موروثی سیاست کو عوام نے مسترد کر دیا،چوہدری محمد عدنان

قبضہ گروپوں اور منشیات فروشوں کو سپورٹ کرنے والے سیاسی لوگوں کو بھی عوام کے سامنے بے نقاب کیا
پچھلے 30سالوں کے ترقیاتی کاموں کے مقابلے میں میرے دور کے ترقیاتی کام دگنے ہیں ہمیشہ پٹوار کے فرسودہ نظام کے خلاف لڑا


راولپنڈی:رکن صوبائی اسمبلی چوہدری محمد عدنان نے کہا ہے کہ حلقہ پی پی 11 کے تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے عصاب شکن جنگ لڑی اور لڑرہا ہوں،عوام سے کیا ایک ایک وعدہ پور کر کے اگلے الیکشن سے قبل سرخرو ہونگا،صوبائی اسمبلی کی سیٹ اپنے پروٹوکول کیلئے نہیں عوام کی خدمت کیلئے عوام نے عطا کی تھی اور انشااللہ میں اپنے مشن پر پورا اتر رہا ہوں یہی وجہ ہے کہ حلقہ بھر کے عوام اور میرے مخالفین بھی میری کارکردگی کے معترف ہیں ۔ میرا یہ اپنے حلقہ کے عوام سے وعدہ کے کہ میرے دور میں جتنے ترقیاتی کام ہونگے ، اتنے اس سے پہلے کسی نے نہیں کئے ہوںگے،حلقہ سے قبضہ مافیا، منشیات فروشوں کے خاتمے اور عوام کو ان کا جائز حق دلوانے کیلئے پہلی صفوں پر جنگ لڑ رہا ہوں،عوام کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ نہیں مارنے دونگا، میں نے عوام سے ووٹ لئے عوام کا خادم اور ان کے حقوق کا محافظ ہوں، چوہدری نثار کی ہمیشہ عزت کرتا ہوں، عمران خان کے نظریہ پر چلتا ہوں ، ایمپلائز ہاسنگ اسکیم کی منظوری کرانے میں میری بہت لوگوں نے مخالفت کی مگر عمران خان نے کہا جو کام چوہدری عدنان کر سکتا ہے وہ کوئی اور نہیں کر سکتا ہے، حلقہ کی تمام یونین کونسلوں کے بلا تفریق برابر ترقیاتی کام ہونگے، میں عوامی بندہ ہوں، عوام براہ راست 24گھنٹے جب چاہیں مجھ سے ملتے ہیں اور اپنے مسائل حل کراتے ہیں، یہی میرا مشن اور خدمت کا محور ہے کہ عام آدمی کے مسائل فوری حل ہوں،میں چیلنج کرتا ہوں پچھلے 30سالوں کے ترقیاتی کام اور میرے دور کے ترقیاتی کام دیکھ ،میرے دور کے ترقیاتی کام زیادہ ہونگے۔ انہوں نے کہا میں سیاست پر عوام کے حق کو ترجیح دیتا ہوں، سب سے پہلے میرے حلقہ کے عوام ہیں جو میری طاقت ہیں، میرے پارٹی کے کارکن میرے بازو ہیں ۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آپ کے علاقہ میں پانی کے مسئلہ کے لئے سب سے زیادہ جنگ میں نے لڑی، اڑھائی ارب روپے کے فنڈز منظور کروائے ، میں ایم پی اے رہوں یا نہ رہوں وہ آپ کو ملتے رہیں گے،میں ہمیشہ پٹوار کے فرسودہ نظام کے خلاف لڑا، نہیں برداشت کرسکتا میرے حلقہ کا پٹواری پانچ مرلے کی فرد کیلئے پانچ لاکھ روپے مانگے کیا سیاسی لوگ اتنے گر گئے ہیں کہ ان کے دفتروں کے خرچے یہ پٹواری آپ کی جیبیں کاٹ کر چلائیں گے، 25مئی کو آپ لوگوں نے دیکھ لیا راولپنڈی کی سیاسی قیادت کہاں غائب تھی۔ عامر کیانی کے علاوہ تحریک انصاف کا کوئی بھی سیاسی قائد مری روڈ پر8گھنٹے سے زیادہ نہیں ٹھہر سکا۔ صرف میں اور واثق قیوم ریلی لے کر مری روڈ سے اسلام آباد تک پہنچے تھے،میڈیا اس کا گواہ ہے۔میں نے عمران خان سے کہہ دیا تھا کہ ان دو نمبر رہنماں کے کہنے پرلانگ مارچ کیلئے کوئی نہیں نکلے گا۔ میں سیاست کو جہاد سمجھ کر کرتا ہوں، میں نے اپنی حکومت میں بھی اپوزیشن کا کردار ادا کیا لیکن یہ خودداری میری طاقت ہے،جاری شدہ فنڈز آپ کی امانت ہیں، آپ لوگوں کی محبت اور شفقت کی وجہ سے آج میں اسمبلی میں ہوں،حلقہ کے لوگوں کی مشاورت سے فنڈز لگائیں۔ میں وہ انسان نہیں جو ہر دوسرے دن قینچی لیے افتتاح پر آ جاں اور بعد میں میرے ہی کارندے اس قینچی سے آپ کی جیبیں کاٹیں، کیا یہ ایم پی اے ایز اور ایم این ایز کا فرض نہیں ہے کہ اپنے حلقے کو منشیات فروشوں سے پاک کریں اور مافیا کا ساتھ نہ دیں، کیا یہ ان ایم ایز کا فرض نہیں ہے کہ قبضہ گروپوں کو منع کریں کہ وہ لوگوں کی زمینوں پر قبضہ نہ کریں، سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی ضمنی الیکشن ہار گئی کیونکہ لوگوں نے وراثتی اور خاندانی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ وہ کیوں ہاری کیونکہ لوگوں کی سوچ عمران خان سے بھی اوپر چلی گئی ہے، ہماری پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری نثار احمد سے لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن میں ان کا احترام کرتا ہوں کہ ایک رات میں انہوں نے چیئرمین سی ڈی اے 500کنال زمین پنجاب کے نام کروائی جہاں میں نے عمران خان سے درخواست کر کے ایمپلائز ہاسنگ اسکیم منظور کروائی ۔ میں ہمیشہ عمران خان کے نظرئیے پر چلا، بڑے بڑے لوگوں نے میری مخالفت کی لیکن چیئرمین تحریک انصاف نے میرے کام کی تائید کرتے ہوئے کہا جو کام چوہدری عدنان کر سکتا ہے وہ کوئی نہیں کر سکتا۔ کیا یہ ایم پی اے ایز اور ایم این ایز کا فرض نہیں ہے کہ اپنے حلقے کو منشیات فروشوں سے پاک کریں اور مافیا کا ساتھ نہ دیں۔اگر علاقہ کے جائز کام کیلئے ایم این اے کو چیئرمین سی ڈی اے کے سامنے ہاتھ جوڑ نے پڑے توپھر آپ پارلیمان کس نام کے ہیں، ایم این اے کی اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ اپنے حلقہ کے لئے وہ اداروں سے کام لے سکیں۔ پارلیمانی سیکرٹری پنجاب اور رکن صوبائی اسمبلی پی پی 11چوہدری محمد عدنان نے یونین کونسل گنگال75چھتری چوک راولپنڈی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018میں جب میں نے پی پی 11سے الیکشن لڑا تو آپ سے تین وعدے کیے۔ آپ کے بچوں کے مستقبل کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نکلے ہیں اور ہم ان کی ٹیم کے سپاہی بن کر ساتھ کھڑے ہیں، آپ کے بچوں کا مستقبل کیسے بہتر ہو سکتا تھا؟ کہ ہم کسی قبضہ گروپ اور منشیات فروش کی سرپرستی نہ کرتے۔ غریب اور متوسط طبقہ کو اس کا حق اور تحفظ دیتے تا کہ لوگوں کو اس بات کا ادراک ہوتا کہ ہم نے جس ایم پی اے کو ووٹ دیا ہے وہ ہمارے جان و مال اور عزت کا بھی محافظ ہے۔ اس حلقہ میں اس سے پہلے کیا ہوتا تھا مقامی اور جو باہر سے آ کر مقیم ہیں جو زیادہ تر ملازمت پیشہ طبقہ ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مقیم ہیں اور پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگ یہاں رہائش پذیر ہیں میں واضح فرق رکھا جاتا تھا جو ہم نے ختم کیا اور ان کا تحفظ بھی ہمیں اتنا ہی مقیم ہے جتنا یہاں کے مقامی لوگوں کا۔ میں محمد یعقوب راجہ ڈپٹی جنرل سیکرٹری پوٹھوہار ٹان اور پرویز مغل سابق ناظم یونین کونسل 75کی اس وجہ سے بھی بڑی قدر کرتا ہوں کہ مقامی آبادی کی عزت و تکریم اپنی جگہ لیکن جو لوگ باہر کے مقیم ہیں انہوں نے ان کا بھی زیادہ خیال رکھا اور یہی وجہ ہے کہ آج لوگوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا جس پر میں آپ سب کا شکرگزار اور ممنون ہوں۔ دوسرا میرا آپ سے وعدہ تھا کہ آپ کے حلقہ میں جتنے ترقیاتی کام میرے دور میں ہوں گے اس سے پہلے کسی نے نہیں کروائے ہوں گے۔ آپ پچھلے 30سال کا ریکارڈ اٹھا لیں اور میرے ترقیاتی کام دیکھ لیں آپ کو واضح فرق نظر آئے گا۔اس یونین کونسل کو ہم نے تین ٹیوب ویل دئیے، دو کے فنڈز جاری ہوئے۔ ڈھوک للیال میں حاجی محبوب کی گلی میں ہم نے دو ٹیوب ویل کی منظوری کروائی۔ چوہدری محمد عدنان نے کہا کہ اس علاقہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں سے پانی کی پائپ لائنیںدوسرے علاقوں کو جا رہی ہیں لیکن یہاں کے مقیم بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں کیا سابقہ سیاسی قیادت اتنی نااہل تھی کہ آپ پانی جیسی بنیادی نعمت سے بھی محروم رہے،اس سے زیادہ ان کی نااہلی اور کیا ہوسکتی ہے۔ آپ کے علاقہ میں پانی کے مسئلہ کے لئے سب سے زیادہ جنگ میں نے لڑی۔2019میں جب ڈینگی کی وباپھیلی ہوئی تھی میں نے کہا کہ اس وقت تک آپ ڈینگی کنٹرول نہیں کر سکتے جب تک آپ ان آبادیوں میں پانی کا مسئلہ حل نہیں کر لیتے کیونکہ رہائشی پانی کے ٹینکر ڈلواتے ہیں، گھروں میں زیرزمین ٹینکس بنے ہوئے ہیں اور کچھ لوگوں نے چھوٹی چھوٹی ٹینکیاں رکھی ہوئی ہیں، یونین کونسل 77اور 78کے بھی یہی مسائل ہیں۔ میں نے ہمیشہ وہی وعدہ کیا جو پورا کر سکتا ہوں، میں نے کبھی غازی بروتھا جیسے وعدے نہیں کیے۔ میں نے عام انتخابات کے موقع پر بھی مناسب نہیں سمجھا کہ ووٹوں کیلئے آپ سے وعدے کروںاور بعد میں مجھے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ ہم عمران خان کے ساتھ اس لئے آئے کہ وہ لوگوں کو تقسیم اور لڑانے کی بات نہیں کرتے، وہ لوگوں کو وڈیروں اور جاگیرداروں کے چنگل سے نکالنا چاہتے ہیں۔ بار بار آزمائی ہوئی پارٹیوں کو دوبارہ نہ آزمائیں۔ ہم اسمبلی میں اس لئے نہیں آئے کہ قبضہ گروپوں کا ساتھ دے کر ان کے ساتھ حصے رکھ کر آپ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالیں۔ چوہدری محمد عدنان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی جانتے ہوئے قبضہ مافیا اور منشیات فروشوں کو ووٹ نہیں دے گا، جو اندرون خانہ قبضہ گروپس سے تعلق رکھتے ہوں اور آپ کے سامنے آ کر معتبر بن جائیں اس مافیا کے خلاف میری سیاست ہے۔ میں نے جب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی تو ان سے کہا کہ میں مسلم لیگ (ن) کا بھی گند ختم کرنے جا رہا ہوں جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، راولپنڈی کے جتنے بڑے سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے آپ کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے یہ سارے وینٹی لیٹر پر ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی سیاست ختم ہونے جا رہی ہے یہ وراثتی سیاست کے بھوکے لوگ تھے۔ انہوں نے نااہل لوگوں کو ہم پر مسلط کر دیا۔ میں نے عمران خان سے کہا کہ آپ نے اگر راولپنڈی سے وراثتی سیاست ختم نہ کی تواس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ 25مئی کو آپ لوگوں نے دیکھ لیا کہ راولپنڈی کی سیاسی قیادت کہاں غائب تھی۔ عامر کیانی کے علاوہ تحریک انصاف کا کوئی بھی سیاسی قائد مری روڈ پر8گھنٹے سے زیادہ نہیں ٹھہر سکا۔ صرف میں اور واثق قیوم ریلی لے کر مری روڈ سے اسلام آباد تک پہنچے تھے،میڈیا اس بات کا گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ پارٹیوں سے ہٹ کر سوچیں، میرے لئے ہر پارٹی کے لوگ اہم ہیں، نڈر اور اپنے علاقے کے حقوق کی جنگ لڑنے والے چاہے ان کا تعلق مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی یا تحریک لبیک سے ہو ہر آدمی نے مجھے ووٹ دیا ہے، میرا ساتھ دیا ہے۔ جاری شدہ فنڈز آپ کی امانت ہیں، آپ لوگوں کی محبت اور شفقت کی وجہ سے آج میں اسمبلی میں ہوں،حلقہ کے لوگوں کی مشاورت سے فنڈز لگائیں۔ میں وہ انسان نہیں جو ہر دوسرے دن قینچی لیے افتتاح پر آ جاں اور بعد میں میرے ہی کارندے اس قینچی سے آپ کی جیبیں کاٹیں۔ میں ہمیشہ پٹوار کے فرسودہ نظام کے خلاف لڑا، نہیں برداشت کرسکتا کہ میرے حلقہ کا پٹواری پانچ مرلے کی فرد کیلئے پانچ لاکھ روپے مانگے۔ کیا آپ نے ہمیں اس لئے ووٹ دئیے؟ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا ان سے پوچھیں میں نے جب بھی اپنی اعلی قیادت سے پٹوارکی رشوت ستانی کے خلاف بات کی راولپنڈی کے معتبر سیاسی رہنماں نے ان کی سفارش کی کہ ان پٹواریوں کی وجہ سے ہی ہمارے دفتروں کے خرچے چل رہے ہیں۔کیا سیاسی لوگ اتنے گر گئے ہیں کہ ان کے دفتروں کے خرچے یہ پٹواری آپ کی جیبیں کاٹ کر چلائیں گے۔ راولپنڈی سے لوگ لانگ مارچ کے دوران کیوں نہیں نکلے حالانکہ میں نے عمران خان سے کہا تھا جس دن آپ یہاں آئیں گے دنیا نکلے گی لیکن ان دو نمبر رہنماں کے کہنے پر کوئی نہیں نکلے گا۔ میں سیاست کو جہاد سمجھ کر کرتا ہوں، میں نے اپنی حکومت میں بھی اپوزیشن کا کردار ادا کیا لیکن یہ خودداری یہ میری طاقت ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ دو نمبر لوگ سیاست کریں جو کل کو آپ کی جیبیں کاٹیں تو آپ کی مرضی۔ میں ہمیشہ عمران خان کے نظرئیے پر چلا، بڑے بڑے لوگوں نے میری مخالفت کی لیکن چیئرمین تحریک انصاف نے میرے کام کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جو کام چوہدری عدنان کر سکتا ہے وہ کوئی نہیں کر سکتا۔ کیا یہ ایم پی اے ایز اور ایم این ایز کا فرض نہیں ہے کہ اپنے حلقے کو منشیات فروشوں سے پاک کریں اور مافیا کا ساتھ نہ دیں، کیا یہ ان ایم ایز کا فرض نہیں ہے کہ قبضہ گروپوں کو منع کریں کہ وہ لوگوں کی زمینوں پر قبضہ نہ کریں۔ جن لوگوں نے ساری عمر کی جمع پونجی لگا کر ایک گھر یا پلاٹ بنایا ان کو بلاوجہ تنگ نہ کریں۔اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا فرض ہے کہ اپنے حلقے کہ اپنے حلقہ کے ہر فرد چاہے اس نے ووٹ دیا یا نہیں دیا کے ساتھ کھڑا رہے، ان کے ساتھ کوئی کسی قسم کی زیادتی برداشت نہ کرے۔ میرے حلقہ کا علاقہ چیچی جھنڈا جہاں کیا کچھ نہیں ہوتا تھا آج وہی علاقہ امن کا گہوارہ بن گیا ہے۔ اگر آپ کے ایم پی ایز اور ایم این ایز ٹھیک ہوں تو یہ غلط قسم کے دو فیصد لوگ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ چوہدری عدنان نے کہا کہ میری آپ سے گزاری ہے کہ پارٹیوں ، برادریوںاور دھڑوں کی تقسیم سے نکلیں اور ایسے لوگوں کا ساتھ دیں جو واقعی آپ کے بچوں کے بہتر مستقبل کے ضامن ہوں۔ اسمبلی میں جا کر اپنے اثاثے زیادہ کرنے کی بجائے آپ کے مسائل کا سوچیں۔ آپ لوگ یہ فیصلہ کر لیں کہ چاہے عمران خان کی ٹیم میں دو نمبر بند ہوں ساتھ نہیں دینا۔ سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی ضمنی الیکشن ہار گئی کیونکہ لوگوں نے وراثتی اور خاندانی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ وہ کیوں ہاری کیونکہ لوگوں کی سوچ عمران خان سے بھی اوپر چلی گئی ہے، عوام سوال کرتے ہیں کہ خان نے خود کہا تھا کہ میں موروثی سیاست نہیں کروں گا تو پھر ایسا کیوں ہوا کہ عمران خان نے ان کو منع بھی کیا کہ خاندان کی سیاست مت کرو لیکن پارٹی کے بہت سارے لوگ اپنے فیصلے مسلط کرنے پر بضد تھے جس کے نتائج ہار کی شکل میں آپ کے سامنے ہیں۔ آپ عوام کی طاقت سے اس قسم کے موروثی فیصلے ختم ہو جائیں گے اور ہم اصل سیاست اور حقیقی آزادی کی طرف جائیں گے۔ مجھے آپ جیسے معزز، شریف اور سلجھے ہوئے لوگوں کی ضرورت ہے، نہیں چاہیے ہمیں قبضہ گروپ اور منشیات فرشوں کا ووٹ، نہیں جائیں گے ہم ان کی طرف ووٹ کے لئے۔ میں اپنی سیاست چھوڑ دوں گا لیکن کسی غلط بندے سے ووٹ مانگنے نہیں جاں گا۔ ہمارے کام بولتے ہیں، میں نے پی پی 11کے لئے اڑھائی کروڑ روپے منظور کروائے کیونکہ میں نے حکومت اور اداروں سے اچھے تعلقات رکھے ہیں۔ آپ کو سوئی گیس چاہیے لیکن یہ وفاق کا مسئلہ ہے، میری ان سے نہیں بنتی کیونکہ وہ لوگوں سے جھوٹ بولتے ہیں۔ آپ کے علاقہ میں پانی کے مسئلہ کیلئے ہمیں وفاق کی طرف جانا پڑا تو میرے حلقہ کے ایم این اے یہ کہہ کر ٹال دیں کہ میں نے چیئرمین سی ڈی اے کے سامنے ہاتھ جوڑے لیکن کام نہیں ہوا،اگر ایک جائز کام کے لئے آپ کو ایسا کرنا پڑا تو پھر آپ پارلیمان یا ایم این اے کس چیز کے ہیں۔ ہماری پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری نثار احمد سے لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن میں ان کا احترام کرتا ہوں کہ ایک ایک رات میں انہوں نے چیئرمین سی ڈی اے 500کنال زمین پنجاب کے نام کروائی جہاں میں نے عمران خان سے درخواست کر کے ایمپلائز ہاسنگ اسکیم منظور کروائی تھی، خود عمران خان بھی حیران تھی کہ یہ آپ نے کیسے کروا لیا؟ ایم این اے کی اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ اپنے حلقہ کے لئے وہ اداروں سے کام لے سکیں۔ میں یہاں پرویز مغل اور پنڈال میں موجود لوگوں سے وعدہ کرتاہوں کہ آپ کے علاقہ کو پانی کی ترسیل کے لئے ٹیوب ویل غوری ٹان میں لگیں گے اور ان لائنوں سے آپ کو پانی دیا جائے گا کیونکہ یہ آپ کا حق ہے، یہ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ یہ کام جلد پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ سابق ناظم یونین کونسل 75گنگال پرویز مغل نے کہا کہ میں آپ سب لوگوں کا جلسہ میں بھرپور شرکت کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، آپ کی وجہ سے ہی ہماری عزت ہے، یہاں علاقہ کے سب معزز لوگ تشریف فرما ہیں،حلقے کا کوئی بھی فرد ہم پر انگلی نہیں اٹھا سکتا کہ پرویز مغل یا اس کے خاندان نے کبھی کسی کیلئے غلط زبان استعمال کی ہویا کسی کا حق مارا ہو البتہ میں یہ ضرور کہوں گا کہ اگر میرے حلقہ کے کسی بھی ورکرز کو مخالفین کی طرف سے ڈرایا یا دھمکایا گیا تو یہ ہم نے قطعی طور نہ پہلے برداشت کیا نہ اب کریں گے۔ ہمارے ایک ایک ووٹر کا ہمارے لیے بہت مقام ہے۔ میں رکن صوبائی اسمبلی چوہدری محمد عدنان سے گزارش کروں گا کہ ہماری یونین کونسل میں گیس کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کروائیں، میں حلفا آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ پورا یوسی گنگال آپ کے ساتھ ہو گا۔ میں اور یعقوب راجہ نے دن رات کام کر کے یونین کونسل کی ایک ایک گلی اور نالی کا نہ صرف سروے بلکہ اسے پختہ کروایا۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت لوگوں کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کرے۔ میں چوہدری عدنان اور راجہ یعقوب سے روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہوں۔ یونین کونسل کی جو گلیاں اور نالیاں رہ گئی ہیں وہ جلد پختہ کروائیں گے۔ یونین کونسل میں سوئی گیس اور نالے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ آفیسر اور ڈیفنس کالونی میں نے بہت کام کروائے، میں سیاست کو عبادت سمجھ کر کر رہا ہوں اور جب سے سیاست میں آیا ہوں مخالفین بھی میرے کام کی گواہی دیتے ہیں۔ اب تو ہماری ٹیم بہت مضبوط ہے کیونکہ ایم پی اے ہمارے ساتھ ہیں اور پنجاب میں حکومت بھی پی ٹی آئی کی ہے۔ پنڈال میں موجود آپ لوگ بھی گواہ رہنا کہ چوہدری عدنان ہی ہمارے حلقے کا مسیحا ہے۔ یہ قول کے سچے آدمی ہیں، میں اپنے حلقے کا جب بھی کوئی مسئلہ لے کر ان کے پاس گیا انہوں نے فوری کام کروانے کی حامی بھری۔ اس موقع پر محمد یعقوب راجہ ڈپٹی جنرل سیکرٹری پوٹھوہار ٹان نے کہا کہ میں سب سے پہلے یونین کونسل گنگال کے غیور رہائیشیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دن دن کے مختصر وقت میں بھرپور شرکت کر کے ہمارا حوصلہ بڑھایا۔ ہمارے یونین کے بڑے مسائل میں گیس اور پانی سرفہرست ہیں بدقسمتی سے ہمارے حلقے میں زیرزمین پنی ہونے کے باوجودہم اس نعمت سے محروم ہیں اور ہمارے حصے کا پانی باقی علاقوں کو بیچا جا رہا ہے اب ہم ان کا بھرپور احتساب کریں گے۔ ہماری یونین کو چھ وارڈوں میں آپ کے مخالف امیدوار کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ چوہدری عدنان نے پی پی 11کو قبضہ مافیا کے چنگل سے چھڑایا۔ ہم ان کے شکرگزار ہیں کہ ہم نے ان کو جب بھی بلایا وہ اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر کے حلقہ کے عوام میں پائے گئے اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے۔ محمد یعقوب راجہ نے رکن صوبائی اسمبلی سے گزارش کی کہ ہمارے حلقہ میں گیس اور پانی کے مسائل جلد حل کروائے جائیں۔ پانی کے لئے نئے ٹیوب ویل اور ساتھ واٹر فلٹر پلانٹس لگوائے جائیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر فیاض نے چوہدری عدنان، یعقوب راجہ اور پرویز مل کا ڈیفنس کالونی کی گلیاں پختہ اور دیگر ترقیاتی کام کروانے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت وڈیروں اور سرمایہ داروں کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے جلد نیا پاکستان دیکھنے کو ملے گا۔ملک عمران افسر نے پی ٹی آئی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سنگھر ٹان کی بہت مختصر وقت میں گلیاں پختہ کیں حالانکہ ہمارے ٹان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ، ماضی کے سیاستدانوں نے ہمیشہ ہمارے ساتھ وعدہ خلافی کی۔ محمد یعقوب راجہ اور پرویز مغل نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر علاقے کی خدمت کی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ سنگھر ٹان کی مین گلی سمیت جو رہ گئیں ان کو جلد کنکریٹ اور یہاں پانی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔آخر میں رکن صوبائی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری پنجاب چوہدری محمد عدنان نے راجہ محمد یعقوب سیکرٹری جنرل پوٹھوہار ٹان، پرویز مغل سابق ناظم یونین کونسل75، سردار علی، راجہ ناصر زمان، ملک عمران افسر، گلفام، خالق، عرفان بھٹی، قاسم، خالد عباسی، وسیم بھٹی، ملک طفیل، چوہدری شہزاد، راجہ ارسلان، احسن عباسی اور پنڈال میں موجود ہزاروں لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