32 ہزار 700 تارکین وطن یورپ پہنچ چکے ہیں چار ہزار کو سیدھا جرمنی لایا گیا
برلن:یورپی یونین 50ہزار تاکین وطن کو یورپ میں قانونی تحفظ فراہم کرے گی 10ہزار افراد کو جرمنی پناہ دے گا،اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ غیر یورپی تارکین وطن کو یورپ آنے کے لیے اسمگلروں کی مدد اور غیرقانونی سمندری سفر جیسے پرخطر طریقوں کے استعمال سے روکتے ہوئے ان کی جانیں بچائی جاسکیں اور انہیں قانونا سیدھا یورپ لایا جائے۔ جرمنی ان پچاس ہزار تارکین وطن میں سے دس ہزار کو اپنے ہاں پناہ دے گا، چار ہزار سے زائد جرمنی پہنچ بھی چکے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بارے میں یورپی یونین نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یورپ کی طرف پناہ کے لیے غیر قانونی ترک وطن کے رجحان کو روکنے کی خاطر ہزارہا غیر یورپی تارکین وطن کو محفوظ اور قانونی طریقے سے براہ راست یورپ آنے کا موقع فراہم کرے گی۔ اب یورپی یونین نے زیادہ تر بحران زدہ علاقوں اور بدامنی کے شکار ممالک کے ایسے 33 ہزار تارکین وطن اور مہاجرین سے متعلق اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس اکتوبر کے آخر تک بحیرہ روم کے ذریعے اٹلی، یونان اور اسپین پہنچنے والے ڈیڑھ لاکھ تارکین وطن میں سے بارہ فیصد (یعنی قریب سترہ ہزار) پناہ گزینوں کا تعلق افریقی ملک نائجیریا سے تھا۔یورپی یونین کے مہاجرین اور تارکین وطن سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر دیمیتریس آوراموپولوس نے جرمنی کے فنکے میڈیا گروپ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یورپی یونین نے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے ممالک سے فوری تحفظ کے حق دار جن ہزار ہا تارکین وطن کو قانونی طور پر یورپ لا کر انہیں مختلف ممالک میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا تھا، ان میں سے اب تک 32 ہزار 700 تارکین وطن یورپ پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان تقریبا 33 ہزار مہاجرین اور تارکین وطن میں سے 4100 کو سیدھا جرمنی لایا گیا، جو یورپی یونین کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے۔یورپی یونین کے اس کمشنر نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت یورپی یونین کی قیادت نے وعدہ کیا تھا کہ اس سال اکتوبر تک کل 50 ہزار کے قریب تارکین وطن کو ان کے بحران زدہ ممالک سے لاکر یورپ میں پناہ دی جائے گی۔


