باپ اور ایم کیو ایم کے بعد حکومتیں بنانے اور گرانے والی مسلم لیگ ق میں بھی دراڑیںمزید گہری
پرویز الہٰی بیٹے کی خواہش پر تحریک انصاف میں جانے کے خواہشمند الیکٹورل کالج کے عہدیداران نے اختیار دیدیا
عہدے آپ کے پاس پارٹی کی امانت ہیں، اگر آپ مستعفی نہ ہوئے تو ڈی سیٹ کرایا جائے گا، اپنی پوزیشن فوری واضح کریں،شجاعت نے بھی شوکاز جاری کر دیا

اسلام آباد(محمد رضوان ملک ) اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھتے ہی ایم کیو ایم اور باپ کی طرح مسلم لیگ ق بھی اپنے انجام کی جانب گامزن ہے۔ مسلم لیگ ق کے رہنماء وزیراعلیٰ پرویزا لہٰی اور ان کے صاحبزادے مونس الہٰی مسلم لیگ ق کو تحریک انصاف میں ضم کرنے کے خواہشمند ہیں گو تاحال اس حوالے سے اعلان تونہیں ہوا لیکن ان کے پاس موجود ان کی بچی کچھی پارٹی کے الیکٹورل کالج کے عہدیداران نے ان کو اس کی اجازت دے دی ہے۔
دوسری طرف پارٹی کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے انہیں اور پارٹی کے ان کے ساتھ موجود پارٹی کے دیگر رہنمائوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے بعد نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے نام دیتے ہوئے اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے انہیں پی ٹی آئی میں ضم ہونے کے لئے کہا ہے اور وہ اس بارے سوچ رہے ہیں ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ مونس الہٰی کا بھی یہی خیال ہے کہ ہمارا مستقبل تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے حتمیٰ فیصلہ پارٹی سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
دوسری طرف پی ٹی آئی میں ضم کے معاملہ پر الیکٹورل کالج کے عہدیداران نے اختیار پرویز الہی کو دیدیا ہے۔
اجلاس میں ارکان نے ضلعی سطح پربھی پارٹی عہدیداران سے مشاورت کی تجویز دی اور اس معاملے پر تمام فیصلوں کا اختیار پرویز الہی کودیدیا فوٹو
اجلاس میں ارکان نے ضلعی سطح پربھی پارٹی عہدیداروں سیمشاورت کی تجویز دے دی اور اس معاملے پر تمام فیصلوں کا اختیار پرویز الہی کودیدیا۔
لاہور میں پرویز الہی کی زیر صدارت مسلم لیگ ق کا مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں مسلم لیگ ق کے الیکٹورل کالج کے تمام عہدے دار شریک ہوئے۔اجلاس میں تحریک انصاف میں ضم ہونے کے حوالے سے مشاورت کی گئی، شرکا نے پی ٹی آئی کے ساتھ ضم ہونے کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔اجلاس کے شرکا نے پرویز الہی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور تمام فیصلوں کا اختیار پرویز الہی کو تفویض کردیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع کی سطح پرپارٹی عہدیداران سے بھی مشاورت کی جائے گی، تمام ضلعی عہدیداران کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے، مسلم لیگ ہائوس میں بھی عہدیداران کا اجلاس بلایا جائے گا، پرویز الہی خود بھی عہدیداران سے خطاب کریں گے، خواتین ونگ پنجاب کی صدر خدیجہ فاروقی خواتین عہدیداران سے مشاورتی عمل کاآغازکریں گی۔
اجلاس میں شریک عہدے داران نے کہا کہ پرویز الہی ہمارے لیڈر ہیں، ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، پوری سیاسی اور عوامی قوت کے ساتھ پرویزالہی کے شانہ بشانہ ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران کہا تھا میں نے پرویز الہی کو تجویز دی ہے کہ ق لیگ کو پی ٹی آئی میں ضم کر دیں
اس معاملے پر پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے پرویز الہی کی پارٹی رکنیت معطل کردی ہے اور شوکاز بھی جاری کیا ہے۔
شوکاز میں چوہدری شجاعت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پارٹی کا صوبائی صدر پارٹی کو دوسری جماعت میں ضم نہیں کرسکتا،پرویز الہی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کی وضاحت دیں، مسلم لیگ ق بطورسیاسی جماعت اپنا ووٹ بینک، ڈسپلن، منشور اور ضابطہ رکھتی ہے، پرویز الہی کے گزشتہ روز کے بیانات پارٹی ضابطے کی خلاف ورزی ہیں۔
مسلم لیگ ق کا ہنگامی اجلاس چودھری شجاعت حسین کی صدارت میں منعقد ہوا، مسلم لیگ ق کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ، سالک حسین نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں چودھری پرویز الہی کی جانب سے گزشتہ رات دئیے گئے بیانات کا نوٹس لیا گیا، بیان کا جائز ہ لینے کے بعد ان کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مسلم لیگ ق کے اجلاس میں پرویز الہی کی رکنیت معطل کرکے 7 دن میں جواب طلب کر لیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ صوبائی صدر پارٹی کو تحریک انصاف میں ضم نہیں کر سکتا، پارٹی نے چودھری پرویز الہی کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔مسلم لیگ ق کے سیکرٹری جنرل نے مونس الہی، حسین الہی سمیت سینیٹر کامل علی آغا کو بھی شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ کسی دوسری جماعت میں جا رہے ہیں تو مستعفی ہو کر جائیں، عہدے آپ کے پاس پارٹی کی امانت ہیں، اگر آپ مستعفی نہ ہوئے تو ڈی سیٹ کرایا جائے گا، اپنی پوزیشن فوری واضح کریں۔


