ہم بھول گئے ہر بات ۔۔۔۔۔۔

۶ نومبر ۱۹۴۷؁ ء شہدا جموں کی یاد میں منعقد تقریب میں مدعو کیا گیا تو مجھے اس بارے میں واجبی سا علم تھا- انٹرنیٹ سے پڑھنے پر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ آنکھوں سے آنسوں رواں تھے ۔ اتنا بڑا ظلم! ایسی سفاکی اور بےدردی سے انسانی جانوں کا قتلِ عام نازی کیمپوں کی یاد دلانے لگا۔ ۱۹۴۷؁ میں پاکستان کے بننے اور مسلمانوں کی پاکستان ہجرت کی ایسی دل خراش داستانیں سننے میں آتی ہیں کہ دل دھل جاتے ہیں۔ آج ہم اپنے آباؤاجدا دکی قربانیاں بھول کر پھر ایک ایسی رسہ کشی میں مبتلا ہیں جس نے پاکستان کی

سالمیت کو لاحق خطرہ اور کشمیر کی آزادی کی تحریک کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

ایک عرصہ سے ۶ نومبر یومِ شہدائے جموں کے طور پر منایا جاتا ہے مگر کم ہی لوگ اس کی اہمیت اور حقیقت سے واقف ہیں۔ ۱۲ اگست ۱۹۴۷؁ ء کو نئے وجود میں آنے والے پاکستان کو جموں و کشمیرکےمہاراجہ ہری سنگھ نے ایک درخواست کی "جیسے ہے ویسے” کی بنیاد پر، جس میں باقی معاملات بعد از آزادیٔ پاکستان طے کرنا تھے۔ آزادی کے فورا بعد ۱۵ اگست کو ہی پاکستان کی طرف سے اس درخواست کو منظور کر کے معاہدہ کر لیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیریوں کو پاکستان سے الحاق سے روکنے کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ چال چلی تھی۔ دراصل پاکستان کو معاہدے کی آڑ میں "غیرجانبدار” رکھ کر مسلم اکثریتی علاقوں میں نسل کشی کر کے ،مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنے کے لیے درکار وقت حاصل کیا گیا تھا۔ مہاراجہ نے RSS کو دعوت دی اور ظلم کی انتہا کر دی گئی۔ لاکھوں کو پاکستان نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، سینکڑوں گاؤں جلا دیے گئے۔ ڈھائی لاکھ افراد بےدردی سے قتل کر دیے گئے۔ بعض مقامات پر تو مہاراجہ کی زیرِ نگرانی کاروائی ہوئی۔ مسلمان اکثریتی علاقوں کو ایسے صاف کیا کہ وہ اقلیتی ہوگئے۔ ڈوگرا فوج نے RSS کے ساتھ مل کر بربریت کی انتہا کر دی۔ ۲۷ ہزار مسلمان عورتوں کی عصمت دری ہوئی۔ چونکہ ہجرت کرنے والے اکثر پیدل ہی چل پڑے تھے اور ٹرانسپورٹ سے محروم تھے اس لئے اعلان کروایا گیا کہ پاکستان جانے والوں کو ٹرانسپورٹ دی جائے گی اور پھر مہاجروں سے بھری بسیں راجوڑی ڈسٹرکٹ میں لے جا کر چن چن کر نہتے مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا۔ یہ قتلِ عام تو نہیں تھا! یہ تو نسل کشی تھی! ۶ نومبر انہی بےکس اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کی یاد میں منایا جاتا ہے تاکہ ہم اُن پر ڈھائے جانے والے مظالم کی یاد تازہ کر کے اپنے زخموں کو ہرا رکھیں اور بھرنے یا مندمل نہ ہونے دیں۔

