سمجھ نہیں آئی حکومت تبدیل کرنے والوں کو کس چیز کی تلاش تھی، عمران خان

سازش کا پتہ چلنے پر نیوٹرلز کے پاس پیغام بھیجا تھا کہ آپ نیوٹرل رہے تو معیشت کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گی
حکومت کی جانب سے ایمنسٹی صرف ان کو دی جانی چاہیے جو ملک کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کریں۔


لاہور:تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں ابھی بھی سمجھ نہیں آئی کہ حکومت تبدیل کرنے والے کو معاشی مشکلات کا ادراک نہیں تھا اور انہیں کس چیز کی تلاش تھی۔
معیشت کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر میں مہنگائی کا سپر سائیکل آیا ہوا تھا تو انہیں ادراک نہیں تھا کہ ہم پاکستان میں متوازن اقدامات کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب سازش کا پتا چلا تو شوکت ترین کو نیوٹرلز کے پاس بھیجا کہ اگر آپ واقعی اس سازش میں نیوٹرل رہیں گے تو یہ معیشت کسی سے کنٹرول نہیں ہوگی۔
عمران خان نے کہا ملک میں رئیل اسٹیٹ مافیا سب سے زیادہ طاقت ور ہے آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ اس مافیا کے پاس کتنے اختیارات ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے انہیں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں کرپشن کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں بتایا گیا کہ اس شعبے میں غیرقانونی پلاٹ فروخت کرکے کس پیسے باہر بھیجوائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا اس معاملے پر کئی مقدمات درج کیے گئے لیکن پولیس اور حکومت کے متعلقہ محکموں کو رشوت دے کر چپ کروایا جاتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری زمین پر تجاوزات ہیں اور ریاست اپنی رٹ اس وقت قائم کرسکتی ہے جب ایک مضبوط حکومت موجود ہو۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی نئی حکومت آئے گی اس کو ملک کی سمت درست کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔
سیمینار سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ طاقت ور لوگوں کو قانون کے نیچے لانا اتنا آسان نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور سرمایہ کاروں کو مراعات دی جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایمنسٹی صرف ان کو دی جانی چاہیے جو ملک کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کریں۔
دوسری طرف راولپنڈی پہنچنے سے قبل عمران خان کی پنجاب حکومت کے اعلی حکام سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے وزیر داخلہ پنجاب عمر سرفراز چیمہ، مشیر برائے احتساب مصدق عباسی سمیت دیگر سے کئی ملاقاتیں کی ہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین کی طرف سے پنجاب حکومت کے اعلی حکام سے ایسی ملاقاتیں مارچ کے راولپنڈی پہنچنے سے تین دن قبل ہوئی ہیں۔