ہاتھ سے لکھ کر صدر کو بھجوایا گیا استعفیٰ تاحال منظور نہیں کیا گیا،ذرائع ڈان نیوز

اسلام آباد:جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کے چند گھنٹوں بعد رات گئے سامنے آنے والی پیش رفت میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنی وزارت سے استعفی دے دیا۔ڈان کے پاس دستیاب استعفے کی نقل میں انہوں نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر قانون اپنے ملک کی خدمت کرنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔
صدر مملکت کے نام ہاتھ سے لکھے ہوئے استعفے میں انہوں نے مزید لکھا کہ تاہم ذاتی وجوہات کی بنا پر میں بطور وفاقی وزیر اپنی ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ چنانچہ آئین کی دفعہ 92 کی شق 3 کے تحت میں اپنے عہدے سے استعفی دیتا ہوں۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کچھ ٹی وی چینلز کی رپورٹس میں کہا گیا کہ اعظم نذیر تارڑ نے اتوار کو لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اسٹیبلشمنٹ مخالف نعروں کا حوالہ دیتے ہوئے استعفی دے دیا۔تاہم ابھی تک ان کا استعفی قبول نہیں کیا گیا۔وزیر قانون، عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے جہاں کچھ شرکا نے اپنی تقریر کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرے لگائے تھے۔
مستعفی ہونے سے قبل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکا کے ایک مختصر گروہ کی طرف سے ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی پر دکھ اور افسوس ہوا ہے،جذباتی نعرہ بازی کرنے والے حکومتی اقدامات اور اداروں کی کوششوں اور قربانیوں کو بھی بھول گئے،ہم سب ایک مضبوط پاکستان کے خواہاں ہیں۔
وزیر قانون کے حوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے ساتھ ساتھ کچھ جونیئر ججوں کے حق میں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے بھی شدید دبائو میں تھے، جنہیں سپریم کورٹ میں ترقی دی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔


