقت بھی شہادتیں ہو رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آج بھی دفاع کی لڑائی فوج لڑ رہی ہے وہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، شہباز شریف نے پہلے بھی اسمبلی میں کہا تھا کہ کم از کم معیشت پر ایک بیانیہ بنالیں، ادارے کے نیوٹرل رہنے سے اس شخص کو کتنی تکلیف ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف بالکل واپس آئیں گے یہ ان کا وطن ہے، نواز شریف اس وقت واپس آئے تھے جب ان کو پتہ تھا کہ گرفتار ہونا ہے۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ کے پی کے میں احتساب بند کر دیا گیا ہے، 2012 میں کہا تھا کہ یہ ڈبل شاہ ہے، اعظم خان کہتے ہیں کہ سائفر ہم میٹنگ منٹس سے نیا بنا دیں گے، عمران خان اب کہتے ہیں کہ پتہ نہیں سائفر کہاں گیا، اب عمران خان کہہ رہا ہے کہ امریکا کا نام نہ لو، جعلسازوں کے طرح جلسوں میں خط لہراتا ہے۔



