تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان قاتلانہ حملے میں زخمی،

سابق وزیراعظم کے لانگ مار چ پر وزیرآباد میں اللہ والے چوک کے قریب حملہ کیا گیا
گولی عمران خان کی ٹانگ پر لگی،شوکت خانم ہسپتال منتقل،گولی ٹانگ کے گوشت کو چھو کر گزر گئی ،ہڈی محفوظ رہی ڈاکٹر فیصل

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تیرہ زخمی ہوئے ہیں۔سابق وزیراعظم کے مارچ پر وزیرآبا میں اللہ والا چوک کے قریب چار بجے کے قریب فائرنگ کی گئی ۔حملے میں پی ٹی آئی کے رہنماء سینٹر فیصل جاوید سمیت چند دوسرے رہنماء بھی زخمی ہوئے ۔زخمی عمران کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔ڈاکڑ فیصل کے مطابق گولی ٹانگ کے گوشت کو چیرتی ہوئی نکل گئی ہے اور ہڈی محفوظ ہے۔
صدر ،و زیراعظم ، وزیرداخلہ اور دیگر رہنمائوں نے عمران خان پر حملے کی مذمت کی ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک کارکن ابتسام نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر قاتل کو قابو کئے رکھا جس کی وجہ سے اس کا نشانہ خطاہوا۔
عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان اور ان کے بیٹوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر عمران کی جان بچانے والے کارکن اور ہیرو ابتسام کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو واقعے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنانے کے لئے مراسلہ لکھ دیا ہے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکن گھروں سے نکل آئے اور مختلف جگہوں پر ٹائر جلا کر اس کے خلاف احتجاج کیا۔ فیصل آباد میں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کے ڈیرے کے باہر بھی پی ٹی آئی کارکنوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔
کینڈین وزیراعظم جسٹس ٹرو نے بھی عمران خان پر حملے کی مذمت کی ہے۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ پنجاب اور عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی بھی شوکت خانم ہسپتال پہنچ گئیں اور عمران خان کی خیریت دریافت کی ہے۔ چودھری پرویز الہٰی نے واقعہ پر جی آئی ٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما اسد عمر نے الزام عائد کیا کہ عمران خان پر حملے میں تین افراد ملوث ہیں، وزیراعظم شہباز شریف ، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور ایک سنئیر سیکورٹی افسر اس کے ذمہ دار ہیں۔اپنے ویڈیو بیان میں اسد عمر نے کہا کہ ان تینوں افراد کو عہدے سے ہٹایا جائے، نہیں ہٹایا گیا تو ملک گیر احتجاج ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اسپتال میں بہتر حالت میں ہیں اور عمران خان ملک گیر کال دیں گے۔ان کے ہمراہ موجود
میاں اسلم اقبال نے کہا کہ ہم تینوں افراد کے خلاف ایف آئی آر رجسٹرکروارہے ہیں، ہم خان صاحب کی اگلی کال کا انتظار کررہے ہیں۔
عمران خان پر حملے کرنے والے شخص کی شناخت نوید کے نام سے ہوئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا ٹارگٹ صرف عمران خان تھا اسے عمران پر غصہ تھا کہ وہ نماز اور اذان کے وقت سپیکر پر ڈیک لگا کر گانے بجاتے تھے۔جس پر مجھے غصہ تھا۔
وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی نے فائرنگ کرنے والے ملزم کا وڈیو بیان لیک کرنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او سمیت تھانے کے پورے عملے کو معطل کردیا۔
تاہم تحریک انصاف نے ان سارے واقعات کے باوجود اپنا احتجاج مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں پارٹی کے سنئیر رہنمائو ں کا اجلاس جلد ہوگا