آزادی کے بعد جواہر لال نہرو اور شیخ عبداللہ نے معاملے کو دبا دیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ جموں کے مظلوم باسیوں کے ساتھ کیا گیا وشواس گھات وادئِ کشمیر کے علم میں آئے۔ وہاں کا میڈیا بھی خاموش رہا اور یوں یہ بات کسی حد تک دب ہی گئی۔ پٹھانوں و قبائیلوں کے کشمیر آزاد کرانے کا بہت سنا تھا۔ یہی اندازہ ہوتا تھا کہ شاید انہوں نے مہاراجہ کے ارادے بھانپ کر یا پاکستان کی شہ پر پیش قدمی کی اور یوں ۲۴ اکتوبر کو کافی سارا حصّہ جہاد کے ذریعہ آزاد کروایا الحمدواللہ۔ در حقیقت پٹھانوں و قبائیلوں نے کشمیریوں کی بے دریغ نسل کشی اور مسلمان خواتین کی عصمت دری کے جواب میں یہ جہاد کیا تھا اور پھر تو جیسے کامیابی اُن کے قدم چومتی ہی گئی۔ ان کے جذبٔہ ایمانی اور جذبٔہ جہاد نے وہ کر دکھایا جو کہ ناممکن معلوم ہوتا تھا۔ آج جو علاقہ آزاد کشمیر کہلاتا ہے صرف نو روز کے قلیل عرصے میں واگذار کرایا گیا تھا۔ مہاراجہ فرار ہو کر جموں چلا گیا اور ہندوستان سے معاہدے کے نتیجہ میں ہندوستانی فوج کشمیر میں داخل کروا دی گئی۔ افسوس کہ بنیے کی سازشی ذہنیت ہماری سوچ سے بہت آگے تھی اور آج بھی بلکل ایسے ہی ہے۔ اقوام متحدہ کا سہارا لے کر ہندوستان نے ہمیں ٹھنڈا کر دیا۔ استصوابِ رائے کی چال میں الجھا کر بنیے اور اقوام متحدہ نے ہمیں گرا لیا۔ ہم نے ۷۲ سال کاوش کی، مذاکرات کے کئی دور کیے، بڑے پاپڑ بیلے، بعض حکمرانوں نے تو کاروباری مفادات دے کر بھی بنیے کو راضی کرنے کی کوششیں کیں مگر وہ تو ہم سے ہزار سال آگے کی تدبیریں کرتا ہے اور استصوابِ رائے کرانا تو کبھی مقصود ہی نہ تھا۔ بڑی ہی خاموشی سے انہوں نے اقوام عالم پر کئی سال تک کام کیا۔ معاشی معاہدے کئے اور ان معاہدوں میں انہیں الجھا کر دفعہ ۳۷۰ کو متروک کرنے جیسا مہلک وار کیا۔آج سب ہی خاموش ہیں! کہاں گئی وہ اقوام متحدہ کی قراردادیں؟ کیا ہوا ان کا؟ کہاں گیا وہ اقوام متحدہ کا رعب اور دبدبہ؟ جان بوجھ کر حقائق سے صرف نظر کیا جا رہا ہے۔ سرسری طور پر کبھی کبھارمسلئہ کشمیرکا تذکرہ کردیا جاتا ہے جبکہ مسلمانوں کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی کرنا ہو تو اقوام متحدہ کی پھرتیاں قابلِ دید ہوتی ہیں۔ اب تو جیسے سانپ ہی سو نگھ گیا ہو۔ کشمیر پر ۷۲ سالہ پرانی قراردادیں نظر ہی نہیں آتیں۔ دو ممالک کے درمیان اقوام متحدہ کے پاس جانے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا مگر تب سے اب تک اس قابل حل طلب معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے باسی اگر مسلمان ہوتے تو آج تک اُن کا معاملہ بھی اقوام متحدہ میں لٹک رہا ہوتا۔ اقوام متحدہ نا انصاف اور متعصب لوگوں کا آلہ کار بن چکا ہے۔ ہندوستان نے جموں کشمیر کو اپنے اندر ضم کر کے ان کی شناخت، شہریت، ریاست اور کشمیریت سبھی کچھ چھین لیا ہے۔ کیا ایسا کر کے وہ چین کی بانسری بجا سکے گا؟ اور راوی چین ہی چین لکھے گا؟ نہیں! ہرگز نہیں! دعوے تو سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ہیں اور سیکولر ہونے کے بھی مگر در حقیقت ہندوستان سب سے بُری جمہوریت ہے اور مذہبی عدم برداشت اس کا طرۂ امتیاز ۔

       آج جبکہ تمام کشمیری قیادت ایک صفحے پر ہے اور دو قومی نظریے سے بھر پور  طور پر متفق  ہیں جو کہ بہتر سال میں کبھی نہ ہوا تھا۔ اس سے پہلے کہ ہم ۶ نومبر ہی کی طرح خدا نا خواستہ مستقبل میں ۸۰ لاکھ شہیدوں کا دن منائیں ہمیں اس بات کا پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یاد رکھیں اس وقت ڈھائی لاکھ مسلمانوں کا درد کسی نے محسوس نہیں کیا تھا۔بعینی ایسے ہی آج اگر ۸۰ لاکھ شہید ہوگئے تو کسی کے کان پر جوں بھی نہ رینگے گی۔  کشمیری اگر اقوامِ عالم اور ہمارے طرف دیکھ رہے ہیں تو اُن کو سمجھنا چاہئے کہ مسلئہ کشمیر ایک عالمی سازش  کا نتیجہ ہے۔ جب بھی ہماری حکومت مسلئہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو کوئی نئی شورش سر اٹھا لیتی ہے۔ حکمرانوں کو اپنی حکومت بچانے کے لالے پڑ جاتے ہیں اوریوں مسلئہ کشمیر ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ یہی طریقہ واردات چلا آ رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ مصلحتیں، مفاہمتیں اور معاشی ضرورتیں آڑے آ جاتی ہیں۔ مختلف طریقہ ہائے سے رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت خود اعلانِ جہاد کرے۔ بالکل اس بات کی پروا نہیں کرنی چاہیے کہ نتائج کیا ہوں گے۔ صرف حکمِ ربیّ  پر ہمیں عمل کرنا چاہے۔ جب تک اللہ پر مکمل اور کامل ایمان کے ساتھ قدم آگے نہیں بڑھائیں گے تو ذلت اور رسوائی  ہمارا مقدر رہے گی۔یقین جانئے تمام دنیا اور ہندوستان کے طول و عرض سے مسلمان جوق در جوق جہاد میں شرکت کے لئے آ پہنچیں گے۔ کوئی مائی کا لال اُنہیں روک نہ سکے گا۔ سب چالیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ انشااللہ ۔

؎ ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کر دے
چمن کے ذرّے ذرّے کو شہیدِ جستجو کر دے
تحریر: عظمٰی گل دختر جنرل حمید گل
jksmovement@gmail.com