جنرل حافظ عاصم منیر نئے چیف آف آرمی سٹاف ہوں گے

ساحر شمشاد مرزاء چئیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی ہوں گے
ملکی تاریخ میں پہلی با ر پاک فوج میں سنیارٹی کی بنیاد پر ترقیاں کی گئی ہیں
بطور لیفٹیننٹ کرنل مدینہ منورہ میں تعیناتی کے دوران عاصم منیر نے قرآن پاک حفظ کیا


اسلام آباد:پچھلے کئی ماہ پاکستان میں قوم کو جس بڑی خبر کا بڑی بے چینی سے انتظار تھا وہ سامنے آگئی ہے ۔ پاک فوج کے دو سنئیر ترین جنرلز جن میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف جبکہ سنیارٹی میں دوسرے نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزاء کو جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا چئیرمین لگا دیا گیا ہے۔
یہ تعیناتی وزیر دفاع کی جانب سے وزیراعظم کو بھیجے جانے والے ان چھ ناموں میں سے کی گئی ہے جن کی تعیناتی کی سفارش کی گئی تھی۔ جنرل ہیڈ کوارٹرز سے آنے والی سمری میں جنرل عاصم منیر کا نام سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر اور ساحر شمشاد کا نام دوسرے نمبر پر تھا۔
جمعرات کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں اہم عسکری تعیناتیوں کے معاملے پر مشاورت کی گی اور یہ اہم تعیناتیاں کی گئیں۔ اس حوالے سے اجلاس میں اہم قانونی پیچیدگیوں کا جائزہ بھی گا۔اس سے قبل گزشتہ روز وزیراعظم ہائوس میں اتحادی جماعتوں کی اہم بیٹھک میں ابتدائی مشاورت کی گئی تھی جس میں اتحادیوں نے اس حوالے سے فیصلے کا اختیار وزیراعظم شہباز شریف کو دے دیا تھا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں تمام اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں گے سب ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ آصف زرداری نے کہا کہ آپ وزیراعظم ہیں اور ائین نے یہ اختیار اور استحقاق آپ کو سونپا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی با ر پاک فوج میں سنیارٹی کی بنیاد پر ترقیاں کی گئی ہیں جس کو معاشرے کے تمام طبقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ صدر کو آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس کی سمری بھجواد ی گئی لہذا صدر اس کی توثیق کریں تاکہ کوئی تنازع کھڑا نہ ہو۔
وزیر دفاع نے کہا کہ صدر مملکت کی عمران خان سے مشاورت پر کمنٹ نہیں کرونگا، اس پر ٹویٹ کیا ہے، ائیرفورس،نیوی اور آرمی کو متنازع نہیں بنانا چاہیے، امید ہے صدر اس چیز کو متنازع نہیں بنائیں گے اور ایڈوائس کی منظوری دے دیں۔
جنرل عاصم منیر کے اعزازات
جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے جو ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی میں رہ چکے ہیں اور وہ پہلے آرمی چیف ہیں جو اعزازی شمشیر یافتہ ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر گزشتہ دور حکومت میں ڈی جی آئی ایس آئی رہ چکے ہیں اور وہ اس وقت جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر تعینات ہیں جب کہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کور کمانڈر راولپنڈی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
جنرل ہیڈ کوارٹرز سے آنے والی سمری میں جنرل عاصم منیر کا نام سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر اور ساحر شمشاد کا نام دوسرے نمبر پر تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے کیرئیر پر ایک نظر
لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر منگلا ٹریننگ اسکول سے پاس آٹ ہوئے اور انہوں نے فوج میں فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔انہوں نے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوج کی کمان سنبھالی، انہیں 2017 میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اکتوبر 2018 میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا تاہم وہ مختصر عرصے کیلئے اس عہدے پر فائض رہے۔
آئی ایس آئی کی سربراہی کے بعد لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کیا گیا اور دو سال بعد وہ جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہوئے اور ابھی بھی اسی عہدے پر کام کررہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے جو ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی میں رہ چکے ہیں، جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہیں جو اعزازی شمشیر یافتہ ہیں۔بطور لیفٹیننٹ کرنل مدینہ منورہ میں تعیناتی کے دوران عاصم منیر نے قرآن پاک حفظ کیا۔