وزن کم ہوتا ہے، بلڈ پریشر سے نجات ملتی ہے،دماغی افعال بہتر ہوتے اور مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے

اسلام آباد:عالم اسلام اس وقت رمضان المبارک سے کی رحمتوں سے مستفید ہورہا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ روزے کے نہ صرف روحانی بلکہ کئی ایک جسمانی فوائد بھی ہیں ۔آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ روزے سے آپ کی صحت پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماہ رمضان کے دوران دنیا بھر میں مسلمان روزے رکھتے ہیں جس کے دوران سحر سے افطار تک کھانے اور پانی سے دوری اختیار کی جاتی ہے۔مگر غذا اور پانی سے دوری سے بظاہر انسان کو کمزوری محسوس ہوتی ہے لیکن ا س کے جسم پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر گھٹ جاتا ہے
امریکن جرنل آف میڈیسن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ فاسٹنگ یا روزے سے سے ہائی بلڈ پریشر گھٹ جاتا ہے جبکہ امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
جسمانی وزن میں کمی
روزہ رکھنے سے میٹابولزم کی رفتار تیز ہوتی ہے جس سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔درحقیقت روزہ رکھنے سے پیٹ اور کمر کے اردگرد موجود چربی گھلتی ہے جبکہ مسلز کا حجم بڑھتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس سے ہارمون کے افعال بھی بہتر ہوتے ہیں جس سے بھی جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔
دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں
تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ غذا سے دوری سے دماغی ساخت اور اعصابی خلیات کی نشوونما میں بہتری آتی ہے۔متعدد تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ روزے سے دماغی صحت پر طاقتور اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دماغی تنزلی سے منسلک امراض کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔روزے سے ورم میں کمی آتی ہے جس سے ممکنہ طور پر الزائمر اور پارکنسن امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے
اس حوالے سے انسانوں پر تو کام نہیں ہوا مگر جانوروں پر ہونے والے تحقیقی کام کے مطابق کھانے سے دوری سے رسولی کی نشوونما رک جاتی ہے اور کیموتھراپی کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔
مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے
روزے رکھنے سے مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ غذا سے دوری سے خون کے سفید خلیات کے افعال بہتر ہوتے ہیں جبکہ ان کی نشوونما بھی بڑھ جاتی ہے۔
بلڈ شوگر کی سطح بہتر ہوتی ہے
روزہ رکھنے سے جسم کے اندر انسولین کی مزاحمت گھٹ جاتی ہے جس سے بلڈ شوگر کی سطح بہتر ہوتی ہے۔انسولین کی مزاحمت کے دوران جسم میں انسولین کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جبکہ اس کی افادیت گھٹ جاتی ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کنٹرول سے باہر ہونے لگتی ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق انسولین کی مزاحمت سے متاثر افراد جب روزے رکھتے ہیں تو اس ہارمون کے افعال بہتر ہوتے ہیں جس سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
تنا میں کمی آتی ہے،رمضان کے دوران بیشتر افراد کی غذائی عادات بہتر ہوتی ہیں جبکہ نیند کا معمول بھی صحت کے لیے مفید ہو جاتا ہے۔نیند اور اچھی غذا کو تنا ئوسے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔
جِلد شفاف ہوتی ہے،اس حوالے سے زیادہ تحقیقی کام تو نہیں ہوا مگر خیال کیا جاتا ہے کہ روزے رکھنے سے کیل مہاسوں سے نجات ملتی ہے جبکہ جِلد کی شفافیت بڑھتی ہے۔
نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔روزہ رکھنے سے نظام ہاضمہ پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔روزے کے دوران معدے میں حرارت بننے کے عمل اور تیزابیت کی سطح میں توازن پیدا ہوتا ہے جبکہ معدے کی صفائی کا عمل بھی تیز ہوتا ہے۔
تکسیدی تنا میں کمی،متعدد تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ خالی پیٹ رہنے سے جسم کی تکسیدی تنا ئوکے خلاف مزاحمت بڑھ جاتی ہے۔تکسیدی تنا سے متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کیسنر اور دیگر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔
روزہ رکھنے کے 10 جسمانی فوائد



